اتوار, جنوری 16 Live
Shadow
سرخیاں
قازقستان ہنگامے: مشترکہ تحفظ تنظیم کے سربراہ کا صورتحال پر قابو کا اعلان، امن منصوبے کی تفصیلات پیش کر دیںبرطانوی پارلیمنٹ میں منشیات کا استعمال: اسپیکر کا سونگھنے والے کتے بھرتی کرنے کا عندیاامریکی سی آئی اے اہلکاروں کے ایک بار پھر کم عمر بچوں بچیوں کے ساتھ جنسی جرائم میں ملوث ہونے کا انکشافامریکہ کا مشرقی افریقہ میں تاریخ کے سب سے بڑے فوجی آپریشن کا اعلان: 1 ہزار سے زائد مزید کمانڈو تیارروسی صدر کی ثالثی: آزربائیجان اور آرمینیا کے مابین سرحدی جھڑپیں ختم، سرحدی حدود کے تعین پر اتفاق، جنگ سے متاثر آبادی اور دیگر انسانی حقوق کے تحفظ کی بھی یقین دہانینائیجیر: فرانسیسی فوج کی فائرنگ سے 2 شہری شہید، 16 زخمیامریکی فوج میں ہر 4 میں سے 1 عورت اور 5 میں سے 1 مرد جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے، بیشتر خود کشی کر لیتے، کورٹ مارشل کے خوف سے کوئی آواز نہیں اٹھاتا: سابقہ اہلکارروس کا غیر ملکی سماجی میڈیا کمپنیوں پر ملک میں کاروباری اندراج کے لیے دباؤ جاری: رواں سال کے آخر تک عمل نہ ہونے پر پابندی لگانے کا عندیاامریکہ ہائپر سونک ٹیکنالوجی میں چین اور روس سے بہت پیچھے ہے: امریکی جنرل تھامپسنامریکی تفریحی میڈیا صنعت کس عقیدے، نظریے اور مقصد کے تحت کام کرتی ہے؟

بیٹریاں موت بیچنے لگیں، ہر تین میں سے ایک بچےمیں سیسے کی خطرناک مقدار کا انکشاف، اقوام متحدہ کی تنبیہ

اقوامِ متحدہ کے تحت بچوں کے عالمی ادارے یونیسیف نے یہ پریشان کن انکشاف کیا ہے کہ دنیا بھر میں ہر تیسرے بچے کے خون میں سیسے کی مقدار خطرناک حد تک زیادہ ہے، یعنی دنیا میں 80 کروڑ بچوں کے خون میں سیسے کی مقدار 5 مائیکروگرام فی ڈیسی لیٹر یا اس سے زائد دیکھی گئی ہے۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پوری دنیا میں سیسے کی اتنی زیادہ آلودگی سے لاکھوں کروڑوں بچوں کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ سیسے کی آلودگی ذہنی اور جسمانی طور پر بہت نقصاندہ ثابت ہوتی ہے اوربعد ازاں اس کے اثرات کم بھی نہیں کئے جاسکتے۔

یونیسیف اور ایک ماحولیاتی گروپ پیورارتھ نے مشترکہ طور پر کئی ممالک میں سروے کےبعد یہ انکشاف کیا ہے کہ خون میں پانچ مائیکروگرام فی ڈیسی لیٹر سیسے کی مقدار محفوظ پیمانے سے بہت زیادہ ہے ۔ اس کیفیت میں بچوں کے دماغ، اعصابی نظام، دل اور جگر جیسے اعضا کو نقصان ہوسکتا ہے جن میں سے بعض کا ازالہ ممکن بھی نہیں ہوتا۔

عالمی ادارہ برائے صحت اور بیماریوں سے بچاؤ کے امریکی ادارے کہہ چکے ہیں کہ بچوں میں سیسے کی اس مقدار پر ’فوری ردِ عمل‘ کی ضرورت ہے، وگرنہ صورتحال انتہائی بگڑ سکتی ہے۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں پرانی بیٹریوں کی ری سائیکلنگ اور سیسے کی بھٹیاں اس زہریلی دھات پھیلانے میں اپنا اہم کردار ادا کررہی ہیں۔ گزشتہ ہفتے جاری ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر بچوں کا متاثر ہونا انتہائی خطرناک ہے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں چھوٹے بچے بیٹریوں کو کھولنے اور اسے دوبارہ کارآمد بنانے کا کام کرتے ہیں۔ دوسری جانب برقی کچرا بھی اس کے پھیلاؤ کی بڑی وجہ بن رہا ہے۔ لیکن اس میں سیسے والی تیزابی بیٹریوں کا 85 فیصد تک کردار ہے۔

رپورٹ کے مطابق شروع میں لہو کے اندر سیسے کی غیرمعمولی مقدار کے کوئی آثار نہیں ہوتے لیکن دھیرے دھیرے یہ دماغ، اعصاب اور دیگر جسمانی اعضا کو تباہ کرنے لگتی ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us