اتوار, جنوری 16 Live
Shadow
سرخیاں
قازقستان ہنگامے: مشترکہ تحفظ تنظیم کے سربراہ کا صورتحال پر قابو کا اعلان، امن منصوبے کی تفصیلات پیش کر دیںبرطانوی پارلیمنٹ میں منشیات کا استعمال: اسپیکر کا سونگھنے والے کتے بھرتی کرنے کا عندیاامریکی سی آئی اے اہلکاروں کے ایک بار پھر کم عمر بچوں بچیوں کے ساتھ جنسی جرائم میں ملوث ہونے کا انکشافامریکہ کا مشرقی افریقہ میں تاریخ کے سب سے بڑے فوجی آپریشن کا اعلان: 1 ہزار سے زائد مزید کمانڈو تیارروسی صدر کی ثالثی: آزربائیجان اور آرمینیا کے مابین سرحدی جھڑپیں ختم، سرحدی حدود کے تعین پر اتفاق، جنگ سے متاثر آبادی اور دیگر انسانی حقوق کے تحفظ کی بھی یقین دہانینائیجیر: فرانسیسی فوج کی فائرنگ سے 2 شہری شہید، 16 زخمیامریکی فوج میں ہر 4 میں سے 1 عورت اور 5 میں سے 1 مرد جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے، بیشتر خود کشی کر لیتے، کورٹ مارشل کے خوف سے کوئی آواز نہیں اٹھاتا: سابقہ اہلکارروس کا غیر ملکی سماجی میڈیا کمپنیوں پر ملک میں کاروباری اندراج کے لیے دباؤ جاری: رواں سال کے آخر تک عمل نہ ہونے پر پابندی لگانے کا عندیاامریکہ ہائپر سونک ٹیکنالوجی میں چین اور روس سے بہت پیچھے ہے: امریکی جنرل تھامپسنامریکی تفریحی میڈیا صنعت کس عقیدے، نظریے اور مقصد کے تحت کام کرتی ہے؟

حزب اللہ کے رکن پر سابق لبنانی وزیراعظم کے قتل کا جرم ثابت

لبنان کے سابق وزیراعظم رفیق حریری کے قتل کی تحقیقات کرنے والی اقوام متحدہ کے منظور شدہ ٹریبیونل نے حزب اللہ کے ایک رکن کو مجرم قرار دیدیا ہے جب کہ تین ملزمان کو عدم ثبوت کی بنا پر بری کردیا گیا ہے۔

مجرم و ملزمان قتل رفیق حریری

عرب خبر رساں ادارے کے مطابق عالمی عدالت کے خصوصی ٹریبیونل نے ملزمان کی غیر موجودگی میں حزب اللہ کے رکن سلیم عیاش کو 2005 میں کار بم دھماکے میں سابق لبنانی وزیراعظم رفیق حریری کو قتل کرنے کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ ٹریبیونل نے قتل میں ملوث حزب اللہ کے دیگر تین ملزمان اسد صابرا، حسن اونیسی اورحسن حبیب مہری کو عدم ثبوت کی بنا پر بری کردیا ہے۔ سلیم عیاش نامی ملزم کے موبائل فون کو قتل کی کارروائی میں استعمال کیا گیا۔

کار بم دھماکے کا جائے وقوعہ

عالمی ٹریبیونل کے جج ڈیوڈ رے نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ عدالت سمجھتی ہے کہ شام اور حزب اللہ سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے لبنان کے سابق وزیراعظم رفیق حریری اور ان کے چند سیاسی اتحادیوں کو راستے سے ہٹا سکتی ہیں، تاہم اس بات کا بھی ہمارے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے۔

سابق وزیراعظم رفیق حریری کو لبنان میں 14 فروری 2015 کو خود کش کار بمبار حملے میں قتل کیا گیا تھا۔ شام اور حزب اللہ نے قتل میں ملوث ہونے کے الزامات کی تردید کی تھی تاہم قتل کے 15 برس بعد حزب اللہ کے ایک رکن کو ملوث قرار دیدیا گیا ہے۔

رفیق حریری، سابق وزیر اعظم لبنان

لبنان کے سابق وزیراعظم سعد حریری نے فیصلے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ  ٹریبیونل کے فیصلے کو تسلیم کرتے ہیں اور مجرموں کو سزا پاتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ تاہم انہیں یقین ہے کہ حزب اللہ اس میں براہ راست ملوث تھی۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us