Shadow
سرخیاں
بحرانی صورتحال: مغربی رہنما اپنے عوام سے مزید قربانیاں طلب کر رہے ہیں۔ایران جنگ ‘امریکی سلطنت کا خاتمہ’ ہے – ٹکر کارلسنبرطانوی شاہی بحریہ میں نشے اور جنسی زیادتیوں کے واقعات کا انکشاف، ترجمان کا تبصرے سے انکار، تحقیقات کی یقین دہانیتیونسی شہری رضا بن صالح الیزیدی کسی مقدمے کے بغیر 24 برس بعد گوانتانوموبے جیل سے آزادمغربی طرز کی ترقی اور لبرل نظریے نے دنیا کو افراتفری، جنگوں اور بےامنی کے سوا کچھ نہیں دیا، رواں سال دنیا سے اس نظریے کا خاتمہ ہو جائے گا: ہنگری وزیراعظمامریکی جامعات میں صیہونی مظالم کے خلاف مظاہروں میں تیزی، سینکڑوں طلبہ، طالبات و پروفیسران جیل میں بندپولینڈ: یوکرینی گندم کی درآمد پر کسانوں کا احتجاج، سرحد بند کر دیخود کشی کے لیے آن لائن سہولت، بین الاقوامی نیٹ ورک ملوث، صرف برطانیہ میں 130 افراد کی موت، چشم کشا انکشافاتپوپ فرانسس کی یک صنف سماج کے نظریہ پر سخت تنقید، دور جدید کا بدترین نظریہ قرار دے دیاصدر ایردوعان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں رنگ برنگے بینروں پر اعتراض، ہم جنس پرستی سے مشابہہ قرار دے دیا، معاملہ سیکرٹری جنرل کے سامنے اٹھانے کا عندیا

Tag: کورونا معلومات، فیس بک، مصدقہ معلومات، عالمی ادارہ صحت، آسٹریلوی رکن پارلیمان، کریگ کیلی، زبان بندی، لبرل سماجی میڈیا، آزادی رائے، جمہوریت پر حملہ،

کورونا سے متعلق مبینہ غلط معلومات پھیلانے کے الزام پر فیس بک نے آسٹریلوی رکن پارلیمان کا مصدقہ صفحہ خذف کر دیا: اقدام آسٹریلوی جمہوریت پر حملہ ہے، رکن پارلیمان کا ردعمل

کورونا سے متعلق مبینہ غلط معلومات پھیلانے کے الزام پر فیس بک نے آسٹریلوی رکن پارلیمان کا مصدقہ صفحہ خذف کر دیا: اقدام آسٹریلوی جمہوریت پر حملہ ہے، رکن پارلیمان کا ردعمل

سیاست
فیس بک نے ایک بار پھر متعصب رویے اور طاقت کا بے جا استعمال کرتے ہوئے ایک اور اہم شخصیت کا صفحہ خذف کر دیا ہے۔امریکی سماجی میڈیا ویب سائٹ کا اگلا ہدف آسڑیلوی رکن پارلیمان کریگ کیلی بنے ہیں جن کا سماجی رابطے کا مصدقہ صفحے کو خذف کر دیا گیا ہے۔ فیس بک کا مؤقف ہے کہ کریگ کیلی کرونا وباء سے متعلق غلط معلومات پھیلانے کے مرتکب ہوئے ہیں۔ فیس بک کے اقدام پر اپنے ردعمل میں مذکورہ آزاد رکن پارلیمان نے کہا ہے کہ یہ امریکی سوشل میڈیا کمپنی کی طرف سے آسٹریلیا کی جمہوریت پر حملہ ہے۔ کیلی کے مطابق انہیں پیر کی صبح فیس بک کی پابندی حوالے سے آگاہ کیا گیا۔ انہوں نے اس اقدام کو آزادی اظہار پر حملہ اور "زبان بندی" قرار دیا اور کہا کہ رکن پارلیمان کے 86 ہزار پیروکار والے مصدقہ صفحے کو کسی غیر ملکی نجی کمپنی کی جانب سے اچانک خذف کیا جانا "آسٹریلوی نظام میں مداخلت" کےمترادف ہے۔ https://twitter.com/first...

Contact Us