اتوار, ستمبر 20 Live
Shadow

دربار صاحب پر انڈیا کے حملے کی یاد میں منعقد تقریبات ختم، پرسکھوں کی نسل کشی جاری

سکھوں کے مقدس مقام دربار صاحب (گولڈن ٹمپل) اور اکال تخت صاحب پر 1984 میں انڈیا کی فوج کے حملے اوربربریت کی یاد میں منعقدہ سالانہ تین روزہ تقریبات آج ختم ہوگئی ہیں۔ گورودوارہ جنم استھان ننکانہ صاحب سمیت پاکستان میں موجود اہم گورودواروں میں بھی اکھنڈپاتھ صاحب کی تقریبات منعقد ہوئیں جبکہ بھارت میں مرکزی تقریب کے دوران اس بار بھی خالصتان کے نعرے گونجے۔

چھتیس سال قبل 1984 میں بھارتی فوج نے امرتسرمیں واقع دربارصاحب پر حملہ کرکے ناصرف سکھوں کے مقدس مقام کی بے حرمتی کی اور اسے تباہ و برباد کر دیا بلکہ پنجاب اور خصوصاً سکھوں کی تہذیب کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ حملے میں دربار صاحب سے منسلک قدیم کتب خانے کو بموں سے جلا کر راکھ کر دیا جس میں ہزاروں نایاب اور لاکھوں تہذیبی کتب اور تاریخی دستاویزات موجود تھے۔ اسی جارحیت میں سکھ رہنما جرنیل سنگھ بھنڈراوالہ کو بھی ہزاروں سکھوں کے ساتھ قتل کردیا گیا تھا، جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے

محتاط اندازوں کے مطابق صرف 1984 سے اب تک ڈھائی لاکھ سکھ انڈیا کی ریاستی دہشت گردی کا شکار ہو چکے ہیں

پاکستان اوربھارت سمیت دنیا بھرمیں بسنے والے سکھ ہرسال یکم سے 6 جون تک 1984 میں ہونیوالے انڈیا کے بیہمانہ عسکری حملے جسے آپریشن بلیوسٹار کا نام دیا گا تھا، کیخلاف احتجاج کرتے ہیں اوران سکھوں کی یاد میں ارداس کی جاتی ہے جنہیں بھارتی فوج نے انتہائی بے رحمی سے قتل کردیا تھا۔ اس موقع پر پاکستان سکھ گورودوارہ پربندھک کمیٹی کے سربراہ سردارستونت سنگھ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سکھ قوم آپریشن بلیوسٹارکوبھولی ہے نہ کبھی بھولے گی، انڈیا کی فوج نے جس طرح دربارصاحب اور اکال تخت صاحب پر فوج کشی کی اوربیگناہ سکھوں کا قتل عام کیا وہ کبھی بھلایا نہیں جاسکتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ انڈیا کی فوج جیسے کشمیر میں مسلمانوں پرمظالم کے پہاڑ توڑرہی ہے ویسے ہی سکھوں کو بھی پورے انڈیا میں ظلم کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

محتاط اندازوں کے مطابق صرف 1984 سے اب تک ڈھائی لاکھ سکھ انڈیا کی ریاستی دہشت گردی کا شکار ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد سکھوں کی سیاسی و سماجی قیادت کی ہے۔ یہ اعدادوشمار انسانی حقوق کے اداروں کی جانب سے اکٹھے کیے گئے ہیں جنہیں محقق اندرجیت سنگھ نے بھی تحقیق کے بعد اپنی کتاب “نسل کشی کی سیاست” میں شامل کیا ہے۔

انڈیا کی معروف تنظیم “ریاستی جبر کے خلاف تحریک” (مارس) کے مطابق انڈیا کی جیلوں میں اب بھی 52268 سکھ سیاسی قیدی قید ہیں، جن پر نہ تو کوئی مقدمہ چل رہا ہے اور نہ کوئی الزام عائد کیا گیا ہے۔ انڈیا کے ریاستی جاسوس ادارے را کے سابق عہدے دار گردیو سنگھ گریوال نے اپنی کتاب “خفیہ آنکھ” میں انکشاف کیا کہ دربار صاحب حملے سمیت پنجاب کے 37 دیگر گورودواروں میں اب تک 20 ہزار سے زائد سکھوں کو قتل کیا جا چکا ہے۔ آپریشن بلیو سٹار کے ممکنہ ردعمل کو روکنے کے لیے انڈیا نے ریاست پنجاب میں 50 لاکھ فوج کے علاوہ 70 ہزار خصوصی نیم کمانڈو بھی تعینات کیے جنہوں نے ماورائے عدالت ہزاروں سکھوں کو قتل کیا۔ امریکی وزارت خارجہ کی ایک رپورٹ کے مطابق 1992 سے 94 کے دوران انڈیا نے 41 ہزار ایسے افسران کو نقد انعامات سے نوازا جنہوں نے انڈیا کے مطلوبہ سکھوں کو جعلی پولیس مقابلوں میں قتل کیا تھا۔ ان میں سے ایک ایسا بھی تھا جو بعد میں زندہ نکلا اور اس نے حکومت کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا۔ ایک انسانی حقوق کے معروف رہنما جسونت سنگھ کھالڑا کو 50 ہزار سے زائد ایسے سکھوں کے قتل کا انکشاف کرنے پر گرفتار کر لیا گیا جنہیں لاپتہ کرنے کے بعد نہ صرف قتل کر دیا گیا بلکہ ان کی لاشوں کو بھی مسخ کر دیا گیا تاکہ انکی لاشیں پہچانی نہ جا سکیں۔ جسونت سنگھ کی جیل میں پراسرار طور پر موت واقع ہو گئی تھی۔ سکھوں کے خلاف منظم ریاستی جبر کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ایک سابقہ گورنر پنجاب، سرندرا ملک کی موت کے بعد انکشاف ہوا کہ انڈیا کی مرکزی حکومت نے انہیں ڈیڑھ ارب دے کر پنجاب اور مقبوضہ کشمیر میں دہشت گردی کو ہوا دینے کا کام سونپا تھا۔

ایسے ہی حالات اور ریاستی جبر پر انڈیا کی عدالت عالیہ نے بھی ایک مقدمے کی سماعت کے دوران کہا تھا کہ سکھوں کے خلاف ریاستی جبر نسل کشی سے بھی بدتر صورت اختیار کر چکا ہے۔ جبکہ معروف سکھ رہنما اور اکال تحت کے سابق کرتادھرتا درشن سنگھ کہہ چکے ہیں کہ اگر کوئی سکھ خالصتانی نہیں تو وہ سکھ ہی نہیں۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

Leave a Reply