نام نہاد آزادی کے زیر اثر ٹوٹتے خاندانی نظام کے اثرات دنیا بھر میں شدت اختیار کر گئے – بزرگوں اور روائیتی معاشروں کے بعد محققین نے بھی خطرے کی گھنٹی بجا دی۔
بیسویں صدی میں صنعتی ضروریات کے تحت مادرپدر آزاد معاشرے کی تعلیمات کو خوب پروان چڑھایا گیا جس کے تحت مردوزن کے تعلقات اور بالآخر خاندانی نظام شدید متاثر ہوا۔ ان اثرات پہ پہلے بزرگ تنبیہہ کرتے نظر آئے پر انہیں معاشرے کا ناکارہ حصہ قرار دیتے ہوئے جابر اور صنعتوں کے زیر اثر ریاستوں نے خاندانوں سے الگ کر دیا۔ پر اب جوانوں پر کی جانے والی نئی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ نام نہاد آزادی کے بیانیے نےخاندانی نظام ہی کو نہیں صنعت کو مہیا سستے مزدوروں یعنی جوانوں کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔
برطانیہ میں 2018 میں دنیا کا پہلا وزیر برائے تنہائی مقرر کیا گیا۔
دنیا بھر کے 237 ممالک میں 46 ہزار سے زیادہ افراد پر کیے گئے ایک سروے سے معلوم ہوا ہے کہ تنہائی کا احساس نوجوان نسل کا سب سے بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ جوان نسل ان کی سوچ کی نسبت کہیں زیادہ اور شدید طور پر اکیلے پن کا شکار ہے۔
چند سال قبل برطانیہ میں جوانوں میں تنہائی کے نفسیاتی مسئلے کو جانچنے کے لیے ملک میں میں باقائدہ تحقیق کا آغاز کیا گیا۔ تحقیق کے مطابق 13 سے پندرہ فیصد برطانوی تنہائی کا شکار تھے۔ خوفناک نتائج کے نتیجے میں حکومت نے باقائدہ وزیر برائے مسئلہ تنہائی مقرر کیا۔ وزیر نے حکومت کو مختلف تجاویز دیں جن میں سے ایک تجویز دیگر معاشروں سے سیکھنا بھی شامل تھا۔
یونیورسٹی آف ایکسیٹر کے شعبہ نفسیات کے اساتذہ کی قیادت میں پہلے عالمی جائزے کا فیصلہ کیا گیا، جس کے تحت مرتب کردہ نتائج میں انکشاف ہوا ہے کہ جوانوں میں تنہائی کا مسئلہ دیگر مغربی ممالک میں بھی برطانیہ کی طرح شدید نوعیت اختیار کرچکا ہے۔ ماہرین نے 16 سال سے 99 سال کے درمیان کی عمروں کے افراد سے پوچھے گئے سوالوں سے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ نوجوان نسل ہماری سابقہ معلومات کے مقابلے میں کہیں زیادہ احساسِ تنہائی کا شکار ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جن ممالک میں نئی نسل جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی اپنے والدین اور گھر بار سے الگ ہو کر آزاد زندگی گزارنے لگتی ہے، ان ملکوں کے نوجوانوں میں احساسِ تنہائی زیادہ دیکھا گیا ہے۔ جبکہ جن معاشروں میں مل جُل کر رہنے کا رجحان زیادہ ہے، اور خاندانی نظام کسی حد تک برقرار ہے، وہاں کے نہ صرف بزرگوں میں تنہائی کا احساس مغربی ممالک کی نسبت کم ہے بلکہ جوان بھی اس نفسیاتی مسئلے سے بچے ہوئے ہیں۔
تحقیق میں کہا گیا ہے کہ نوجوان لڑکیوں کی نسبت نوجوان لڑکوں میں تنہائی کا احساس زیادہ ہے، البتہ وہ آسانی سے اس کا اقرار نہیں کرتے۔ تحقیق میں عوامی آگاہی کے لیے تجویز کیا گیا ہے کہ نوجوانوں میں بڑھتے ہوئے احساسِ تنہائی کی ایک بڑی وجہ ’’سماجی میڈیا‘‘ ہے، اشتہارات اور ذرائع ابلاغ کے دیگر ذرائع پہ اس تشہیر کو روکنے کی ضرورت ہے کہ سماجی میڈیا سماجی تعلقات کا متبادل ہے، بلکہ اسے ایک اضافی شے کی سطح تک بیان کیے جانے کی ضرورت ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی جسم اور دماغ پر احساسِ تنہائی کے مختلف پر گہرے اثرات پڑتے ہیں، جو سماج دشمن اور جرائم پیشہ رویّوں سے لے کر منشیات کے استعمال، دل کی بیماریوں، فالج، دماغی امراض، یادداشت اور سیکھنے کی صلاحیت میں کمی، مستقل اور شدید اعصابی تناؤ، قوتِ فیصلہ میں کمی، ڈپریشن اور خودکشی تک وسیع ہوسکتے ہیں۔