Shadow
سرخیاں
بحرانی صورتحال: مغربی رہنما اپنے عوام سے مزید قربانیاں طلب کر رہے ہیں۔ایران جنگ ‘امریکی سلطنت کا خاتمہ’ ہے – ٹکر کارلسنبرطانوی شاہی بحریہ میں نشے اور جنسی زیادتیوں کے واقعات کا انکشاف، ترجمان کا تبصرے سے انکار، تحقیقات کی یقین دہانیتیونسی شہری رضا بن صالح الیزیدی کسی مقدمے کے بغیر 24 برس بعد گوانتانوموبے جیل سے آزادمغربی طرز کی ترقی اور لبرل نظریے نے دنیا کو افراتفری، جنگوں اور بےامنی کے سوا کچھ نہیں دیا، رواں سال دنیا سے اس نظریے کا خاتمہ ہو جائے گا: ہنگری وزیراعظمامریکی جامعات میں صیہونی مظالم کے خلاف مظاہروں میں تیزی، سینکڑوں طلبہ، طالبات و پروفیسران جیل میں بندپولینڈ: یوکرینی گندم کی درآمد پر کسانوں کا احتجاج، سرحد بند کر دیخود کشی کے لیے آن لائن سہولت، بین الاقوامی نیٹ ورک ملوث، صرف برطانیہ میں 130 افراد کی موت، چشم کشا انکشافاتپوپ فرانسس کی یک صنف سماج کے نظریہ پر سخت تنقید، دور جدید کا بدترین نظریہ قرار دے دیاصدر ایردوعان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں رنگ برنگے بینروں پر اعتراض، ہم جنس پرستی سے مشابہہ قرار دے دیا، معاملہ سیکرٹری جنرل کے سامنے اٹھانے کا عندیا

برطانوی انتخابات میں بڑی تعداد میں پاکستانی نژاد امیدواروں کی جیت کا امکان

برطانیہ میں آج عام انتخابات کا انعقاد ہونے جا رہا ہے ۔ پولنگ کا عمل مقامی وقت کے مطابق صبح 7 بجے سے رات 10 بجے تک جاری رہے گا۔

خیال رہے کہ برطانیہ میں عام انتخابات عموماً 5 سال بعد ہوتے ہیں جبکہ آج ہونے والے انتخابات گذشتہ 5 سال کے دوران ہونے والے تیسرے الیکشن ہیں۔ 2017 کے الیکشن کے بعد یہ انتخابات 2022 میں ہونا تھے لیکن 30 اکتوبر 2019 کو برطانوی پارلیمنٹ نے اکثریتی ووٹوں سے نئے انتخابات کی منظوری دی تھی۔

 ان انتخابات میں پہلی بار کل 70 مسلمان امیدوار حصہ لے رہے ہیں جب کہ گذشتہ انتخابات میں یہ تعداد 47 تھی۔ان امیدواروں کی اکثریت کا تعلق پاکستان ، بنگلا دیش اور کُرد نسل سے ہے جب کہ امید کی جارہی ہے کہ 24 امیدوار ایسے ہیں جو پارلیمنٹ میں پہنچنے میں کامیاب ہوجائیں گے جو کہ اب تک کی سب سے بڑی تعداد ہوگی۔رپورٹ کے مطابق جن 24 امیدواروں کی جیت کے امکانات زیادہ ہیں ان میں سے 70 فیصد پاکستانی نژاد ہیں۔

مقامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ان عام انتخابات میں پہلی بار بڑی تعداد میں مسلمان امیدوار حصہ لے رہے ہیں اور امید ہے کہ پہلے سے زیادہ تعداد میں مسلمان امیدوار دارالعوام میں پہنچنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ان انتخابات میں مسلمان ووٹرز کا بھی اہم کردار ہوگا۔ 30 لاکھ  سے زائد برطانوی مسلمان، عیسائیوں کے بعد برطانیہ کی دوسری بڑی مذہبی برادری ہیں۔

یاد رہے کہ برطانیہ میں 18 سال کی عمر کے افراد کو ووٹ ڈالنے کاحق حاصل ہے اور کل 650 انتخابی حلقے ہیں جب کہ حکومت بنانے کے لیے 326 ارکان کی تعداد درکار ہوتی ہے ۔ عام انتخابات 2019 میں برطانیہ کے تقریباً 4 کروڑ 60 لاکھ افراد ووٹ کے ذریعے اپنے اپنے حلقوں میں دارالعوام (ہاؤس آف کامنز) کے ممبر کا انتخاب کریں گے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

fourteen − eight =

Contact Us