Shadow
سرخیاں
مغربی طرز کی ترقی اور لبرل نظریے نے دنیا کو افراتفری، جنگوں اور بےامنی کے سوا کچھ نہیں دیا، رواں سال دنیا سے اس نظریے کا خاتمہ ہو جائے گا: ہنگری وزیراعظمامریکی جامعات میں صیہونی مظالم کے خلاف مظاہروں میں تیزی، سینکڑوں طلبہ، طالبات و پروفیسران جیل میں بندپولینڈ: یوکرینی گندم کی درآمد پر کسانوں کا احتجاج، سرحد بند کر دیخود کشی کے لیے آن لائن سہولت، بین الاقوامی نیٹ ورک ملوث، صرف برطانیہ میں 130 افراد کی موت، چشم کشا انکشافاتپوپ فرانسس کی یک صنف سماج کے نظریہ پر سخت تنقید، دور جدید کا بدترین نظریہ قرار دے دیاصدر ایردوعان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں رنگ برنگے بینروں پر اعتراض، ہم جنس پرستی سے مشابہہ قرار دے دیا، معاملہ سیکرٹری جنرل کے سامنے اٹھانے کا عندیامغرب روس کو شکست دینے کے خبط میں مبتلا ہے، یہ ان کے خود کے لیے بھی خطرناک ہے: جنرل اسمبلی اجلاس میں سرگئی لاوروو کا خطاباروناچل پردیش: 3 کھلاڑی چین اور ہندوستان کے مابین متنازعہ علاقے کی سیاست کا نشانہ بن گئے، ایشیائی کھیلوں کے مقابلے میں شامل نہ ہو سکےایشیا میں امن و استحکام کے لیے چین کا ایک اور بڑا قدم: شام کے ساتھ تذویراتی تعلقات کا اعلانامریکی تاریخ کی سب سے بڑی خفیہ و حساس دستاویزات کی چوری: انوکھے طریقے پر ادارے سر پکڑ کر بیٹھ گئے

Tag: تحقیق، نفسیاتی مسائل، برطانیہ،خاندانی نظام، نوجوان، وزارت تنہائی، اکیلا پن،

نوجوان مرد تنہائی کا زیادہ شکار – دنیا کے 237 ممالک میں تحقیق کا انکشاف

نوجوان مرد تنہائی کا زیادہ شکار – دنیا کے 237 ممالک میں تحقیق کا انکشاف

تحقیق
نام نہاد آزادی کے زیر اثر ٹوٹتے خاندانی نظام کے اثرات دنیا بھر میں شدت اختیار کر گئے - بزرگوں اور روائیتی معاشروں کے بعد محققین نے بھی خطرے کی گھنٹی بجا دی۔ بیسویں صدی میں صنعتی ضروریات کے تحت مادرپدر آزاد معاشرے کی تعلیمات کو خوب پروان چڑھایا گیا جس کے تحت مردوزن کے تعلقات اور بالآخر خاندانی نظام شدید متاثر ہوا۔ ان اثرات پہ پہلے بزرگ تنبیہہ کرتے نظر آئے پر انہیں معاشرے کا ناکارہ حصہ قرار دیتے ہوئے جابر اور صنعتوں کے زیر اثر ریاستوں نے خاندانوں سے الگ کر دیا۔ پر اب جوانوں پر کی جانے والی نئی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ نام نہاد آزادی کے بیانیے نےخاندانی نظام ہی کو نہیں صنعت کو مہیا سستے مزدوروں یعنی جوانوں کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ برطانیہ میں 2018 میں دنیا کا پہلا وزیر برائے تنہائی مقرر کیا گیا۔ دنیا بھر کے 237 ممالک میں 46 ہزار سے زیادہ افراد پر کیے گئے ایک سروے سے معلوم ہوا ہے ک...

Contact Us