پیر, جنوری 13 https://www.rt.com/on-air/ Live
Shadow
سرخیاں
برطانوی شاہی بحریہ میں نشے اور جنسی زیادتیوں کے واقعات کا انکشاف، ترجمان کا تبصرے سے انکار، تحقیقات کی یقین دہانیتیونسی شہری رضا بن صالح الیزیدی کسی مقدمے کے بغیر 24 برس بعد گوانتانوموبے جیل سے آزادمغربی طرز کی ترقی اور لبرل نظریے نے دنیا کو افراتفری، جنگوں اور بےامنی کے سوا کچھ نہیں دیا، رواں سال دنیا سے اس نظریے کا خاتمہ ہو جائے گا: ہنگری وزیراعظمامریکی جامعات میں صیہونی مظالم کے خلاف مظاہروں میں تیزی، سینکڑوں طلبہ، طالبات و پروفیسران جیل میں بندپولینڈ: یوکرینی گندم کی درآمد پر کسانوں کا احتجاج، سرحد بند کر دیخود کشی کے لیے آن لائن سہولت، بین الاقوامی نیٹ ورک ملوث، صرف برطانیہ میں 130 افراد کی موت، چشم کشا انکشافاتپوپ فرانسس کی یک صنف سماج کے نظریہ پر سخت تنقید، دور جدید کا بدترین نظریہ قرار دے دیاصدر ایردوعان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں رنگ برنگے بینروں پر اعتراض، ہم جنس پرستی سے مشابہہ قرار دے دیا، معاملہ سیکرٹری جنرل کے سامنے اٹھانے کا عندیامغرب روس کو شکست دینے کے خبط میں مبتلا ہے، یہ ان کے خود کے لیے بھی خطرناک ہے: جنرل اسمبلی اجلاس میں سرگئی لاوروو کا خطاباروناچل پردیش: 3 کھلاڑی چین اور ہندوستان کے مابین متنازعہ علاقے کی سیاست کا نشانہ بن گئے، ایشیائی کھیلوں کے مقابلے میں شامل نہ ہو سکے

دنیا کا پہلا مقناطیسی مائع تیار کرلیا گیا

برکلے، کیلیفورنیا: ایک طویل تحقیق کے بعد سائنسدانوں نے دنیا کا پہلا مکمل طور پر مقناطیسی مائع تیار کرلیا ہے جس سے طب، الیکٹرانکس اور روبوٹ سازی میں انقلاب آجائے گا۔

مقناطیس ٹھوس ہوتے ہیں اور مائع کی خاصیت اس سے بالکل جدا ہوتی ہے۔ تاہم 1960 سے ایسے مائعات پر کام ہوتا رہا جو مقناطیسی خواص رکھتے ہیں اور انہیں مقنا مائع یا ’فیروفلوئیڈز‘ کا نام دیا گیا تھا۔ ان مائعات میں آئرن آکسائیڈز کے ذرات بکھیرے جاتے تھے اور وہ اسی وقت مقناطیس بنتے تھے جب دوسرا مقناطیس قریب لایا جاتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان سے زیادہ فائدہ نہیں اٹھایا جاسکا۔

لیکن اب لارنس برکلے نیشنل لیبارٹری کے ماہرین نے نئے تجربات کے بعد ایک بالکل مختلف طریقے سے مقناطیسی مائع بنایا ہے جس سےکئی شعبوں میں ترقی کے در کھلیں گے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ مکمل طور پر مستقل مقناطیسی مائع ہے۔

تحقیقی ٹیم سے وابستہ سائنسداں ٹام رسل نے کہا کہ ’ ہماری اختراع مائع اور مقناطیس ہے جس کے خواص مستقل ہیں۔ اس سے پہلے ایسی ایجاد نہیں ہوئی تھی۔ اس طرح ہم ٹھوس مقناطیس کے خواص ایک مائع میں پیدا کرنے کے قابل ہوئے ہیں۔‘ ۔

ٹام رسل کے مطابق یہ کام تھری ڈی پرنٹر سے کیا گیا ہے ۔ سائنسدانوں کی ٹیم نے خاص پرنٹر سے ایک ملی میٹر کے قطرے بنائے ہیں ۔ ہر قطرے میں نینوجسامت کے اربوں آئرن آکسائیڈ ذرات موجود ہیں جن میں سے ہر ایک کی لمبائی چوڑائی صرف 20 نینو میٹر ہے۔ اس کے بعد ان قطروں کو ایک مائع میں اچھی طرح ملایا گیا ہے۔ ماہرین نے دیکھا کہ مقناطیسی قطرے ہلانے جلانے کے باوجود بھی اپنی شکل نہیں کھوتے کیونکہ نینوپارٹیکلز کنارے پر آکر یکجان ہوجاتے ہیں اور قطرے کی شکل برقرار رہتی ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

18 − 4 =

Contact Us