Shadow
سرخیاں
بحرانی صورتحال: مغربی رہنما اپنے عوام سے مزید قربانیاں طلب کر رہے ہیں۔ایران جنگ ‘امریکی سلطنت کا خاتمہ’ ہے – ٹکر کارلسنبرطانوی شاہی بحریہ میں نشے اور جنسی زیادتیوں کے واقعات کا انکشاف، ترجمان کا تبصرے سے انکار، تحقیقات کی یقین دہانیتیونسی شہری رضا بن صالح الیزیدی کسی مقدمے کے بغیر 24 برس بعد گوانتانوموبے جیل سے آزادمغربی طرز کی ترقی اور لبرل نظریے نے دنیا کو افراتفری، جنگوں اور بےامنی کے سوا کچھ نہیں دیا، رواں سال دنیا سے اس نظریے کا خاتمہ ہو جائے گا: ہنگری وزیراعظمامریکی جامعات میں صیہونی مظالم کے خلاف مظاہروں میں تیزی، سینکڑوں طلبہ، طالبات و پروفیسران جیل میں بندپولینڈ: یوکرینی گندم کی درآمد پر کسانوں کا احتجاج، سرحد بند کر دیخود کشی کے لیے آن لائن سہولت، بین الاقوامی نیٹ ورک ملوث، صرف برطانیہ میں 130 افراد کی موت، چشم کشا انکشافاتپوپ فرانسس کی یک صنف سماج کے نظریہ پر سخت تنقید، دور جدید کا بدترین نظریہ قرار دے دیاصدر ایردوعان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں رنگ برنگے بینروں پر اعتراض، ہم جنس پرستی سے مشابہہ قرار دے دیا، معاملہ سیکرٹری جنرل کے سامنے اٹھانے کا عندیا

امریکہ کے نئے صدر نے صدارت کا حلف اٹھا لیا: واشنگٹن شہر چھاؤنی میں تبدیل، دارلحکومت میں 25 ہزار فوجیوں کی موجودگی کو خانہ جنگی کے دنوں سے تشبیہ دی جانے لگی

امریکہ کے نئے صدر جو بائیڈن نے صدارت کے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔ کیپیٹل ہل پو ہوئی تقریب کو لوہے کی خصوصی حصار سے بند کر دیا گیا تھا اور موقع پر 25 ہزار سے زائد فوجی اہلکار تعینات تھے، اطلاعات کے مطابق ڈیموکریٹ جماعت کے متعدد سیاستدانوں نے حفاظتی جیکٹیں زیب تن کر رکھی تھیں۔

یاد رہے کہ امریکی دارالحکومت میں اتنی بڑی تعداد میں فوجی اہلکاروں کو 1865 کی خانہ جنگی کے بعد پہلی بار دیکھا گیا۔

خصوصی حفاظت کا انتظام 6 جنوری کو کیپیٹل ہل پرہوئے عوامی دھاوے کے باعث کیا گیا تھا،، حساس اداروں کو بھی اطلاعت تھیں کہ عوام کا جتھہ تقریب پر حملہ کر سکتا ہے اور ملک بھر سے کئی گروہ واشنگٹن میں جمع تھے جس کے باعث امریکی دارالحکومت چھاؤنی میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ 2017 میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب میں انتیفا نامی تنظیم نے احتجاج کے دوران کئی کریانے کی دوکانوں کو لوٹ کیا تھا، ایک مسلم تارک وطن کی گاڑی کو آگ لگا دی تھی اور صدر ٹرمپ کے حمائتیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ اس دوران 6 پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے تھے۔

تقریب کے دوران شہری انتظامیہ نے روائیتی سیاسی اجتماعات پر بھی پابندی لگا رکھی تھی، یہاں تک کہ جوبائیڈن کے حق میں جلوس نکالنے کی اجازت نہ دی گئی، جس کے لیے جواز کے طور پر کووڈ19 کا جواز رکھا گیا۔

اس کے علاوہ شہری انتظامیہ اور دیگر اہم عہدوں سے صدر ٹرمپ کے ممکنہ حمائتیوں کو چن چن کر ہٹایا گیا جنہیں واشنگٹن کے ناظم اعلیٰ مریل باؤسر بائیڈن کے مخلاف دہشتگرد قرار دیتے ہیں۔ ناظم اعلیٰ نے شہر بھر میں بھاری اسلحے سے لیس فوجی اہلکار تعینات کرنے پر بھی زور دیا تاہم فوج کے سربراہ نے اسے ماننے سے صاف انکار کر دیا، اور کہا کہ عوامی اجتماعات پر جنگی اسلحے کی نمائش نہیں کی جا سکتی۔

واشنگٹن کو چھاؤنی میں بدلنے پر بہت سے غیرجانبدار تجزیہ کاروں نے بھی ناراضگی کا اظہار کیا، لوگوں کا کہنا تھا کہ خوف کو پھیلانے کی یہ کوشش برے اثرات چھوڑے گی۔ ایک شہری نے ڈیموکریٹ انتظامیہ کو ڈرامے باز قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہر میں کوئی مظاہرہ تک نہیں اور انہوں نے شہر کو جیل بنا کر رکھا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ ڈیموکریٹ شہریوں کو اسلحہ اور حفاظتی جیکٹیں خریدنے سے روکتے ہیں اور خود ٹیکس کے پیسوں سے حفاظتی جیکٹیں پہن کر ہمارا منہ چرا رہے ہیں۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

sixteen − 8 =

Contact Us