ملائیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد نے ملائیشین فرمانروا کو اپنا استعفیٰ پیش کردیا ہے اوران کی سیاسی جماعت نے حکمران اتحاد سے علیحدگی اختیار کر لی ہے۔
وزیر اعظم آفس کے ترجمان کے مطابق مہاتیر محمد نے مقامی وقت کے مطابق دن ایک بجے اپنا استعفیٰ شاہی محل میں جمع کر وایا ۔ اس موقع پر مزید معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
واضح رہے کہ مہاتیر محمد کی جماعت کی جانب سے یہ اچانک اور حیرت انگیز اقدام ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے کہ جب مہاتیر محمد کے حمایتی اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل کر ان کے حکمران اتحاد میں شامل انور ابراہیم کے اقتدار میں آنے کا راستہ روکنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔
شاہی دفتر میں استعفیٰ جمع کروانے سے کچھ دیر قبل مہاتیر محمد کی سیاسی جماعت برساتو نے اعلان کیا تھا کہ وہ حکمران جماعت سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے مہاتیر محمد کو ہی وزارت عظمیٰ کا حقدار سمجھتی ہے۔اس کے علاوہ انور ابراہیم کی جماعت کے وزراء سمیت 11 ممبران قانون ساز اسمبلی نے اپنی سیٹوں سے استعفے کا اعلان کردیا۔
خیال رہے کہ مہاتیر محمد اور انور ابراہیم ملائیشیا میں صف اول کے رہنما سمجھے جاتے ہیں اور ان دونوں کے تعلقات کئی دہائیوں سے سیاسی اتار چڑھائو کی زد میں آتے رہے ہیں مگر مئی 2018ء کو ہونے والےانتخابات سے قبل دونوں رہنمائوں نے ایک سیاسی اتحاد قائم کیا تھا تاکہ کرپشن کے الزامات سے لدی حکومتی جماعت کو ایوان اقتدار سے باہر نکال دیا جائے اور اس اتحاد کے نتیجے میں میں یہ کامیاب بھی رہے۔
