پیر, دسمبر 6 Live
Shadow
سرخیاں
امریکی سی آئی اے اہلکاروں کے ایک بار پھر کم عمر بچوں بچیوں کے ساتھ جنسی جرائم میں ملوث ہونے کا انکشافامریکہ کا مشرقی افریقہ میں تاریخ کے سب سے بڑے فوجی آپریشن کا اعلان: 1 ہزار سے زائد مزید کمانڈو تیارروسی صدر کی ثالثی: آزربائیجان اور آرمینیا کے مابین سرحدی جھڑپیں ختم، سرحدی حدود کے تعین پر اتفاق، جنگ سے متاثر آبادی اور دیگر انسانی حقوق کے تحفظ کی بھی یقین دہانینائیجیر: فرانسیسی فوج کی فائرنگ سے 2 شہری شہید، 16 زخمیامریکی فوج میں ہر 4 میں سے 1 عورت اور 5 میں سے 1 مرد جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے، بیشتر خود کشی کر لیتے، کورٹ مارشل کے خوف سے کوئی آواز نہیں اٹھاتا: سابقہ اہلکارروس کا غیر ملکی سماجی میڈیا کمپنیوں پر ملک میں کاروباری اندراج کے لیے دباؤ جاری: رواں سال کے آخر تک عمل نہ ہونے پر پابندی لگانے کا عندیاامریکہ ہائپر سونک ٹیکنالوجی میں چین اور روس سے بہت پیچھے ہے: امریکی جنرل تھامپسنامریکی تفریحی میڈیا صنعت کس عقیدے، نظریے اور مقصد کے تحت کام کرتی ہے؟چوالیس فیصد امریکی اولاد پیدا کرنے کی خواہش نہیں رکھتے: پیو سروے رپورٹچینی کمپنی ژپینگ نے جدید ترین برقی کار جی-9 متعارف کر دی: بیٹری کے معیار اور رفتار میں ٹیسلا کو بھی پیچھے چھوڑ دیا

وقت پر کھانا کھانا کتنا ضروری – نئی تحقیق کے چشم کشاء انکشافات

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ وقت بے وقت کھانا اور غذائی اوقات میں بے ترتیبی انسانی جسم کو ہمارے پچھلے تمام اندازوں سے کہیں زیادہ متاثر کرتی ہے۔

محققین کے مطابق نئی تحقیق کے بعد پتہ چلا ہے کہ جسم کے ہر خلیے کے اندر بھی 24 گھنٹے کی ایک گھڑی ہوتی ہے، جو سورج کی قدرتی روشنی اور چاند کے مدوجزر کے پیش نظر ہمارے خلیات کے ساتھ شراکت کرتے ہوئے بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف اوقات میں کام کرنے والے افراد دوسروں کے مقابلے میں بہت جلد موٹاپے اور ذیابیطس وغیرہ کے شکار بن جاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے جسم کی اندرونی گھڑیاں ایک دوسرے سے رابطے میں نہیں رہتیں۔ کیونکہ ان کے کھانے کے اوقات میں شدید بے ترتیبی ہوتی ہے۔

لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ اس کے اثرات مزید دوررس ہوسکتے ہیں کیونکہ وقت بے وقت کھانے سے جسم کے حیاتیاتی اوقات کار شدید متاثر ہوتے ہیں۔

ذیابیطس اور میٹابولزم کےمطابق ہمارے دماغ میں حیاتیاتی گھڑی ہوتی ہے جو بدن کے دیگر اعضا کی بافتوں کی اپنی قدرتی گھڑی کے ساتھ کام کرتی ہے۔ محققین نے تجربے کے دوران پایا کہ جگر کے مخصوص خلیات یعنی ہیپاٹوسائٹس کی گھڑی کو باربار متاثر کیا جاسکتا تھا۔ تاہم جوںہی ہیپاٹوسائٹس کی قدرتی ٹک ٹک خراب ہوئی خون میں ٹرائی گلیسرائیڈ یعنی کولیسٹرول کی مقدار بڑھنا شروع ہوگئی جو امراضِ قلب، بلڈ پریشر، ذیابیطس اور فالج وغیرہ کی وجہ بنتی ہے۔

تحقیق سے معلوم ہوا کہ اگر صرف ایک عضو کے خلیات کی قدرتی گھڑی متاثر ہوجاتی ہے تو اس سے کولیسٹرول کی پیداوار بڑھ جاتی ہے۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ جگر کے خلیات متاثر ہونے سے بدن کے دیگر اجسام کے خلیات کے اوقات بھی متاثر ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ اس طرح ایک عضو متاثر ہونے سے دیگر اہم اعضاء بھی خراب ہوتے ہیں۔

اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ کھانے کے وقت کا خیال نہ رکھنے سے جسم کے تمام عضو متاثر ہوتے ہیں۔ لہٰذا کھانے کے اوقات کار کو مخصوص کرنا اور اس پر پابندی کرنا ہمیں مہلک بیماریوں سے بچا سکتا ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us