Shadow
سرخیاں
مغربی طرز کی ترقی اور لبرل نظریے نے دنیا کو افراتفری، جنگوں اور بےامنی کے سوا کچھ نہیں دیا، رواں سال دنیا سے اس نظریے کا خاتمہ ہو جائے گا: ہنگری وزیراعظمامریکی جامعات میں صیہونی مظالم کے خلاف مظاہروں میں تیزی، سینکڑوں طلبہ، طالبات و پروفیسران جیل میں بندپولینڈ: یوکرینی گندم کی درآمد پر کسانوں کا احتجاج، سرحد بند کر دیخود کشی کے لیے آن لائن سہولت، بین الاقوامی نیٹ ورک ملوث، صرف برطانیہ میں 130 افراد کی موت، چشم کشا انکشافاتپوپ فرانسس کی یک صنف سماج کے نظریہ پر سخت تنقید، دور جدید کا بدترین نظریہ قرار دے دیاصدر ایردوعان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں رنگ برنگے بینروں پر اعتراض، ہم جنس پرستی سے مشابہہ قرار دے دیا، معاملہ سیکرٹری جنرل کے سامنے اٹھانے کا عندیامغرب روس کو شکست دینے کے خبط میں مبتلا ہے، یہ ان کے خود کے لیے بھی خطرناک ہے: جنرل اسمبلی اجلاس میں سرگئی لاوروو کا خطاباروناچل پردیش: 3 کھلاڑی چین اور ہندوستان کے مابین متنازعہ علاقے کی سیاست کا نشانہ بن گئے، ایشیائی کھیلوں کے مقابلے میں شامل نہ ہو سکےایشیا میں امن و استحکام کے لیے چین کا ایک اور بڑا قدم: شام کے ساتھ تذویراتی تعلقات کا اعلانامریکی تاریخ کی سب سے بڑی خفیہ و حساس دستاویزات کی چوری: انوکھے طریقے پر ادارے سر پکڑ کر بیٹھ گئے

لندن: کورونا تالہ بندی کے خلاف ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے، ویکسین پاسپورٹ کے خلاف بھی نعرے

برطانیہ میں ایک بار پھر شہریوں نے بڑھتی تالہ بندی کے خلاف مظاہرہ کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت تالہ بندی کو ختم کرے اور کاروباروں کو کھولنے کی اجازت دی جائے۔

واضح رہے کہ برطانیہ میں آہستہ آہستہ مختلف کاروباروں کو کھولا جا رہا ہے، اور حکومت نے اب ریسٹورنٹ اور شراب خانوں کو بھی کھولنے کی اجازت دے دی ہے۔

مظاہروں میں لوگ آزادی کے حق میں اور کورونا ویکسین کے سرٹیفکیٹ سے متعلق بھی تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں، اور اس خیال کو مسترد کر رہے ہیں۔

برطانیہ میں تالہ بندی اب ایک اہم سیاسی ہتھیار بھی بن گیا ہے، لندن کے آئندہ ناظم اعلیٰ کے انتخابات کے لیے امیدوار لارنس فاکس نے اعلان کیا ہے کہ اگر وہ منتخب وہ گئے تو ہر طرح کی پابندیوں کو ختم کر دیں گے۔ انہوں نے مقامی میڈیا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اب تک تالہ بندی کے خلاف ہونے والا یہ سب سے بڑا مظاہرہ تھا لیکن میڈیا نے اسے بالکل نہیں دکھایا۔

واضح رہے کہ لندن میں مظاہروں پر بھی پابندی رائج ہے لیکن عوام میں بڑھتی بیزاری اور مخالف سیاسی قائدین کی موجودگی کے باعث پولیس کم ہی کارروائی عمل میں لاتی ہے۔ جسکی بظاہر وجہ معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے بچانے کی حکومتی کوشش ہے۔

برطانیہ میں لاگو حالیہ تالہ بندی جون کے آخر تک برقرار رہے گی جبکہ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس میں حالات کے مطابق مزید اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے۔

برطانیہ میں اب تک 3 کروڑ 80 لاکھ سے زائد افراد کورونا ویکسین لگوا چکے ہیں۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

2 × four =

Contact Us