پیر, دسمبر 6 Live
Shadow
سرخیاں
امریکی سی آئی اے اہلکاروں کے ایک بار پھر کم عمر بچوں بچیوں کے ساتھ جنسی جرائم میں ملوث ہونے کا انکشافامریکہ کا مشرقی افریقہ میں تاریخ کے سب سے بڑے فوجی آپریشن کا اعلان: 1 ہزار سے زائد مزید کمانڈو تیارروسی صدر کی ثالثی: آزربائیجان اور آرمینیا کے مابین سرحدی جھڑپیں ختم، سرحدی حدود کے تعین پر اتفاق، جنگ سے متاثر آبادی اور دیگر انسانی حقوق کے تحفظ کی بھی یقین دہانینائیجیر: فرانسیسی فوج کی فائرنگ سے 2 شہری شہید، 16 زخمیامریکی فوج میں ہر 4 میں سے 1 عورت اور 5 میں سے 1 مرد جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے، بیشتر خود کشی کر لیتے، کورٹ مارشل کے خوف سے کوئی آواز نہیں اٹھاتا: سابقہ اہلکارروس کا غیر ملکی سماجی میڈیا کمپنیوں پر ملک میں کاروباری اندراج کے لیے دباؤ جاری: رواں سال کے آخر تک عمل نہ ہونے پر پابندی لگانے کا عندیاامریکہ ہائپر سونک ٹیکنالوجی میں چین اور روس سے بہت پیچھے ہے: امریکی جنرل تھامپسنامریکی تفریحی میڈیا صنعت کس عقیدے، نظریے اور مقصد کے تحت کام کرتی ہے؟چوالیس فیصد امریکی اولاد پیدا کرنے کی خواہش نہیں رکھتے: پیو سروے رپورٹچینی کمپنی ژپینگ نے جدید ترین برقی کار جی-9 متعارف کر دی: بیٹری کے معیار اور رفتار میں ٹیسلا کو بھی پیچھے چھوڑ دیا

کورونا ویکسین بیچنے والی امریکی کمپنی کے بانیوں اور سرمایہ کار کا نام امریکہ کے 225 ارب پتیوں کی فہرست میں شامل: سماجی حلقوں کی جانب سے کڑی تنقید

کورونا ویکسین بنانے والی امریکی کمپنی موڈرنا کے 3 شراکت دار دنیا کے 400 امیر ترین افراد میں شامل ہو گئے ہیں۔ معروف جریدے فوربز کی تازہ اشاعت میں موڈرنا کمپنی کے بانی و سربراہ نؤبار آفیان، شریک بانی رابرٹ لینگر اور کمپنی کے پہلے سرمایہ کاروں میں شامل ٹیموتھی سپرنگر کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ تینوں افراد نے انفرادی سطح پر وباء کے دوران ویکسین بیچ کر 3 ارب 50 کروڑ ڈالر کمائے ہیں۔

امریکی لبرل میڈیا نے خبر کو بالکل نظر انداز کیا ہے اور روائیتی طور پر ویلن مسک (ٹیسلا)، جیف بیزوس (ایمازون) اور مارک زکربرگ (فیس بک) کو ہی موضوع بحث بنایا جا رہا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں موڈرنا ویکسین کی تشہیر اور حکومتی سطح پر لابی کی جا رہی ہے۔ غریب ممالک کو بھی مختلف حیلوں بہانوں سے پابند کیا جا رہا ہے کہ وہ موڈرنا ہی خریدیں۔

سپرنگر فہرست میں 5 ارب 90 کروڑ کے ساتھ 176ویں نمبر پر ہیں، آفیان 5 ارب ڈالر کے ساتھ 212ویں نمبر پر جبکہ لینگر 5 ارب ڈالر کے ساتھ 222ویں نمبر پر ہیں۔

معاملے پر سماجی حلقوں کی جانب سے افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے، انکا کہنا ہے کہ وباء کے دوران ویکسین جیسی انسانی ضرورت کی شے سے دولت بنانا اور امیر افراد میں شامل ہونا کسی بھی طرح قابل ستائش نہیں۔ مالیاتی امور کے ماہرین اسے ٹیکس کی چوری اور حکومتی نوازشات سے بھی جوڑ رہے ہیں۔

سماجی میڈیا پر شہری اس بات پر بھی ناراضگی کا اظہار کر رہے ہیں کہ ویکسین کی پیداوار کے لیے بھی حکومت نے ٹیکس سےکمپنی کو 1 ارب 40 کروڑ ڈالر دیے، اور پھر اسی ویکسین کو ٹیکس کے پیسوں سے خریدا اور کمپنی کے مالکان کو دونوں ہاتھوں سے پیسے لٹائے۔

شعبہ صحت کے ماہرین اب بھی ویکسین کے کلیے پر کمپنی کی اجارہ داری پر سوال اٹھا رہے ہیں اور عالمی اداروں سے اس پر ضروری اقدام کی درخواست کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ ویکسین پر موڈرنا یا کسی بھی کمپنی کی اجارہ داری کے خلاف تھے، فوربس کی نئی فہرست میں اگرچہ سابق امریکی صدر کا نام شامل ہے لیکن انکی دولت میں کمی واقع ہوئی ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us