Shadow
سرخیاں
بحرانی صورتحال: مغربی رہنما اپنے عوام سے مزید قربانیاں طلب کر رہے ہیں۔ایران جنگ ‘امریکی سلطنت کا خاتمہ’ ہے – ٹکر کارلسنبرطانوی شاہی بحریہ میں نشے اور جنسی زیادتیوں کے واقعات کا انکشاف، ترجمان کا تبصرے سے انکار، تحقیقات کی یقین دہانیتیونسی شہری رضا بن صالح الیزیدی کسی مقدمے کے بغیر 24 برس بعد گوانتانوموبے جیل سے آزادمغربی طرز کی ترقی اور لبرل نظریے نے دنیا کو افراتفری، جنگوں اور بےامنی کے سوا کچھ نہیں دیا، رواں سال دنیا سے اس نظریے کا خاتمہ ہو جائے گا: ہنگری وزیراعظمامریکی جامعات میں صیہونی مظالم کے خلاف مظاہروں میں تیزی، سینکڑوں طلبہ، طالبات و پروفیسران جیل میں بندپولینڈ: یوکرینی گندم کی درآمد پر کسانوں کا احتجاج، سرحد بند کر دیخود کشی کے لیے آن لائن سہولت، بین الاقوامی نیٹ ورک ملوث، صرف برطانیہ میں 130 افراد کی موت، چشم کشا انکشافاتپوپ فرانسس کی یک صنف سماج کے نظریہ پر سخت تنقید، دور جدید کا بدترین نظریہ قرار دے دیاصدر ایردوعان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں رنگ برنگے بینروں پر اعتراض، ہم جنس پرستی سے مشابہہ قرار دے دیا، معاملہ سیکرٹری جنرل کے سامنے اٹھانے کا عندیا

ملائیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد مستعفی۔ بڑے پیمانے پر سیاسی اکھاڑ پچھاڑ کا خدشہ

ملائیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد نے ملائیشین فرمانروا کو اپنا استعفیٰ پیش کردیا ہے اوران کی سیاسی جماعت نے حکمران اتحاد سے علیحدگی اختیار کر لی ہے۔

وزیر اعظم آفس کے ترجمان کے مطابق مہاتیر محمد نے مقامی وقت کے مطابق دن ایک بجے اپنا استعفیٰ شاہی محل میں جمع کر وایا ۔ اس موقع پر مزید معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

واضح رہے کہ مہاتیر محمد کی جماعت کی جانب سے یہ اچانک اور حیرت انگیز اقدام ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے کہ جب مہاتیر محمد کے حمایتی اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل کر ان کے حکمران اتحاد میں شامل انور ابراہیم کے اقتدار میں آنے کا راستہ روکنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

شاہی دفتر میں استعفیٰ جمع کروانے سے کچھ دیر قبل مہاتیر محمد کی سیاسی جماعت برساتو نے اعلان کیا تھا کہ وہ حکمران جماعت سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے مہاتیر محمد کو ہی وزارت عظمیٰ کا حقدار سمجھتی ہے۔اس کے علاوہ انور ابراہیم کی جماعت کے وزراء سمیت 11 ممبران قانون ساز اسمبلی نے اپنی سیٹوں سے استعفے کا اعلان کردیا۔

خیال رہے کہ مہاتیر محمد اور انور ابراہیم ملائیشیا میں صف اول کے رہنما سمجھے جاتے ہیں اور ان دونوں کے تعلقات کئی دہائیوں سے سیاسی اتار چڑھائو کی زد میں آتے رہے ہیں مگر مئی 2018ء کو ہونے والےانتخابات سے قبل دونوں رہنمائوں نے ایک سیاسی اتحاد قائم کیا تھا تاکہ کرپشن کے الزامات سے لدی حکومتی جماعت کو ایوان اقتدار سے باہر نکال دیا جائے اور اس اتحاد کے نتیجے میں میں یہ کامیاب بھی رہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

twenty + six =

Contact Us