ہفتہ, جنوری 15 Live
Shadow
سرخیاں
قازقستان ہنگامے: مشترکہ تحفظ تنظیم کے سربراہ کا صورتحال پر قابو کا اعلان، امن منصوبے کی تفصیلات پیش کر دیںبرطانوی پارلیمنٹ میں منشیات کا استعمال: اسپیکر کا سونگھنے والے کتے بھرتی کرنے کا عندیاامریکی سی آئی اے اہلکاروں کے ایک بار پھر کم عمر بچوں بچیوں کے ساتھ جنسی جرائم میں ملوث ہونے کا انکشافامریکہ کا مشرقی افریقہ میں تاریخ کے سب سے بڑے فوجی آپریشن کا اعلان: 1 ہزار سے زائد مزید کمانڈو تیارروسی صدر کی ثالثی: آزربائیجان اور آرمینیا کے مابین سرحدی جھڑپیں ختم، سرحدی حدود کے تعین پر اتفاق، جنگ سے متاثر آبادی اور دیگر انسانی حقوق کے تحفظ کی بھی یقین دہانینائیجیر: فرانسیسی فوج کی فائرنگ سے 2 شہری شہید، 16 زخمیامریکی فوج میں ہر 4 میں سے 1 عورت اور 5 میں سے 1 مرد جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے، بیشتر خود کشی کر لیتے، کورٹ مارشل کے خوف سے کوئی آواز نہیں اٹھاتا: سابقہ اہلکارروس کا غیر ملکی سماجی میڈیا کمپنیوں پر ملک میں کاروباری اندراج کے لیے دباؤ جاری: رواں سال کے آخر تک عمل نہ ہونے پر پابندی لگانے کا عندیاامریکہ ہائپر سونک ٹیکنالوجی میں چین اور روس سے بہت پیچھے ہے: امریکی جنرل تھامپسنامریکی تفریحی میڈیا صنعت کس عقیدے، نظریے اور مقصد کے تحت کام کرتی ہے؟

لندن: کورونا تالہ بندی کے خلاف ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے، ویکسین پاسپورٹ کے خلاف بھی نعرے

برطانیہ میں ایک بار پھر شہریوں نے بڑھتی تالہ بندی کے خلاف مظاہرہ کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت تالہ بندی کو ختم کرے اور کاروباروں کو کھولنے کی اجازت دی جائے۔

واضح رہے کہ برطانیہ میں آہستہ آہستہ مختلف کاروباروں کو کھولا جا رہا ہے، اور حکومت نے اب ریسٹورنٹ اور شراب خانوں کو بھی کھولنے کی اجازت دے دی ہے۔

مظاہروں میں لوگ آزادی کے حق میں اور کورونا ویکسین کے سرٹیفکیٹ سے متعلق بھی تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں، اور اس خیال کو مسترد کر رہے ہیں۔

برطانیہ میں تالہ بندی اب ایک اہم سیاسی ہتھیار بھی بن گیا ہے، لندن کے آئندہ ناظم اعلیٰ کے انتخابات کے لیے امیدوار لارنس فاکس نے اعلان کیا ہے کہ اگر وہ منتخب وہ گئے تو ہر طرح کی پابندیوں کو ختم کر دیں گے۔ انہوں نے مقامی میڈیا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اب تک تالہ بندی کے خلاف ہونے والا یہ سب سے بڑا مظاہرہ تھا لیکن میڈیا نے اسے بالکل نہیں دکھایا۔

واضح رہے کہ لندن میں مظاہروں پر بھی پابندی رائج ہے لیکن عوام میں بڑھتی بیزاری اور مخالف سیاسی قائدین کی موجودگی کے باعث پولیس کم ہی کارروائی عمل میں لاتی ہے۔ جسکی بظاہر وجہ معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے بچانے کی حکومتی کوشش ہے۔

برطانیہ میں لاگو حالیہ تالہ بندی جون کے آخر تک برقرار رہے گی جبکہ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس میں حالات کے مطابق مزید اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے۔

برطانیہ میں اب تک 3 کروڑ 80 لاکھ سے زائد افراد کورونا ویکسین لگوا چکے ہیں۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us