ہفتہ, اکتوبر 24 Live
Shadow

Author: مدیر

برنی سینڈر کی جو بائیڈن کو تنبیہ: بائیں بازو کی حمایت حاصل کرو یا انتخابات ہارنے کیلئے تیار رہو

برنی سینڈر کی جو بائیڈن کو تنبیہ: بائیں بازو کی حمایت حاصل کرو یا انتخابات ہارنے کیلئے تیار رہو

نقطہ نظر
امریکی صدارتی انتخابات جوں جوں نزدیک آرہے ہیں، امیدواروں میں سیاسی بیان بازی کے حملوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسے میں صدر ٹرمپ اپنے مد مقابل صدارتی امیدوار جوبائیڈن کو شدت پسند بائیں بازو کی کٹھ پتلی کہہ کر چڑاتے نظر آرہے ہیں پر لگتا ہے کہ امریکی بائیں بازو کا حلقہ ان سے مطمئن نہیں ہے۔حال ہی میں ڈیموکریٹ رہنما برنی سینڈر نے جماعت کے صدارتی امیدوار جو بائیڈن کے لیے شکایت اور مشورے سے لپا ہوا بیان جاری کیا ہے، سینڈر کا کہنا ہے کہ بائیڈن کو انتخابات کے لیے بائیں بازو کی حمایت جیتنے کی کوشش کرنی چاہیے، پر انکے اصرر کے باوجود بائیڈن کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ واضح رہے کہ برنی سینڈر لبرل نظریے کی حامل ڈیموکریٹ پارٹی کے شراکتی نظریات کے لیے معروف رہنما ہیں، اور انہوں نے صدارتی امیدوار کی حیثیت سے اپنی نامزدگی جوبائیڈن کے حق میں واپس لی تھی۔صدر ٹرمپ اپنے انتخابی جلسوں میں اکثر کہتے نظ...
فیس بک کی ایک بار پھر پاکستانی صارفین کے خلاف متعصبانہ کارروائی، سینکڑوں کھاتے و صفحات حذف کر دیے

فیس بک کی ایک بار پھر پاکستانی صارفین کے خلاف متعصبانہ کارروائی، سینکڑوں کھاتے و صفحات حذف کر دیے

اداریہ, پاکستان
گزشتہ روز فیس بک نے ایک آن لائن بلاگ کے ذریعے خبر دی ہے کہ اس نے پاکستان سے چلائے جانے والے سینکڑوں ایسے فیس بک اور انسٹا گرام کھاتوں/اکاؤنٹ کو حذف کیا ہے جو اس کے خیال میں 'منظم و غیر مصدقہ' رویے کے مرتکب ہورہے تھے۔بلاگ کے مطابق حذف کیے جانے والے کھاتوں میں 453 فیس بک کے کھاتے، 103 فیس بک صفحات، 78 فیس بک گروہ اور 107 انسٹا گرام کے کھاتے شامل ہیں۔ فیس بک کے مطابق حذف کیے جانے والے کھاتے/صفحات/گروہ پاکستان کے اندر سے کام کر رہے تھے، تاہم ان میں سے بعض فیس بک گروہ یہ تاثر دے رہے تھے کہ وہ ہندوستان سے چل رہے ہیں۔بقول فیس بک حذف کیے جانے والے اکثر کھاتے ایسے بھی تھے جو ہندوستان سے چلائے جانے والے اسلام اور پاکستان مخالف کھاتوں اور صفحات سے متعلق فیس بک کو آگاہ کرتے تھے۔ یعنی وہ نفرت آمیز مواد شائع کرنے والے کھاتوں کی نشاندہی میں فیس بک کی مدد کر رہے تھے، تاہم فیس بک نے انہی...
لیبیا: فریقین کا جنگ بندی کا اعلان، عرب ممالک کا خیر مقدم، بیرونی مداخلت ختم کرنے پر زور

لیبیا: فریقین کا جنگ بندی کا اعلان، عرب ممالک کا خیر مقدم، بیرونی مداخلت ختم کرنے پر زور

اداریہ, عالمی
خانہ جنگی سے شدید متاثر شمال افریقی ملک لیبیا کی صدارتی کونسل نے جنگ بندی کا اعلان کر دیا ہے۔کئی سالوں سے بیرونی مداخلتوں اور اندرونی انتشار کے باعث لیبیا خانہ جنگی کا شکار تھا جس میں امریکہ، فرانس اور روس کے علاوہ خطے کے متعدد ممالک کی جانب سے بھی مفادات کے تحفظ کے لیے مداخلت کا سلسلہ جاری تھا۔کچھ عرصہ سے دو بڑے گروہ سامنے آئے تھے جن میں سے ایک کو کسی حد تک عالمی برادری کا اعتماد حاصل تھا تاہم خطے کے دیگر ممالک خصوصاً عرب ممالک کی اور مقامی آبادی کی حمایت نہ ہونے کے باعث گروہ مظبوط حکومت بنانے میں ناکام رہا۔ دوسرے گروہ کو بظاہر عالمی برادری کا اعتماد تو حاصل نہ تھا تاہم خطے کے متعدد ممالک اور مقامی آبادی خصوصاً قبائل کے اعتماد کے باعث دونوں گروہوں میں مکمل طاقت کے لیے تگ و دو نے ملک کو خانہ جنگی میں دھکیل رکھا تھا۔پہلے گروہ یعنی لیبیا کی صدارتی کونسل کے صدر فیض السراج عالم...
مسلم دنیا دو سے تین گروہوں میں بٹ گئی: پاکستان کے لیے نئے اتحاد میں مشکلات

مسلم دنیا دو سے تین گروہوں میں بٹ گئی: پاکستان کے لیے نئے اتحاد میں مشکلات

اداریہ
چند روز قبل اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے مابین ایک اہم معاہدہ طے پایا ہے، جس کے مطابق اسرائیل مغربی کنارے کے بڑے حصوں کا الحاق روک دے گا اور متحدہ عرب امارات اسرائیل کو بطور ریاست قبول کرتے ہوئے صہیونی ریاست سے سفارتی تعلقات کا آغاز کر دے گا۔گزشتہ 72 سال سے اسرائیل کے خلیج کے کسی بھی عرب ممالک سے سفارتی تعلقات نہیں تھے، اور محض چند مسلم ممالک جن میں ترکی، اردن اور مصر شامل ہیں، نے اسرائیل کو بطور ریاست قبول کیا ہوا تھا۔متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین ہونے والے معاہدے سے فلسطینی رہنما نہ صرف ناراض ہیں بلکہ حیران بھی ہیں۔ صدر محمود عباس نے عرب لیگ کا فوری اجلاس بلانے کی تجویز پیش کرتے ہوئے خدشات کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے بعد دیگر خلیجی ممالک بھی اسرائیل کے ساتھ روابط بنا سکتے ہیں، جس سے ’عرب امن معاہدے‘ پربھی اثرپڑے گا۔دوسری طرف متحدہ عرب ام...
مسلم کش پالیسیاں: ہندوستانی سفیر کی بنگلہ دیشی وزیراعظم سے ملنے کی درخواستیں مسترد، مشترکہ منصوبے بھی روک دیے

مسلم کش پالیسیاں: ہندوستانی سفیر کی بنگلہ دیشی وزیراعظم سے ملنے کی درخواستیں مسترد، مشترکہ منصوبے بھی روک دیے

باہمی تعلقات
جنوبی ایشیا میں مودی کے ہندوستان کا تنہائی کی طرف سفر تیزی سے جاری ہے۔ خطے کے دیگر ممالک کے بعد بنگلہ دیش کی سرد مہری پر مودی سرکار سخت پریشان ہے اور تازہ اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم حسینہ واجد سے ہندوستانی سفیر کی ملاقات کے لیے دی جانے والی درجنوں درخواستیں مسترد کی جا چکی ہیں۔معروف بنگلہ دیشی اخبار بوریر کاغوج میں چھپنے والی تحریر کے مطابق 2019 میں دوبارہ منتخب ہونے کے بعد حسینہ واجد نے بنگلہ دیش میں ہندوستان کے متعدد منصوبوں کو روک رکھا ہے جبکہ پاکستان اور چین کے ساتھ تجارتی اور سرمایہ کاری کے منصوبوں پر تیزی سے کام ہو رہا ہے۔ اخبار کے مطابق صورتحال پر ہندوستان کی پریشانی دیدنی ہے، جسے سنبھالنے کے لیے ڈھاکہ میں ہندوستانی سفیر نے پچھلے چار ماہ میں حسینہ واجد سے ملنے کے لیے درجنوں درخواستیں دی ہیں تاہم انہیں وزیراعظم کے دفتر سے منظوری نہیں ملی۔بنگالی اخبار لکھتا ہے کہ مودی ...
پاکستانی فوجی افسران کو حاصل مراعات اور اسکی تاریخ

پاکستانی فوجی افسران کو حاصل مراعات اور اسکی تاریخ

پاکستان, علمی تحریریں
آج کل پاکستانی سماجی ذرائع ابلاغ خصوصاً ٹویٹر پر ریاستی عسکری ادارے خصوصاً اعلیٰ افسران کے خلاف دوبارہ ایک مہم جاری ہے۔ جس میں ادارے کے افسران کو دوران ملازمت اور بعد ازملازمت ملنے والی مراعات اور ان کا پرتعش رہن سہن زیر بحث ہے۔ بظاہر اس کے پیچھے وہ گروہ یا فکر کارفرما ہے جو عسکری ادارے کی جانب سے ملک کی سیاسی اور سماجی پالیسی سازی میں فوج کے کردار کی شدید ناقد ہے، اور اسے بظاہر مغربی جمہوری نظریے کی طرز پر ایک ادارہ دیکھنا چاہتی ہے۔حالیہ مہم کا آغاز وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات عاصم باجوہ کے اثاثوں میں کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے ڈی ایچ اور ملک میں دیگر مقامات پر کمرشل پلاٹوں، کئی ایکڑ زرعی زمین، گھر اور گاڑی جیسی تفصیلات سامنے آنے کے بعد شروع ہوئی۔ جس میں لوگوں کا کہنا ہے کہ پاک فوج کے افسران کو ملنے والی مراعات کا جائزہ لیا جائے۔ جس میں گفتگو کا بیانیہ یہ ہے کہ فوجی ...
لیبیا خانہ جنگی میں حالات کشیدہ – ترکی کے بعد مصر بھی فوج اتارنے کو تیار: مسلم  ممالک میں ٹکراؤ کا خطرہ

لیبیا خانہ جنگی میں حالات کشیدہ – ترکی کے بعد مصر بھی فوج اتارنے کو تیار: مسلم ممالک میں ٹکراؤ کا خطرہ

روس دنیا میں, عالمی
لیبیا میں 2011 میں نیٹو کی فوجی مداخلت نے ملک کے معروف حکمران معمر قذافی کا تحتہ تو الٹ دیا تاہم 9 سال گزرنے کے باوجود ملک کی سیاسی و دفاعی صورتحال دگرگوں ہے۔ لیبیا میں اس وقت دو متوازی حکومتیں قائم ہیں۔ بڑے قومی اتحاد (جی این او) کو ترکی، اٹلی اور قطر کے ساتھ ساتھ غیر اعلانیہ طور پر کسی حد تک روس کے علاوہ دیگرعالمی طاقتوں اور اداروں کی حمایت حاصل ہے جبکہ خلیفہ حفتر کی قیادت میں لیبیا کی قومی فوج (ایل این اے) کو بڑی عالمی طاقتوں کی حمایت تو حاصل نہیں تاہم روس، متحدہ عرب امارات اور دیگر عرب ممالک اس گروہ کی سرپرستی کر رہے ہیں۔چند ماہ قبل ترکی، قطر اور اٹلی کے حمایت یافتہ گروہ نے ترک فوج کی براہ راست مداخلت سے خانہ جنگی کا پانسہ پلٹا تو مخالف گروہ کی جانب سے تشویش کا اظہار سامنے آیا۔ تاہم کسی قسم کی سنوائی نہ ہونے پر بالآخر مصر نے میدان میں کودنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور قومی پارلیمان م...
خواتین کا جدیدیت سے متاثر رہن سہن بچوں کی  پیدائش میں بڑی رکاوٹ قرار: انسانی آبادی کو خطرات لاحق

خواتین کا جدیدیت سے متاثر رہن سہن بچوں کی پیدائش میں بڑی رکاوٹ قرار: انسانی آبادی کو خطرات لاحق

خاندان و معاشرہ, نظامت
محققین کے مطابق سن 2064 کے بعد دنیا کی آبادی کم ہونا شروع ہو جائے گی تاہم عالمی شرحِ تولید میں ہونے والی اس ’حیرت انگیز‘ کمی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے دنیا پوری طرح سے تیار نہیں ہے۔تحقیق کے مطابق اگر موجودہ سیاسی نظام ہی جاری رہا تو اس صدی کے اختتام تک ہر ملک کی آبادی میں کمی واقع ہو گی اور 23 ممالک کی آبادی، جن میں سپین اور جاپان بھی شامل ہیں، سنہ 2100 تک آدھی رہ جائے گی۔ جسکا بلاواسطہ مطلب یہ بھی ہے کہ عمر رسیدہ افراد کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ ہوجائے گا اور بہت سے شہری 80 برس یا اس سے زیادہ عمر کے ہوں گے۔ماہرین کے مطابق اس کا سبب کچھ اور نہیں بلکہ عورتوں کی شرح تولید میں کمی یعنی بچوں کو نہ پیدا کرنے کے رحجان کا پروان چڑھنا ہے۔ اگر ایک عورت کے بچے جننے کی شرح 2.1 سے کم ہو جائے تو آبادی میں کمی واقع ہونے لگتی ہے۔سنہ 1950 میں ایک عورت زندگی میں اوسطاً 4.7 بچوں کو جنم دی...
کیا کھائیں، کیا نہیں۔۔۔؟

کیا کھائیں، کیا نہیں۔۔۔؟

صحت و خوراک, طب, علمی تحریریں, معلومات عامہ
ڈاکٹر شاہد رضاہماری روزمرہ کی زندگی کا ایک عمومی سوال کہ آج کیا پکائیں تو ہے ہی پر عموماً مریض بھی ڈاکٹروں سے ایک سوال پوچھتے نظر آتے ہیں جو ہے؛ کیا کھائیں کیا نہ کھائیں۔۔۔؟ہمیں سب سے پہلے اپنی خوراک میں دو چیزیں ٹھیک کرنی ہیں۔ ایک پینے کا پانی اور دوسرا آٹا۔ حسب موسم پانی دن میں وقفے وقفے سے پیتے رہیں اور روٹی تین دفعہ نہیں تو دو دفعہ ضرور کھائیں۔ اور ہو سکے تو سالن ایک وقت سے زیادہ استعمال مت کریں، یعنی تازہ کھانا تناول فرمائیں۔فیکٹریوں کی وجہ سے زیر زمین پانی میں مختلف قسم کے کیمیکل اور غلاظتیں حل ہو گئیں ہیں جو کہ بہت سی بیماریوں کا سبب بن رہی ہیں۔ کم گہرائی سے حاصل کیا گیا پانی زیادہ مضر صحت ہے۔زیادہ گہرائی سے حاصل شدہ پانی قدرے بہتر ہے۔ پھر بھی پانی کا ٹی ڈی ایس چیک کریں اور اگر نمکیات کی مقدار زیادہ ہے توٹیسٹ میں ٹی ڈی ایس زیادہ آئے گا۔ عالمی ادارہ صحت کے مطا...
صدر ٹرمپ کے خلاف لبرلوں کے بھونڈے ہتھکنڈے جاری: پراپیگنڈہ سےبھری ایک اور کتاب شائع

صدر ٹرمپ کے خلاف لبرلوں کے بھونڈے ہتھکنڈے جاری: پراپیگنڈہ سےبھری ایک اور کتاب شائع

اداریہ
آئندہ صدارتی انتخابات کے لیے امریکہ میں غیر اعلانیہ انتخابی مہم جاری ہے، جس میں گزشتہ انتخابات کی طرح اس بار بھی امیدواروں کی نجی کردار کشی کا سلسلہ زوروں پر نظر آرہا ہے۔ جس کا خصوصاً شکار دبنگ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہوتے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ریپبلکن جماعت کے صدارتی امیدوار ہیں جن کے خلاف ڈیموکریٹ نے گزشتہ انتخابات میں بھی کردار کشی کی شدید مہم چلائی تاہم معاشی بدحالی اور لبرل طبقے کی جنگی جنونیت سے تنگ امریکی عوام نے صدر ٹرمپ کو ملک کا صدر منختب کیا۔ صدر ٹرمپ نے بھی عوامی امنگوں پر پورا اترتے اور اپنے انتخابی وعدوں کی پاسداری کرتے ہوئے ملک کو معاشی بدحالی سے نکالا، ملک میں لاکھوں ملازمتوں اور نئے کاروبار کا بندوبست کیا اور عالمی سطح پر بھی اہم اور مشکل فیصلے کیے۔ صدر ٹرمپ نے نہ صرف مختلف مسلم ممالک مثلاً افغانستان اور مشرق وسطیٰ میں عراق اور شام کی طویل ہوتی جنگوں کے خاتمے کی د...