منگل, اکتوبر 20 Live
Shadow

کلیم خان پر سی ڈی اے کی نوازشات: اسلام آباد ہائیکوٹ میں طلبی، سرزنش، جواب طلب

اسلام آباد ہائیکورٹ میں صوبائی وزیر علیم خان کی نجی ریائشی سکیم کے سرکاری اراضی پر مبینہ قبضے سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی۔ جس پر چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے دوران سماعت میں کہا کہ؛ الزام ہے ریاست کی زمین نجی رہائشی منصوبے کے لیے دی گئی، جبکہ علاقے سے لوگوں کو بھی زبردستی بے دخل کرنے کا الزام ہے۔ کیسے کسی کے کاروباری منصوبے کو فائدہ پہنچانے کے لیے ریاستی زمین پر سڑک جیسے سہولیاتی منصوبے کی اجازت دے دی گئی؟

جسٹس اطہر من اللہ نے مزید پوچھا کہ نجی ریائشی منصوبے کے اکثریتی شیئرز کا مالک کون ہے؟ جس پر وکیل منصوبہ نے بتایا کہ پارک ویو ہاؤسنگ سوسائٹی کے اکثریتی شیئر علیم خان کی اہلیہ کے ہیں، جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ یہ علیم خان کون ہیں؟

وکیل نجی ہاؤسنگ سوسائٹی نے عدالت کو بتایا کہ علیم خان پی ٹی آئی کے ایم پی اے اور صوبائی وزیر ہیں۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ علیم خان اتنے بااثر ہیں کہ ریاست نے اپنی زمین پرائیویٹ ہاؤسنگ سوسائٹی کو استعمال کے لیے دے دی؟

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ عدالت کیوں نہ یہ معاملہ وفاقی کابینہ کو بھجوا دے؟ کیوں نہ معاملےکی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیشن کی تشکیل کا لکھا جائے۔

وکیل نجی ہاؤسنگ سوسائٹی نے کہا کہ سی ڈی اے نے صرف سڑک بنانےکی اجازت دی جو سوسائٹی نے بنائی، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ سی ڈی اے ریاست کی زمین کیسے دے سکتا ہے؟

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ چیئرمین سی ڈی اے نے عدالت کے سامنےاعتراف کیا کہ ایسا کرنا بورڈ کی غلطی تھی، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی رپورٹ پڑھیں، قبضہ مافیا کی وجہ سےکرائم ریٹ میں اضافہ ہوا۔

چیف جسٹس اطہرمن اللہ یہ عدالت روز کہتی ہے کہ اسلام آباد میں قانون کی حکمرانی نہیں ہے۔

عدالت نے چیئرمین سی ڈی اے سے 13 اگست تک تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں