برطانیہ میں آج عام انتخابات کا انعقاد ہونے جا رہا ہے ۔ پولنگ کا عمل مقامی وقت کے مطابق صبح 7 بجے سے رات 10 بجے تک جاری رہے گا۔
خیال رہے کہ برطانیہ میں عام انتخابات عموماً 5 سال بعد ہوتے ہیں جبکہ آج ہونے والے انتخابات گذشتہ 5 سال کے دوران ہونے والے تیسرے الیکشن ہیں۔ 2017 کے الیکشن کے بعد یہ انتخابات 2022 میں ہونا تھے لیکن 30 اکتوبر 2019 کو برطانوی پارلیمنٹ نے اکثریتی ووٹوں سے نئے انتخابات کی منظوری دی تھی۔
ان انتخابات میں پہلی بار کل 70 مسلمان امیدوار حصہ لے رہے ہیں جب کہ گذشتہ انتخابات میں یہ تعداد 47 تھی۔ان امیدواروں کی اکثریت کا تعلق پاکستان ، بنگلا دیش اور کُرد نسل سے ہے جب کہ امید کی جارہی ہے کہ 24 امیدوار ایسے ہیں جو پارلیمنٹ میں پہنچنے میں کامیاب ہوجائیں گے جو کہ اب تک کی سب سے بڑی تعداد ہوگی۔رپورٹ کے مطابق جن 24 امیدواروں کی جیت کے امکانات زیادہ ہیں ان میں سے 70 فیصد پاکستانی نژاد ہیں۔
مقامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ان عام انتخابات میں پہلی بار بڑی تعداد میں مسلمان امیدوار حصہ لے رہے ہیں اور امید ہے کہ پہلے سے زیادہ تعداد میں مسلمان امیدوار دارالعوام میں پہنچنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ان انتخابات میں مسلمان ووٹرز کا بھی اہم کردار ہوگا۔ 30 لاکھ سے زائد برطانوی مسلمان، عیسائیوں کے بعد برطانیہ کی دوسری بڑی مذہبی برادری ہیں۔
یاد رہے کہ برطانیہ میں 18 سال کی عمر کے افراد کو ووٹ ڈالنے کاحق حاصل ہے اور کل 650 انتخابی حلقے ہیں جب کہ حکومت بنانے کے لیے 326 ارکان کی تعداد درکار ہوتی ہے ۔ عام انتخابات 2019 میں برطانیہ کے تقریباً 4 کروڑ 60 لاکھ افراد ووٹ کے ذریعے اپنے اپنے حلقوں میں دارالعوام (ہاؤس آف کامنز) کے ممبر کا انتخاب کریں گے۔
