دنیا میں ابھرتے ایک نئے بین الاقوامی اتحاد برکس کی جانب سے اتحاد میں شامل ہونے کے لیے اہم پالیسی وضع کر دی گئی ہے۔ اتحاد کے اہم اور بنیادی رکن روسکے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے پالیسی اعلان میں کہا ہے کہ برکس میں ایسے کسی ملک کو رکنیت نہیں دی جائے گی جو رکن ممالک پہ مالی یا کسی دوسری پابندیاں لگائے گا یا اس میں شامل ہو گا۔
جوہانسبرگ، جنوبی افریقہ میں سالانہ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں اعلیٰ عہدے دار کا کہنا تھا کہ کوئی بھی ایسا ملک برکس کا رکن نہیں بن سکے گا جو کسی بھی سطح پر رکن ممالک پر غیر قانونی مالی و سیاسی پابندیاں لگانے میں ملوث ہو گا۔
میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے واضح طور پر کہا کہ اجلاس میں شامل ہونے اور رکنیت کے لیے درخواست دینے والے تما نئے6 ممالک ارجنٹینا، مصر، ایتھوپیا، ایران، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے بھی اس پالیسی سے اتفاق کیا ہے۔
روس نائب وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ مغربی ممالک کا رویہ اس حوالے سے واضح ہے لہٰذا انہیں رکنیت تو دور برکس اجلاس میں شرکت کی اجازت بھی نہیں دی جا سکتی۔ تاہم اگر کوئی ملک ماضی میں مغربی اتحاد کا حصہ رہا ہو لیکن اس نے غیر قانونی مالی پابندیوں کی حمایت نہ کی ہو تو اسے بین الاقوامی اتحاد میں ضرور شامل کیا جا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ مغربی ممالک نے یوکرین تنازعہ کو لے کر روس پر اور انسانی حقوق کا جواز بنا کر چین پر سخت پابندیاں لگا رکھی ہیں۔ ماسکو اس حوالے سے مغربی ممالک پر شدید نالاں ہے اور ان پابندیوں کو غیر قانونی مانتا ہے۔
روسی نائب وزیر خارجہ نے اس موقع پر مزید کہا کہ حالیہ اجلاس سے قبل امریکہ نے بیشتر ممالک پر برکس اجلاس میں شامل نہ ہونے کے لیے دباؤ ڈالا تاہم ممالک نے اس کی کوئی پرواہ نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس عیاں ہوتا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی دنیا پر اجارہ داری ختم ہو گئی ہے اور اس کا زوال اب واپس نہیں ہو سکتا۔
