Shadow
سرخیاں
بحرانی صورتحال: مغربی رہنما اپنے عوام سے مزید قربانیاں طلب کر رہے ہیں۔ایران جنگ ‘امریکی سلطنت کا خاتمہ’ ہے – ٹکر کارلسنبرطانوی شاہی بحریہ میں نشے اور جنسی زیادتیوں کے واقعات کا انکشاف، ترجمان کا تبصرے سے انکار، تحقیقات کی یقین دہانیتیونسی شہری رضا بن صالح الیزیدی کسی مقدمے کے بغیر 24 برس بعد گوانتانوموبے جیل سے آزادمغربی طرز کی ترقی اور لبرل نظریے نے دنیا کو افراتفری، جنگوں اور بےامنی کے سوا کچھ نہیں دیا، رواں سال دنیا سے اس نظریے کا خاتمہ ہو جائے گا: ہنگری وزیراعظمامریکی جامعات میں صیہونی مظالم کے خلاف مظاہروں میں تیزی، سینکڑوں طلبہ، طالبات و پروفیسران جیل میں بندپولینڈ: یوکرینی گندم کی درآمد پر کسانوں کا احتجاج، سرحد بند کر دیخود کشی کے لیے آن لائن سہولت، بین الاقوامی نیٹ ورک ملوث، صرف برطانیہ میں 130 افراد کی موت، چشم کشا انکشافاتپوپ فرانسس کی یک صنف سماج کے نظریہ پر سخت تنقید، دور جدید کا بدترین نظریہ قرار دے دیاصدر ایردوعان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں رنگ برنگے بینروں پر اعتراض، ہم جنس پرستی سے مشابہہ قرار دے دیا، معاملہ سیکرٹری جنرل کے سامنے اٹھانے کا عندیا

ایچ آئی وی کے خلاف بڑی کامیابی: مدافعتی خلیوں میں جینیاتی تبدیلی سے محققین کا زیادہ مؤثر ویکسین اور دوا بنانے کا دعویٰ

محققین ویکسین بنانے کے نئے طریقے کے ذریعے ایچ آئی وی کے خلاف مصنوعی قوت مدافعت پیدا کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ سائنسدانوں نے ایچ آئی وی سے متاثرہ مریضوں کے جسم سے بیمار خلیوں میں جنیاتی تبدیلی کر کے نئی دوا تیار کی ہے، جسے ایچ آئی وی کے خلاف زیادہ مؤثر اور دیر پا پایا گیا ہے۔

چوہوں پر کیے گئے تجربے میں مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں، جس سے محققین پرامید ہیں کہ وہ جلد نہ صرف پہلے سے بہتر ویکسین بلکہ بیماری کے خلاف مؤثر دوا تیار کرنے میں بھی کامیاب ہو جائیں گے۔

محققین کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ کامیابی مدافعاتی نظام کے بی خلیے کے جین کو نئے سرے سے ترتیب دے کر حاصل کی ہے۔ سی آر آئی ایس پی آر نامی تکنیک کے ذریعے مریضوں میں ایچ آئی وی کے خلاف اینٹی باڈی پیدا کی گئی ہے جو چند نایاب مریضوں میں پائی گئی تھی۔

تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ جینیاتی ترتیب بدلنے سے نہ صرف ویکسین کی صلاحیت بڑھی ہے، بلکہ یہ بیماری کے خلاف زیادہ مؤثر بھی پائی گئی ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ یہ پہلی بار ہوا ہے کہ بی خلیے میں جنیاتی تبدیلی سے مؤثراینٹی باڈی بنائی گئی ہے۔

تحقیق سے ایچ آئی وی اور ایڈز کی ویکسین کی بہتری اور علاج کی تلاش میں بھی مدد لے گی، جن کے مریضوں کی تعداد 2019 تک چار کروڑ کے قریب پہنچ چکی تھی۔

ویکسین اور دوا کی تیاری کے لیے متعلقہ شخص کے خون کا نمونہ لیا جائے گا، پھر اس کی مدد سے مریض کے مدافعتی خلیوں کے جین میں ضروری تبدیلی کی جائے گی۔ یہ ایک پیچیدہ عمل ہے، اور اس میں وقت، تربیت اور وسائل درکار ہوں گے، جسے عالمی سطح پر ایک دم سے پیدا کرنا آسان نہیں ہے۔ اس لیے محققین اب اس عمل کو آسان اور سستا بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

six − 3 =

Contact Us