پیر, ستمبر 25 https://www.rt.com/on-air/ Live
Shadow
سرخیاں
صدر ایردوعان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں رنگ برنگے بینروں پر اعتراض، ہم جنس پرستی سے مشابہہ قرار دے دیا، معاملہ سیکرٹری جنرل کے سامنے اٹھانے کا عندیامغرب روس کو شکست دینے کے خبط میں مبتلا ہے، یہ ان کے خود کے لیے بھی خطرناک ہے: جنرل اسمبلی اجلاس میں سرگئی لاوروو کا خطاباروناچل پردیش: 3 کھلاڑی چین اور ہندوستان کے مابین متنازعہ علاقے کی سیاست کا نشانہ بن گئے، ایشیائی کھیلوں کے مقابلے میں شامل نہ ہو سکےایشیا میں امن و استحکام کے لیے چین کا ایک اور بڑا قدم: شام کے ساتھ تذویراتی تعلقات کا اعلانامریکی تاریخ کی سب سے بڑی خفیہ و حساس دستاویزات کی چوری: انوکھے طریقے پر ادارے سر پکڑ کر بیٹھ گئےیورپی کمیشن صدر نے دوسری جنگ عظیم میں جاپان پر جوہری حملے کا ذمہ دار روس کو قرار دے دیااگر خطے میں کوئی بھی ملک جوہری قوت بنتا ہے تو سعودیہ بھی مجبور ہو گا کہ جوہری ہتھیار حاصل کرے: محمد بن سلمانمغربی ممالک افریقہ کو غلاموں کی تجارت پر ہرجانہ ادا کریں: صدر گھانامغربی تہذیب دنیا میں اپنا اثر و رسوخ کھو چکی، زوال پتھر پہ لکیر ہے: امریکی ماہر سیاستعالمی قرضوں میں ریکارڈ اضافہ: دنیا، بنکوں اور مالیاتی اداروں کی 89 پدم روپے کی مقروض ہو گئی

فرانس: اسکول طالبات پر ابایہ پہننے پر بھی پابندی عائد

فرانس نے اسکول طالبات پر ابایہ کے استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے۔ نئی قانون سازی میں ماہ ستمبر سے اسکول طالبات ابایہ نہیں پہن سکیں گی۔

فرانس کے وزیر تعلیم نے نئے قانون کے جواز میں کہا ہے کہ ابایہ سیکولر تعلیم کے منافی ہے اس لیے فرانس میں اس کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ سیکولریت کی تعلیم اسکول سے ہی دی جانی چاہیے اور ابایہ کا استعمال اس میں رکاوٹ بنتا ہے۔ اس کے علاوہ ابایہ غیر مسلم طالبات کو مسلم طالبات کے حوالے سے خاص فکر میں مبتلا کرنے کا باعث بھی بنتا ہے اور جماعت میں تقسیم پیدا ہوتی ہے۔

سال 2004 میں فرانس نے تعلیمی اداروں میں ہر طرح کی مذہبی علامت پر پابندی لگا دی تھی جس کے تحت مسلمان طالبات پر سکارف، یہودی طلباء پر کپاہ اور عیسائی طلباء پر نمایاں صلیب لٹکانے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی، فرانس میں تب سے ہی مذہبی رحجان رکھنے والے خاندانوں اور حکومت میں کشیدگی جاری ہے۔

حالیہ ابایہ پر پابندی کے بعد ملک میں ہمیشہ کی طرح منقسم رائے سامنے آئی ہے۔ قوم پرست جماعتوں نے پابندی کی ستائش کی ہے اور کہا ہے کہ وہ تو ہمیشہ سے مذہبی علامتوں پر پابندی کی حمایت کرتے رہے ہیں جبکہ بائیں بازو کے ترقی پسندوں کی جانب سے اسے اسلام سے خوف کی علامت قرار دیا ہے۔ ایک نمایاں رہنما نے قانون کو اپنے آپ میں سیکولر نظریے کے خلاف اور ایک مذہب کو نشانہ بنانے کی سازش گردانا ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

one × 3 =

Contact Us