Shadow
سرخیاں
بحرانی صورتحال: مغربی رہنما اپنے عوام سے مزید قربانیاں طلب کر رہے ہیں۔ایران جنگ ‘امریکی سلطنت کا خاتمہ’ ہے – ٹکر کارلسنبرطانوی شاہی بحریہ میں نشے اور جنسی زیادتیوں کے واقعات کا انکشاف، ترجمان کا تبصرے سے انکار، تحقیقات کی یقین دہانیتیونسی شہری رضا بن صالح الیزیدی کسی مقدمے کے بغیر 24 برس بعد گوانتانوموبے جیل سے آزادمغربی طرز کی ترقی اور لبرل نظریے نے دنیا کو افراتفری، جنگوں اور بےامنی کے سوا کچھ نہیں دیا، رواں سال دنیا سے اس نظریے کا خاتمہ ہو جائے گا: ہنگری وزیراعظمامریکی جامعات میں صیہونی مظالم کے خلاف مظاہروں میں تیزی، سینکڑوں طلبہ، طالبات و پروفیسران جیل میں بندپولینڈ: یوکرینی گندم کی درآمد پر کسانوں کا احتجاج، سرحد بند کر دیخود کشی کے لیے آن لائن سہولت، بین الاقوامی نیٹ ورک ملوث، صرف برطانیہ میں 130 افراد کی موت، چشم کشا انکشافاتپوپ فرانسس کی یک صنف سماج کے نظریہ پر سخت تنقید، دور جدید کا بدترین نظریہ قرار دے دیاصدر ایردوعان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں رنگ برنگے بینروں پر اعتراض، ہم جنس پرستی سے مشابہہ قرار دے دیا، معاملہ سیکرٹری جنرل کے سامنے اٹھانے کا عندیا

حزب اللہ کے رکن پر سابق لبنانی وزیراعظم کے قتل کا جرم ثابت

لبنان کے سابق وزیراعظم رفیق حریری کے قتل کی تحقیقات کرنے والی اقوام متحدہ کے منظور شدہ ٹریبیونل نے حزب اللہ کے ایک رکن کو مجرم قرار دیدیا ہے جب کہ تین ملزمان کو عدم ثبوت کی بنا پر بری کردیا گیا ہے۔

مجرم و ملزمان قتل رفیق حریری

عرب خبر رساں ادارے کے مطابق عالمی عدالت کے خصوصی ٹریبیونل نے ملزمان کی غیر موجودگی میں حزب اللہ کے رکن سلیم عیاش کو 2005 میں کار بم دھماکے میں سابق لبنانی وزیراعظم رفیق حریری کو قتل کرنے کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ ٹریبیونل نے قتل میں ملوث حزب اللہ کے دیگر تین ملزمان اسد صابرا، حسن اونیسی اورحسن حبیب مہری کو عدم ثبوت کی بنا پر بری کردیا ہے۔ سلیم عیاش نامی ملزم کے موبائل فون کو قتل کی کارروائی میں استعمال کیا گیا۔

کار بم دھماکے کا جائے وقوعہ

عالمی ٹریبیونل کے جج ڈیوڈ رے نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ عدالت سمجھتی ہے کہ شام اور حزب اللہ سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے لبنان کے سابق وزیراعظم رفیق حریری اور ان کے چند سیاسی اتحادیوں کو راستے سے ہٹا سکتی ہیں، تاہم اس بات کا بھی ہمارے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے۔

سابق وزیراعظم رفیق حریری کو لبنان میں 14 فروری 2015 کو خود کش کار بمبار حملے میں قتل کیا گیا تھا۔ شام اور حزب اللہ نے قتل میں ملوث ہونے کے الزامات کی تردید کی تھی تاہم قتل کے 15 برس بعد حزب اللہ کے ایک رکن کو ملوث قرار دیدیا گیا ہے۔

رفیق حریری، سابق وزیر اعظم لبنان

لبنان کے سابق وزیراعظم سعد حریری نے فیصلے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ  ٹریبیونل کے فیصلے کو تسلیم کرتے ہیں اور مجرموں کو سزا پاتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ تاہم انہیں یقین ہے کہ حزب اللہ اس میں براہ راست ملوث تھی۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

four × 2 =

Contact Us