ہفتہ, اکتوبر 24 Live
Shadow

حزب اللہ کے رکن پر سابق لبنانی وزیراعظم کے قتل کا جرم ثابت

لبنان کے سابق وزیراعظم رفیق حریری کے قتل کی تحقیقات کرنے والی اقوام متحدہ کے منظور شدہ ٹریبیونل نے حزب اللہ کے ایک رکن کو مجرم قرار دیدیا ہے جب کہ تین ملزمان کو عدم ثبوت کی بنا پر بری کردیا گیا ہے۔

مجرم و ملزمان قتل رفیق حریری

عرب خبر رساں ادارے کے مطابق عالمی عدالت کے خصوصی ٹریبیونل نے ملزمان کی غیر موجودگی میں حزب اللہ کے رکن سلیم عیاش کو 2005 میں کار بم دھماکے میں سابق لبنانی وزیراعظم رفیق حریری کو قتل کرنے کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ ٹریبیونل نے قتل میں ملوث حزب اللہ کے دیگر تین ملزمان اسد صابرا، حسن اونیسی اورحسن حبیب مہری کو عدم ثبوت کی بنا پر بری کردیا ہے۔ سلیم عیاش نامی ملزم کے موبائل فون کو قتل کی کارروائی میں استعمال کیا گیا۔

کار بم دھماکے کا جائے وقوعہ

عالمی ٹریبیونل کے جج ڈیوڈ رے نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ عدالت سمجھتی ہے کہ شام اور حزب اللہ سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے لبنان کے سابق وزیراعظم رفیق حریری اور ان کے چند سیاسی اتحادیوں کو راستے سے ہٹا سکتی ہیں، تاہم اس بات کا بھی ہمارے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے۔

سابق وزیراعظم رفیق حریری کو لبنان میں 14 فروری 2015 کو خود کش کار بمبار حملے میں قتل کیا گیا تھا۔ شام اور حزب اللہ نے قتل میں ملوث ہونے کے الزامات کی تردید کی تھی تاہم قتل کے 15 برس بعد حزب اللہ کے ایک رکن کو ملوث قرار دیدیا گیا ہے۔

رفیق حریری، سابق وزیر اعظم لبنان

لبنان کے سابق وزیراعظم سعد حریری نے فیصلے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ  ٹریبیونل کے فیصلے کو تسلیم کرتے ہیں اور مجرموں کو سزا پاتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ تاہم انہیں یقین ہے کہ حزب اللہ اس میں براہ راست ملوث تھی۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں