پیر, دسمبر 6 Live
Shadow
سرخیاں
امریکی سی آئی اے اہلکاروں کے ایک بار پھر کم عمر بچوں بچیوں کے ساتھ جنسی جرائم میں ملوث ہونے کا انکشافامریکہ کا مشرقی افریقہ میں تاریخ کے سب سے بڑے فوجی آپریشن کا اعلان: 1 ہزار سے زائد مزید کمانڈو تیارروسی صدر کی ثالثی: آزربائیجان اور آرمینیا کے مابین سرحدی جھڑپیں ختم، سرحدی حدود کے تعین پر اتفاق، جنگ سے متاثر آبادی اور دیگر انسانی حقوق کے تحفظ کی بھی یقین دہانینائیجیر: فرانسیسی فوج کی فائرنگ سے 2 شہری شہید، 16 زخمیامریکی فوج میں ہر 4 میں سے 1 عورت اور 5 میں سے 1 مرد جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے، بیشتر خود کشی کر لیتے، کورٹ مارشل کے خوف سے کوئی آواز نہیں اٹھاتا: سابقہ اہلکارروس کا غیر ملکی سماجی میڈیا کمپنیوں پر ملک میں کاروباری اندراج کے لیے دباؤ جاری: رواں سال کے آخر تک عمل نہ ہونے پر پابندی لگانے کا عندیاامریکہ ہائپر سونک ٹیکنالوجی میں چین اور روس سے بہت پیچھے ہے: امریکی جنرل تھامپسنامریکی تفریحی میڈیا صنعت کس عقیدے، نظریے اور مقصد کے تحت کام کرتی ہے؟چوالیس فیصد امریکی اولاد پیدا کرنے کی خواہش نہیں رکھتے: پیو سروے رپورٹچینی کمپنی ژپینگ نے جدید ترین برقی کار جی-9 متعارف کر دی: بیٹری کے معیار اور رفتار میں ٹیسلا کو بھی پیچھے چھوڑ دیا

امریکہ میں رواں برس کورونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 2020 سے بھی بڑھ گئی: لبرل امریکی میڈیا کی خاموشی پر شہری نالاں، ریپبلک کا متعصب میڈیا مہم پر سوال

امریکہ میں رواں برس کووڈ-19 سے مرنے والوں کی تعداد 2020 سے بڑھ گئی ہے۔ امریکی جامعہ جانز ہاپکنز کے جمع کیے اعدادوشمار کے مطابق 2021 میں اب تک مرنے والوں کی تعداد 3 لاکھ 53 ہزار سے بڑھ چکی ہے، جبکہ 2020 میں مجموعی طور پر 3 لاکھ 52 ہزار افراد کی موت ہوئی تھی۔

اعدادوشمار کے سامنے آنے پر خصوصی طور پر ریپبلک جماعت کے رہنماؤں اور حامیوں کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آرہا ہے، انکا کہنا ہے کہ میڈیا کا وہ سارا طوفان کہاں گیا جو اموات کا ذمہ دار صدر ٹرمپ کو ٹھہراتا تھا اور اب 4 ماہ قبل ہی اموات بڑھ جانے کے باوجود بالکل خاموشی طاری ہے۔

سماجی میڈیا پر شہری اپنے ردعمل میں کہہ رہے ہیں کہ صدر ٹرمپ کو لبرل امریکی میڈیا نے دہشت گرد کے طور پر دکھایا، ا وقت کورونا سے اموات کو امریکہ کا دوسرا 9/11 قرار دیا، بلکہ ایک وباء سے اموات کا موازنہ ویتنام جنگ سے کر کے ایک منتخب صدر سےاستعفے کا مطالبہ کیا گیا۔

دوسری طرف صدر بائیڈن کو ایک ہیرو کے طور پر دکھایا اور انکی سارہ انتخابی مہم وائرس کے خلاف مؤثر ہتھیار کے طور پر چلائی گئی۔ اور اس کے لیے معروف سائنسدانوں کو بھی استعمال کیا گیا۔

شہریوں کا مزید کہنا ہے کہ اب تو ویکسین بھی دستیاب ہے اور 2/3 امریکی کم از کم ایک خوراک  لے چکے ہیں، اس کے باوجود ہلاکتوں کی تعداد کا اس حد تک بڑھ جانا غور طلب ہے۔

بائیڈن انتظامیہ نے ہلاکتوں کی ذمہ داری میڈیا پر عائد کی ہے، جوعوام میں آگاہی پیدا کرنے میں قاصر رہا۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us