اتوار, مئی 9 Live
Shadow
سرخیاں
روسی بحریہ میں ایک اور جدید ترین آبدوز کازان شاملچینی راکٹ خلائی اسٹیشن منزل پر کامیابی سے پہنچا کر بحیرہ ہند کی فضاؤں میں جل کر بھسم: آبادی والے علاقے میں گرنے کے مغربی پراپیگنڈے پر چین کا افسوس کا اظہارکابل: اسکول پر راکٹ حملے میں متعدد طالبات سمیت 30 جاں بحق، 50 زخمیروس: دوسری جنگ عظیم میں نازی جرمنی کے خلاف فتح کا جشن، ماسکو میں فوجی پریڈ کا انعقاد – براہ راست ویڈیومالدیپ کے سابق صدر محمد نشید بم حملے میں بال بال بچ گئےبرازیل میں پولیس کے منشیات فروشوں کے خلاف چھاپے جاری: 3 روز میں 1 پولیس افسر سمیت 28 ہلاکعراق: نیٹو افواج کے زیر استعمال ہوائی اڈے پر ڈرون حملہ، کوئی جانی نقصان نہ ہونے کا دعویٰامریکی تیل ترسیل کی سب سے بڑی کمپنی پر سائبر حملہ: ملک بھر میں پہیہ جام ہونے کا خطرہ منڈلانے لگااسرائیل کوئی ریاست نہیں ایک دہشت گرد کیمپ ہے: ایرانی ریاستی سربراہ علی خامنہ ایاطالوی پولیس افسر کے قتل کے جرم میں دو امریکی سیاحوں کو عمر قید کی سزا

میزائیل معاہدہ پر پیوٹن اور اردگان کا تبادلہ خیال

روس کے صدر ولادیمیر پوٹین اور ان کے
ترکی ہم منصب کے درمیان پیر کے روز باہمی فوجی تعاون اور امریکی ہدف تنقید بننے والے میزائل کے معاہدے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ان امور پر بات چیت ترکی صدر طیب اردگان کے حالیہ ماسکو دورے میں کی گئی۔

پوتین نے کریملن میں ملاقات کے دوران اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کو فوجی تکنیکی شعبے میں تعاون کو مضبوط کرنا چاہیے

پیوٹن نے کہا کہ اس سلسلے میں سب سے پہلے ترکی کے لئے 400-ایس طیارہ مار گرانے کے میزائل کا نظام فراہم کرنے کے معاہدے کو مکمل کرنا ہے۔

ترکی کو جدید روسی فوجی مصنوعات کی فراہمی سے متعلق دیگر اموربھی منصوبے کا حصہ ہیں، “پوٹن نے مزید کہا.

ادھر امریکہ نے احتجاجاّ ترکی کے ساتھ اپنے مشترکہ ایف-35 فائٹر جیٹ پروگرام کومنجمد کر دیا ہے.

اردگان نے کہا ہے کہ ترکی کی سرحدوں کی حفاظت کے لئے ایس-400 میزائیل کی ضرورت ہے. انہوں نے کہا کہ روس کے ساتھ معاہدے کی بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ اس وقت امریکہ کی طرف سے کوئی بھی قابل قبول میزائل معاہدہ نہیں تھا

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us