Shadow
سرخیاں
بحرانی صورتحال: مغربی رہنما اپنے عوام سے مزید قربانیاں طلب کر رہے ہیں۔ایران جنگ ‘امریکی سلطنت کا خاتمہ’ ہے – ٹکر کارلسنبرطانوی شاہی بحریہ میں نشے اور جنسی زیادتیوں کے واقعات کا انکشاف، ترجمان کا تبصرے سے انکار، تحقیقات کی یقین دہانیتیونسی شہری رضا بن صالح الیزیدی کسی مقدمے کے بغیر 24 برس بعد گوانتانوموبے جیل سے آزادمغربی طرز کی ترقی اور لبرل نظریے نے دنیا کو افراتفری، جنگوں اور بےامنی کے سوا کچھ نہیں دیا، رواں سال دنیا سے اس نظریے کا خاتمہ ہو جائے گا: ہنگری وزیراعظمامریکی جامعات میں صیہونی مظالم کے خلاف مظاہروں میں تیزی، سینکڑوں طلبہ، طالبات و پروفیسران جیل میں بندپولینڈ: یوکرینی گندم کی درآمد پر کسانوں کا احتجاج، سرحد بند کر دیخود کشی کے لیے آن لائن سہولت، بین الاقوامی نیٹ ورک ملوث، صرف برطانیہ میں 130 افراد کی موت، چشم کشا انکشافاتپوپ فرانسس کی یک صنف سماج کے نظریہ پر سخت تنقید، دور جدید کا بدترین نظریہ قرار دے دیاصدر ایردوعان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں رنگ برنگے بینروں پر اعتراض، ہم جنس پرستی سے مشابہہ قرار دے دیا، معاملہ سیکرٹری جنرل کے سامنے اٹھانے کا عندیا

کورونا ویکسین بیچنے والی امریکی کمپنی کے بانیوں اور سرمایہ کار کا نام امریکہ کے 225 ارب پتیوں کی فہرست میں شامل: سماجی حلقوں کی جانب سے کڑی تنقید

کورونا ویکسین بنانے والی امریکی کمپنی موڈرنا کے 3 شراکت دار دنیا کے 400 امیر ترین افراد میں شامل ہو گئے ہیں۔ معروف جریدے فوربز کی تازہ اشاعت میں موڈرنا کمپنی کے بانی و سربراہ نؤبار آفیان، شریک بانی رابرٹ لینگر اور کمپنی کے پہلے سرمایہ کاروں میں شامل ٹیموتھی سپرنگر کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ تینوں افراد نے انفرادی سطح پر وباء کے دوران ویکسین بیچ کر 3 ارب 50 کروڑ ڈالر کمائے ہیں۔

امریکی لبرل میڈیا نے خبر کو بالکل نظر انداز کیا ہے اور روائیتی طور پر ویلن مسک (ٹیسلا)، جیف بیزوس (ایمازون) اور مارک زکربرگ (فیس بک) کو ہی موضوع بحث بنایا جا رہا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں موڈرنا ویکسین کی تشہیر اور حکومتی سطح پر لابی کی جا رہی ہے۔ غریب ممالک کو بھی مختلف حیلوں بہانوں سے پابند کیا جا رہا ہے کہ وہ موڈرنا ہی خریدیں۔

سپرنگر فہرست میں 5 ارب 90 کروڑ کے ساتھ 176ویں نمبر پر ہیں، آفیان 5 ارب ڈالر کے ساتھ 212ویں نمبر پر جبکہ لینگر 5 ارب ڈالر کے ساتھ 222ویں نمبر پر ہیں۔

معاملے پر سماجی حلقوں کی جانب سے افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے، انکا کہنا ہے کہ وباء کے دوران ویکسین جیسی انسانی ضرورت کی شے سے دولت بنانا اور امیر افراد میں شامل ہونا کسی بھی طرح قابل ستائش نہیں۔ مالیاتی امور کے ماہرین اسے ٹیکس کی چوری اور حکومتی نوازشات سے بھی جوڑ رہے ہیں۔

سماجی میڈیا پر شہری اس بات پر بھی ناراضگی کا اظہار کر رہے ہیں کہ ویکسین کی پیداوار کے لیے بھی حکومت نے ٹیکس سےکمپنی کو 1 ارب 40 کروڑ ڈالر دیے، اور پھر اسی ویکسین کو ٹیکس کے پیسوں سے خریدا اور کمپنی کے مالکان کو دونوں ہاتھوں سے پیسے لٹائے۔

شعبہ صحت کے ماہرین اب بھی ویکسین کے کلیے پر کمپنی کی اجارہ داری پر سوال اٹھا رہے ہیں اور عالمی اداروں سے اس پر ضروری اقدام کی درخواست کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ ویکسین پر موڈرنا یا کسی بھی کمپنی کی اجارہ داری کے خلاف تھے، فوربس کی نئی فہرست میں اگرچہ سابق امریکی صدر کا نام شامل ہے لیکن انکی دولت میں کمی واقع ہوئی ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

12 − 8 =

Contact Us