Shadow
سرخیاں
بحرانی صورتحال: مغربی رہنما اپنے عوام سے مزید قربانیاں طلب کر رہے ہیں۔ایران جنگ ‘امریکی سلطنت کا خاتمہ’ ہے – ٹکر کارلسنبرطانوی شاہی بحریہ میں نشے اور جنسی زیادتیوں کے واقعات کا انکشاف، ترجمان کا تبصرے سے انکار، تحقیقات کی یقین دہانیتیونسی شہری رضا بن صالح الیزیدی کسی مقدمے کے بغیر 24 برس بعد گوانتانوموبے جیل سے آزادمغربی طرز کی ترقی اور لبرل نظریے نے دنیا کو افراتفری، جنگوں اور بےامنی کے سوا کچھ نہیں دیا، رواں سال دنیا سے اس نظریے کا خاتمہ ہو جائے گا: ہنگری وزیراعظمامریکی جامعات میں صیہونی مظالم کے خلاف مظاہروں میں تیزی، سینکڑوں طلبہ، طالبات و پروفیسران جیل میں بندپولینڈ: یوکرینی گندم کی درآمد پر کسانوں کا احتجاج، سرحد بند کر دیخود کشی کے لیے آن لائن سہولت، بین الاقوامی نیٹ ورک ملوث، صرف برطانیہ میں 130 افراد کی موت، چشم کشا انکشافاتپوپ فرانسس کی یک صنف سماج کے نظریہ پر سخت تنقید، دور جدید کا بدترین نظریہ قرار دے دیاصدر ایردوعان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں رنگ برنگے بینروں پر اعتراض، ہم جنس پرستی سے مشابہہ قرار دے دیا، معاملہ سیکرٹری جنرل کے سامنے اٹھانے کا عندیا

Tag: خلاء میں برتری، چین اور امریکہ مد مقابل، خلائی فوج، این آر او ایل 44، 11 منزل کے برابر مصنوعی سیارہ، صدر ٹرمپ، خلاء میدان جنگ،

خلاء میں عسکری برتری کے لیے امریکہ  اور چین میں دوڑ تیز، امریکہ نے 5 ٹن وزنی، 110 میٹر بڑا سیارہ خلاء میں بھیج دیا

خلاء میں عسکری برتری کے لیے امریکہ اور چین میں دوڑ تیز، امریکہ نے 5 ٹن وزنی، 110 میٹر بڑا سیارہ خلاء میں بھیج دیا

عالمی, فن/ٹیکنالوجی
زمین پر بڑی طاقتوں نے اپنے عسکری غلبے کے لیے اب خلا کو بھی میدان جنگ بنا دیا ہے۔ مختلف ممالک نے آج تک جتنے بھی مصنوعی سیارے خلا میں بھیجے ہیں، ان میں سے ہر پانچواں مصنوعی سیارہ عسکری مقاصد کے تحت بھیجا گیا سیارہ ہے، جن کا پہلا کام زمین پر جاسوسی کرنا ہے۔ خلاء میں بھیجے گئے عسکری مصنوعی سیاروں میں اس سال مزید دو کا اضافہ ہوا ہے، اور یہ مصنوعی سیارے امریکہ کی طرف سے زمین کے مدار میں چھوڑے گئے ہیں۔ امریکہ میں ایک ملکی ادارے کا نام نیشنل ریکنائسنس آفس یا این آر او ہے، جو خلا میں جاسوسی کے لیے مصنوعی سیارے بھیجنے کا ذمہ دار ہے۔ واشنگٹن کے رواں برس بھیجے گئے مصنوعی سیاروں میں سے ایک انتہائی جدید اور خفیہ سیارہ ہے، جس کو این آر او ایل 44 کا نام دیا گیا ہے۔ یہ سیارہ وسیع تر جاسوسی منصوبے اورائن کا حصہ ہے۔ جسے 1995ء میں شروع کیا گیا تھا، تاہم دیکھا جائے تو اورائن بھی 1960 اور 1970 کے کورو...

Contact Us