Shadow
سرخیاں
پولینڈ: یوکرینی گندم کی درآمد پر کسانوں کا احتجاج، سرحد بند کر دیخود کشی کے لیے آن لائن سہولت، بین الاقوامی نیٹ ورک ملوث، صرف برطانیہ میں 130 افراد کی موت، چشم کشا انکشافاتپوپ فرانسس کی یک صنف سماج کے نظریہ پر سخت تنقید، دور جدید کا بدترین نظریہ قرار دے دیاصدر ایردوعان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں رنگ برنگے بینروں پر اعتراض، ہم جنس پرستی سے مشابہہ قرار دے دیا، معاملہ سیکرٹری جنرل کے سامنے اٹھانے کا عندیامغرب روس کو شکست دینے کے خبط میں مبتلا ہے، یہ ان کے خود کے لیے بھی خطرناک ہے: جنرل اسمبلی اجلاس میں سرگئی لاوروو کا خطاباروناچل پردیش: 3 کھلاڑی چین اور ہندوستان کے مابین متنازعہ علاقے کی سیاست کا نشانہ بن گئے، ایشیائی کھیلوں کے مقابلے میں شامل نہ ہو سکےایشیا میں امن و استحکام کے لیے چین کا ایک اور بڑا قدم: شام کے ساتھ تذویراتی تعلقات کا اعلانامریکی تاریخ کی سب سے بڑی خفیہ و حساس دستاویزات کی چوری: انوکھے طریقے پر ادارے سر پکڑ کر بیٹھ گئےیورپی کمیشن صدر نے دوسری جنگ عظیم میں جاپان پر جوہری حملے کا ذمہ دار روس کو قرار دے دیااگر خطے میں کوئی بھی ملک جوہری قوت بنتا ہے تو سعودیہ بھی مجبور ہو گا کہ جوہری ہتھیار حاصل کرے: محمد بن سلمان

افریقہ میں لاسا بخار کی وبا سے درجنوں افراد ہلاک

چین میں کورونا وائرس کے مہلک وبائی شکل اختیار کرنے کے باعث بڑے پیمانے پر ہونے والی ہلاکتوں کے بعد افریقی ملک نائیجیریا میں مہلک بخار نے درجنوں افراد کی جان لے لی۔نائیجیریا میں پھیلنے والے لاسا بخار کے باعث اب تک 29 افراد ہلاک اور 195 افراد شدید متاثر ہیں۔ائیجیریا میں لاسا وائرس کے باعث حکومت نے پورے ملک میں میڈیکل ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔

نائیجیریا سینٹر آف ڈیزیزز نے ہفتے کے روز اپنا بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ 24 جنوری سے اب تک ملک کے 11 صوبوں میں 195 افراد میں اس وائرس کی تصدیق ہوئی ہے اور 29 افراد اب تک ہلاک ہو چکے ہیں۔

یاد رہے کہ لاسا وائرل بخار کی ایک قسم ہے جس کا تعلق ایبولا وائرس اور ماربرگ وائرس کے خاندان سے ہے۔ یہ وائرس مغربی افریقہ کے مقامی لوگوں کے میں پایا گیا ہے۔مغربی افریقہ میں موجود بستی لاسا کے نام پر اس بیماری کا نام رکھا گیا ہے ۔ نائیجیریا میں پہلی دفعہ اس وائرس کی تشخیص 1969 میں ہوئی تھی۔

ماہرین کے مطابق اس وائرس کے پھیلنے کی بڑی وجہ کھانے کو صحیح طریقے سے دھوئے بغیر استعمال کرنا یا آلودہ غذائی اشیاء کا کھانا بتایا جاتا ہے۔بخار، جسمانی تھکاوٹ، نزلہ زکام، قے آنا، ڈائریا، پیٹ میں درد اور گلے کی خراش جیسی علامات کا ظاہر ہونا لاسا بخار کی تصدیق کرتا ہے لیکن 80 فیصد کیسز میں اس بیماری کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔

اقوام متحدہ ادارہ برائے صحت کے مطابق یہ بخار ذیادہ تر جنوری کے مہینے میں موسم کی تبدیلی کی وجہ سے پھیلتا ہے اس بخار کے علاج کے لیے ریبا ویرین نامی دوائی  کافی مؤثر ثابت ہوئی ہے لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ اس بیماری کے شروع میں ہی اس کا استعمال کر لیا جائے۔

امریکہ کے ایک ادارے سی ڈی سی کے مطابق مغربی افریقی میں لاسا بخار کے تقریباً ہر سال ایک لاکھ سے 3 لاکھ کے قریب کیسز سامنے آتے ہیں جس میں سے تقریباً 5 ہزار افراد اس بخار کی وجہ سے مر جاتے ہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ برس بھی تقریباً 160 افراد لاسا بخار کی وجہ سے ہلاک ہوئے تھے ۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

7 + 9 =

Contact Us