اتوار, نومبر 28 Live
Shadow
سرخیاں
نائیجیر: فرانسیسی فوج کی فائرنگ سے 2 شہری شہید، 16 زخمیامریکی فوج میں ہر 4 میں سے 1 عورت اور 5 میں سے 1 مرد جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے، بیشتر خود کشی کر لیتے، کورٹ مارشل کے خوف سے کوئی آواز نہیں اٹھاتا: سابقہ اہلکارروس کا غیر ملکی سماجی میڈیا کمپنیوں پر ملک میں کاروباری اندراج کے لیے دباؤ جاری: رواں سال کے آخر تک عمل نہ ہونے پر پابندی لگانے کا عندیاامریکہ ہائپر سونک ٹیکنالوجی میں چین اور روس سے بہت پیچھے ہے: امریکی جنرل تھامپسنامریکی تفریحی میڈیا صنعت کس عقیدے، نظریے اور مقصد کے تحت کام کرتی ہے؟چوالیس فیصد امریکی اولاد پیدا کرنے کی خواہش نہیں رکھتے: پیو سروے رپورٹچینی کمپنی ژپینگ نے جدید ترین برقی کار جی-9 متعارف کر دی: بیٹری کے معیار اور رفتار میں ٹیسلا کو بھی پیچھے چھوڑ دیاماحولیاتی تحفظ کی مہم کیوں ناکام ہے؟: کینیڈی پروفیسر نے امیر مغربی ممالک کو زمہ دار ٹھہرا دیااتحادیوں کو اکیلا نہیں چھوڑا جائے گا، تحفظ ہر صورت یقینی بنائیں گے: امریکی وزیردفاعروس اس وقت آزاد دنیا کا قائد ہے: روسی پادری اعظم کا عیسائی گھرانوں کی امریکہ سے روس منتقلی پر تبصرہ

ایچ آئی وی کے خلاف بڑی کامیابی: مدافعتی خلیوں میں جینیاتی تبدیلی سے محققین کا زیادہ مؤثر ویکسین اور دوا بنانے کا دعویٰ

محققین ویکسین بنانے کے نئے طریقے کے ذریعے ایچ آئی وی کے خلاف مصنوعی قوت مدافعت پیدا کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ سائنسدانوں نے ایچ آئی وی سے متاثرہ مریضوں کے جسم سے بیمار خلیوں میں جنیاتی تبدیلی کر کے نئی دوا تیار کی ہے، جسے ایچ آئی وی کے خلاف زیادہ مؤثر اور دیر پا پایا گیا ہے۔

چوہوں پر کیے گئے تجربے میں مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں، جس سے محققین پرامید ہیں کہ وہ جلد نہ صرف پہلے سے بہتر ویکسین بلکہ بیماری کے خلاف مؤثر دوا تیار کرنے میں بھی کامیاب ہو جائیں گے۔

محققین کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ کامیابی مدافعاتی نظام کے بی خلیے کے جین کو نئے سرے سے ترتیب دے کر حاصل کی ہے۔ سی آر آئی ایس پی آر نامی تکنیک کے ذریعے مریضوں میں ایچ آئی وی کے خلاف اینٹی باڈی پیدا کی گئی ہے جو چند نایاب مریضوں میں پائی گئی تھی۔

تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ جینیاتی ترتیب بدلنے سے نہ صرف ویکسین کی صلاحیت بڑھی ہے، بلکہ یہ بیماری کے خلاف زیادہ مؤثر بھی پائی گئی ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ یہ پہلی بار ہوا ہے کہ بی خلیے میں جنیاتی تبدیلی سے مؤثراینٹی باڈی بنائی گئی ہے۔

تحقیق سے ایچ آئی وی اور ایڈز کی ویکسین کی بہتری اور علاج کی تلاش میں بھی مدد لے گی، جن کے مریضوں کی تعداد 2019 تک چار کروڑ کے قریب پہنچ چکی تھی۔

ویکسین اور دوا کی تیاری کے لیے متعلقہ شخص کے خون کا نمونہ لیا جائے گا، پھر اس کی مدد سے مریض کے مدافعتی خلیوں کے جین میں ضروری تبدیلی کی جائے گی۔ یہ ایک پیچیدہ عمل ہے، اور اس میں وقت، تربیت اور وسائل درکار ہوں گے، جسے عالمی سطح پر ایک دم سے پیدا کرنا آسان نہیں ہے۔ اس لیے محققین اب اس عمل کو آسان اور سستا بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us