ہفتہ, جنوری 15 Live
Shadow
سرخیاں
قازقستان ہنگامے: مشترکہ تحفظ تنظیم کے سربراہ کا صورتحال پر قابو کا اعلان، امن منصوبے کی تفصیلات پیش کر دیںبرطانوی پارلیمنٹ میں منشیات کا استعمال: اسپیکر کا سونگھنے والے کتے بھرتی کرنے کا عندیاامریکی سی آئی اے اہلکاروں کے ایک بار پھر کم عمر بچوں بچیوں کے ساتھ جنسی جرائم میں ملوث ہونے کا انکشافامریکہ کا مشرقی افریقہ میں تاریخ کے سب سے بڑے فوجی آپریشن کا اعلان: 1 ہزار سے زائد مزید کمانڈو تیارروسی صدر کی ثالثی: آزربائیجان اور آرمینیا کے مابین سرحدی جھڑپیں ختم، سرحدی حدود کے تعین پر اتفاق، جنگ سے متاثر آبادی اور دیگر انسانی حقوق کے تحفظ کی بھی یقین دہانینائیجیر: فرانسیسی فوج کی فائرنگ سے 2 شہری شہید، 16 زخمیامریکی فوج میں ہر 4 میں سے 1 عورت اور 5 میں سے 1 مرد جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے، بیشتر خود کشی کر لیتے، کورٹ مارشل کے خوف سے کوئی آواز نہیں اٹھاتا: سابقہ اہلکارروس کا غیر ملکی سماجی میڈیا کمپنیوں پر ملک میں کاروباری اندراج کے لیے دباؤ جاری: رواں سال کے آخر تک عمل نہ ہونے پر پابندی لگانے کا عندیاامریکہ ہائپر سونک ٹیکنالوجی میں چین اور روس سے بہت پیچھے ہے: امریکی جنرل تھامپسنامریکی تفریحی میڈیا صنعت کس عقیدے، نظریے اور مقصد کے تحت کام کرتی ہے؟

امریکی سی آئی اے اہلکاروں کے ایک بار پھر کم عمر بچوں بچیوں کے ساتھ جنسی جرائم میں ملوث ہونے کا انکشاف

امریکی جاسوس ادارے سی آئی اے کے دس اہلکاروں کے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے جرائم میں ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ سامنے آنے والے دستاویزی ثبوت کے مطابق کم از کم 10 اہلکار بچوں کے ساتھ زبردستی جنسی زیادتی میں ملوث رہے ہیں لیکن صرف ایک اہلکار کو قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا اور باقی 9 کے خلاف اندرونی کارروائی یا خاموشی اختیار کی گئی۔

معروف امریکی ویب سائٹ بز فیڈ نیوز کے مطابق سینکڑوں سی آئی اے دستاویزات تک انہوں نے معلومات تک رسائی کے قانون کے تحت رسائی حاصل کی ہے جن میں 2004 سے 2009 کے دوران اہلکاروں کے معصوم بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے جرائم میں ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

دستاویزات کے مطابق ایک اہلکار 2 سال کی نوعمر بچی کے ساتھ زیادتی میں ملوث بھی پایا گیا جبکہ یہی اہلکار ایک 6 سالہ بچی کو بھی مختلف مواقع پر اپنی جنسی حواس کا نشانہ بنا چکا ہے۔دستاویز کے مطابق اہلکار کو دفتری کاروائی کرتے ہوئے نوکری سے نکالا گیا لیکن اس کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہ کی گئی۔

دستاویزات کے مطابق ایک اہلکار چھوٹی بچوں کے ساتھ جنسی ویڈیو خریدنے میں بھی ملوث رہا ہے، جو اس نے بچی کی والدہ سے ہی خریدی تھیں۔ ریکارڈ کے مطابق اس اہلکار کے خلاف بھی کوئی قانونی کارروائی نہ کی گئی اور اسے صرف نوکری سے استعفیٰ دینا پڑا۔

ایک اور سی آئی اے ٹھیکیدار خفیہ ایف بی آئی اعلیٰ اہلکار کے لیے چھوٹی بچیوں سے جنسی زیادتی کا انتظام کرتے پایا گیا، اسے بھی کسی قانونی کارروائی کا سامنا نہ کرنا پڑا اور صرف اسے مزید ٹھیکے دینا بند کر دیا گیا۔

دستاویزات کے مطابق جس واحد اہلکار کو قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا وہ بھی دراصل کچھ خفیہ دستاویزات کے حوالے سے لاپرواہی بڑتتے پایا گیا تھا، جسے ممکنہ طور پر اسی حوالے سے سخت سزا کا سامنا کرنا پڑا۔

خبری ویب سائٹ سے گفتگو میں ایک سابقہ اہلکار کا کہنا تھا کہ اہلکاروں کو اس لیے قانونی کارروائی سے بچایا جاتا ہے تاکہ وہ انتقام میں دفتری معومات عیاں کرنے کے اقدامات تک نہ جائیں، جس سے قومی سلامتی کو خطرہ ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ امریکی سی آئی اے اہلکاروں میں بچوں سے جنسی زیادتی کے جرائم میں ملوث ہونے کا یہ پہلا انکشاف نہیں ہے، بلکہ اس سے قبل بھی کئی ایسئ واقعات سامنے آچکے ہیں اور ان میں بھی اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی ہونے کی ہی اطلاعات تھیں۔

سن 2015 میں سامنے آنے والے ایک خبر کے مطابق سی آءی اے اہلکار بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی ویڈیو کے کاروبار میں بھی ملوث رہے ہیں۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us