Shadow
سرخیاں
بحرانی صورتحال: مغربی رہنما اپنے عوام سے مزید قربانیاں طلب کر رہے ہیں۔ایران جنگ ‘امریکی سلطنت کا خاتمہ’ ہے – ٹکر کارلسنبرطانوی شاہی بحریہ میں نشے اور جنسی زیادتیوں کے واقعات کا انکشاف، ترجمان کا تبصرے سے انکار، تحقیقات کی یقین دہانیتیونسی شہری رضا بن صالح الیزیدی کسی مقدمے کے بغیر 24 برس بعد گوانتانوموبے جیل سے آزادمغربی طرز کی ترقی اور لبرل نظریے نے دنیا کو افراتفری، جنگوں اور بےامنی کے سوا کچھ نہیں دیا، رواں سال دنیا سے اس نظریے کا خاتمہ ہو جائے گا: ہنگری وزیراعظمامریکی جامعات میں صیہونی مظالم کے خلاف مظاہروں میں تیزی، سینکڑوں طلبہ، طالبات و پروفیسران جیل میں بندپولینڈ: یوکرینی گندم کی درآمد پر کسانوں کا احتجاج، سرحد بند کر دیخود کشی کے لیے آن لائن سہولت، بین الاقوامی نیٹ ورک ملوث، صرف برطانیہ میں 130 افراد کی موت، چشم کشا انکشافاتپوپ فرانسس کی یک صنف سماج کے نظریہ پر سخت تنقید، دور جدید کا بدترین نظریہ قرار دے دیاصدر ایردوعان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں رنگ برنگے بینروں پر اعتراض، ہم جنس پرستی سے مشابہہ قرار دے دیا، معاملہ سیکرٹری جنرل کے سامنے اٹھانے کا عندیا

جرمنی کا نوآبادیاتی دور میں نامیبیا میں نسل کشی کا اعتراف، کفارے کی پیشکش: مقامی قبائل کا رقم لینے سے انکار

بالآخر جرمنی نے بھی افریقہ میں مقامی آبادی کی نسل کشی کا باضابطہ اعتراف کر لیا ہے، نوآبادیاتی دور میں افریقی ملک نامیبیا میں جرمنی کی افواج کے ہاتھوں مقامی آبادی کی نسل کشی کی گئی تھی، جس کا جرمنی نے اب باضابطہ اعتراف کیا ہے اور اسکا کفارہ ادا کرنے کے لیے مالی امداد کا اعلان کیا ہے، اطلاعات کے مطابق جرمنی ابتدائی طور پر 1 ارب 34 کروڑ ڈالر مختص کرے گا۔

وزیر خارجہ ہیکو ماس نے اپنے حالیہ ایک بیان میں کہا ہے کہ جرمنی نے 1904 سے 1908 کے درمیان ہیرو اور نامہ کے لوگوں کے خلاف نوآبادیاتی افواج کے ذریعے مظالم ڈھائے، جرمنی متاثرین کو بھولنا نہیں چاہتا اور مفاہمت کے لیے عملی طور پر کچھ کرتے ہوئے مشترکہ راستہ تلاش کرنے کا خواہشمند ہے۔

یوں جرمنی کے وزیر خارجہ کی جانب سے سرکاری طور پر واقعے کو نسل کشی مان لیا گیا ہے۔

جرمنی کے وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ امدادی رقم متاثرہ برادریوں کو عمومی سہولیات، انکے علاقے میں بنیادی ڈھانچے، صحت کی دیکھ بھال اور تربیتی پروگراموں پر خرچ کی جائے گی۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق مذکورہ رقم 30 سالوں میں ادا کی جائے گی۔

واضح رہے کہ دیگر یورپی اقوام کی طرح جرمنی نے بھی نوآبادیاتی دور میں متعدد اقوام کی مزاحمت پر انکی نسل کشی کی تھی۔ خصوصاً افریقہ کے ہیریرو نامی قبیلے کا نام و نشان مٹا دیا تھا، براعظم افریقہ کے جنوب مغربی علاقے سے انکا نام چھین کر اسے جرمنی افریقہ کا نام دے دیا تھا۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق جرمنی کی افواج نے 1904 سے 1908 کے دوران ہیریرو قبیلے کے 80 ہزار میں سے 60 ہزار کے قریب لوگوں کو مار دیا تھا، یوں نامہ قبیلے کے 20 ہزار میں سے 10 ہزار افراد کو مو کے گھاٹ اتار دیا گیاتھا۔ ظالم افواج نے قتل و غارت سے بچ جانے والے افراد کو حراستی مراکز میں رکھا جہاں ان سے جبری مشقت لی جاتی تھی۔ یاد رہے کہ بدسلوکی اور خراب حالات کی وجہ سے ان حراستی مراکز میں بھی ان گنت اموات درج ہوئیں۔

واضح رہے کہ جرمنی نے نمیبیا کی حکومت سے ہرجانے سے متعق بات چیت کی ہے جبکہ ہیریرو اور نامہ برادری کے نمائندوں نے یورپی تصفیے کو “اجداد کو فروخت” کا نام دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔

دونوں ممالک کی طرف سے اعلامیہ قبول ہو جانے کے بعد جرمنی کے صدر فرینک والٹر اسٹین میئر سے توقع کی جارہی ہے کہ وہ نامیبیا کی پارلیمنٹ میں جرمنی کی طرف سے ہونے والے جرائم کے لیے سرکاری طور پر معافی مانگیں گے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

5 × one =

Contact Us