پیر, دسمبر 6 Live
Shadow
سرخیاں
امریکی سی آئی اے اہلکاروں کے ایک بار پھر کم عمر بچوں بچیوں کے ساتھ جنسی جرائم میں ملوث ہونے کا انکشافامریکہ کا مشرقی افریقہ میں تاریخ کے سب سے بڑے فوجی آپریشن کا اعلان: 1 ہزار سے زائد مزید کمانڈو تیارروسی صدر کی ثالثی: آزربائیجان اور آرمینیا کے مابین سرحدی جھڑپیں ختم، سرحدی حدود کے تعین پر اتفاق، جنگ سے متاثر آبادی اور دیگر انسانی حقوق کے تحفظ کی بھی یقین دہانینائیجیر: فرانسیسی فوج کی فائرنگ سے 2 شہری شہید، 16 زخمیامریکی فوج میں ہر 4 میں سے 1 عورت اور 5 میں سے 1 مرد جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے، بیشتر خود کشی کر لیتے، کورٹ مارشل کے خوف سے کوئی آواز نہیں اٹھاتا: سابقہ اہلکارروس کا غیر ملکی سماجی میڈیا کمپنیوں پر ملک میں کاروباری اندراج کے لیے دباؤ جاری: رواں سال کے آخر تک عمل نہ ہونے پر پابندی لگانے کا عندیاامریکہ ہائپر سونک ٹیکنالوجی میں چین اور روس سے بہت پیچھے ہے: امریکی جنرل تھامپسنامریکی تفریحی میڈیا صنعت کس عقیدے، نظریے اور مقصد کے تحت کام کرتی ہے؟چوالیس فیصد امریکی اولاد پیدا کرنے کی خواہش نہیں رکھتے: پیو سروے رپورٹچینی کمپنی ژپینگ نے جدید ترین برقی کار جی-9 متعارف کر دی: بیٹری کے معیار اور رفتار میں ٹیسلا کو بھی پیچھے چھوڑ دیا

کورونا سے متعلق مبینہ غلط معلومات پھیلانے کے الزام پر فیس بک نے آسٹریلوی رکن پارلیمان کا مصدقہ صفحہ خذف کر دیا: اقدام آسٹریلوی جمہوریت پر حملہ ہے، رکن پارلیمان کا ردعمل

فیس بک نے ایک بار پھر متعصب رویے اور طاقت کا بے جا استعمال کرتے ہوئے ایک اور اہم شخصیت کا صفحہ خذف کر دیا ہے۔امریکی سماجی میڈیا ویب سائٹ کا اگلا ہدف آسڑیلوی رکن پارلیمان کریگ کیلی بنے ہیں جن کا سماجی رابطے کا مصدقہ صفحے کو خذف کر دیا گیا ہے۔ فیس بک کا مؤقف ہے کہ کریگ کیلی کرونا وباء سے متعلق غلط معلومات پھیلانے کے مرتکب ہوئے ہیں۔

فیس بک کے اقدام پر اپنے ردعمل میں مذکورہ آزاد رکن پارلیمان نے کہا ہے کہ یہ امریکی سوشل میڈیا کمپنی کی طرف سے آسٹریلیا کی جمہوریت پر حملہ ہے۔ کیلی کے مطابق انہیں پیر کی صبح فیس بک کی پابندی حوالے سے آگاہ کیا گیا۔ انہوں نے اس اقدام کو آزادی اظہار پر حملہ اور “زبان بندی” قرار دیا اور کہا کہ رکن پارلیمان کے 86 ہزار پیروکار والے مصدقہ صفحے کو کسی غیر ملکی نجی کمپنی کی جانب سے اچانک خذف کیا جانا “آسٹریلوی نظام میں مداخلت” کےمترادف ہے۔

واضح رہے کہ کیلی کا ذاتی کھاتہ اور انسٹاگرام کھاتہ تاحال متحرک ہیں، اور صرف سرکاری مصدقہ صفحے کو خذف کیا گیا ہے۔

 فیس بک کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ آسٹریلوی رکن پارلیمان نے “بار بار” ان کی پالیسیوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ ترجمان نے کہا، “ہم منتخب عہدیداروں سمیت کسی کو بھی کوڈ 19 کے بارے میں غلط معلومات پھیلانے کی اجازت نہیں دیتے۔

فیس بک نے دسمبر 2020 میں اعلان کیا تھا کہ وہ کووڈ 19 کے بارے میں کسی بھی ایسی رائے کو غلط تصور کرے گی جسے عالمی ادارہ صحت کی توثیق حاصل نہ ہو، لبرل سماجی میڈیا پالیسی پر دنیا سے سخت تنقید کی گئی لیکن فیس بک تاحال اس پر بضد ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us