Shadow
سرخیاں
پولینڈ: یوکرینی گندم کی درآمد پر کسانوں کا احتجاج، سرحد بند کر دیخود کشی کے لیے آن لائن سہولت، بین الاقوامی نیٹ ورک ملوث، صرف برطانیہ میں 130 افراد کی موت، چشم کشا انکشافاتپوپ فرانسس کی یک صنف سماج کے نظریہ پر سخت تنقید، دور جدید کا بدترین نظریہ قرار دے دیاصدر ایردوعان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں رنگ برنگے بینروں پر اعتراض، ہم جنس پرستی سے مشابہہ قرار دے دیا، معاملہ سیکرٹری جنرل کے سامنے اٹھانے کا عندیامغرب روس کو شکست دینے کے خبط میں مبتلا ہے، یہ ان کے خود کے لیے بھی خطرناک ہے: جنرل اسمبلی اجلاس میں سرگئی لاوروو کا خطاباروناچل پردیش: 3 کھلاڑی چین اور ہندوستان کے مابین متنازعہ علاقے کی سیاست کا نشانہ بن گئے، ایشیائی کھیلوں کے مقابلے میں شامل نہ ہو سکےایشیا میں امن و استحکام کے لیے چین کا ایک اور بڑا قدم: شام کے ساتھ تذویراتی تعلقات کا اعلانامریکی تاریخ کی سب سے بڑی خفیہ و حساس دستاویزات کی چوری: انوکھے طریقے پر ادارے سر پکڑ کر بیٹھ گئےیورپی کمیشن صدر نے دوسری جنگ عظیم میں جاپان پر جوہری حملے کا ذمہ دار روس کو قرار دے دیااگر خطے میں کوئی بھی ملک جوہری قوت بنتا ہے تو سعودیہ بھی مجبور ہو گا کہ جوہری ہتھیار حاصل کرے: محمد بن سلمان

بھارت میں خواتین سیاستدانوں کو بھی ریپ اور قتل کی دھمکیوں کا سامںا ہے ۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل

انسانی حقوق کےلئے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال ہونے والے بھارتی انتخابات کے دوران تقریباً 100 بھارتی خواتین سیاست دانوں کو سوشل میڈیا پر قتل اور جنسی تشدد جیسی دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کی تحقیق کے مطابق مارچ اور مئی کے درمیانی عرصے میں 95 خواتین سیاست دانوں کو ٹوئٹر پر 10 لاکھ کے قریب نفرت انگیز پیغامات موصول ہوئے اور موصول ہونے والے ہر پانچ میں سے ایک پیغام جنسی تعصب اور عورتوں سے نفرت پر مبنی تھا۔

اس معاملے پر ڈجیٹل رائٹس ایکسپرٹس کا کہنا ہے کہ خواتین کو ڈرانے اور عوامی عہدوں سے دُور رکھنے کے لیے آن لائن جنسی تشدد کی دھمکیوں کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ بھارت کی حکمران سیاسی پارٹی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی ایک رکن کا کہنا ہے کہ کہ لوگ نیں جانتے کہ سیاست میں خواتین کیا کچھ برداشت کر رہی ہیں اور خواتین کے لئے کس قدر عدم مساوات ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں خواتین سیاستدانوں کے خلاف آن لائن ہراسانی کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے۔

ورلڈ وائیڈ ویب فاؤنڈیشن کے بانی ایڈرین لوویٹ کا کہنا ہے کہ جنس کی بنیاد پر آن لائن تشدد کے واقعات دنیا بھر میں بڑھے ہیں جن میں ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک دونوں شامل ہیں۔اُن کا مزید کہنا تھا کہ اس طرح کی دھمکیاں ڈیجیٹل میڈیا میں مرد اور عورتوں کے درمیان خلیج کو مزید گہرا کررہی ہیں کیوں کہ پہلے ہی آئن لائن پلیٹ فارمز میں شمولیت اختیار کرنے والوں میں مردوں کی تعداد عورتوں سے زیادہ ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

11 − 6 =

Contact Us