Shadow
سرخیاں
بحرانی صورتحال: مغربی رہنما اپنے عوام سے مزید قربانیاں طلب کر رہے ہیں۔ایران جنگ ‘امریکی سلطنت کا خاتمہ’ ہے – ٹکر کارلسنبرطانوی شاہی بحریہ میں نشے اور جنسی زیادتیوں کے واقعات کا انکشاف، ترجمان کا تبصرے سے انکار، تحقیقات کی یقین دہانیتیونسی شہری رضا بن صالح الیزیدی کسی مقدمے کے بغیر 24 برس بعد گوانتانوموبے جیل سے آزادمغربی طرز کی ترقی اور لبرل نظریے نے دنیا کو افراتفری، جنگوں اور بےامنی کے سوا کچھ نہیں دیا، رواں سال دنیا سے اس نظریے کا خاتمہ ہو جائے گا: ہنگری وزیراعظمامریکی جامعات میں صیہونی مظالم کے خلاف مظاہروں میں تیزی، سینکڑوں طلبہ، طالبات و پروفیسران جیل میں بندپولینڈ: یوکرینی گندم کی درآمد پر کسانوں کا احتجاج، سرحد بند کر دیخود کشی کے لیے آن لائن سہولت، بین الاقوامی نیٹ ورک ملوث، صرف برطانیہ میں 130 افراد کی موت، چشم کشا انکشافاتپوپ فرانسس کی یک صنف سماج کے نظریہ پر سخت تنقید، دور جدید کا بدترین نظریہ قرار دے دیاصدر ایردوعان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں رنگ برنگے بینروں پر اعتراض، ہم جنس پرستی سے مشابہہ قرار دے دیا، معاملہ سیکرٹری جنرل کے سامنے اٹھانے کا عندیا

Tag: عالمی آ بادی، جدیدیت، خواتین، شرح پیدائش، انسانی تہذیب کو خطرہ،

خواتین کا جدیدیت سے متاثر رہن سہن بچوں کی  پیدائش میں بڑی رکاوٹ قرار: انسانی آبادی کو خطرات لاحق

خواتین کا جدیدیت سے متاثر رہن سہن بچوں کی پیدائش میں بڑی رکاوٹ قرار: انسانی آبادی کو خطرات لاحق

خاندان و معاشرہ, نظامت
محققین کے مطابق سن 2064 کے بعد دنیا کی آبادی کم ہونا شروع ہو جائے گی تاہم عالمی شرحِ تولید میں ہونے والی اس ’حیرت انگیز‘ کمی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے دنیا پوری طرح سے تیار نہیں ہے۔ تحقیق کے مطابق اگر موجودہ سیاسی نظام ہی جاری رہا تو اس صدی کے اختتام تک ہر ملک کی آبادی میں کمی واقع ہو گی اور 23 ممالک کی آبادی، جن میں سپین اور جاپان بھی شامل ہیں، سنہ 2100 تک آدھی رہ جائے گی۔ جسکا بلاواسطہ مطلب یہ بھی ہے کہ عمر رسیدہ افراد کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ ہوجائے گا اور بہت سے شہری 80 برس یا اس سے زیادہ عمر کے ہوں گے۔ ماہرین کے مطابق اس کا سبب کچھ اور نہیں بلکہ عورتوں کی شرح تولید میں کمی یعنی بچوں کو نہ پیدا کرنے کے رحجان کا پروان چڑھنا ہے۔ اگر ایک عورت کے بچے جننے کی شرح 2.1 سے کم ہو جائے تو آبادی میں کمی واقع ہونے لگتی ہے۔ سنہ 1950 میں ایک عورت زندگی میں اوسطاً 4.7 بچوں کو جنم دیتی تھ...

Contact Us