جمعرات, اکتوبر 22 Live
Shadow

بین الافغان مذاکرات 16 آگست سے دوحہ میں شروع ہوں گے

افغان جیلوں سے باقی 400 طالبان قیدیوں کی رہائی کے بعد بین الافغان مذاکرات کا رستہ ہموار ہو گیا ہے۔ افغان میڈیا کے مطابق مذاکرات کے لیے 16 اگست کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔

اشرف غنی حکومت مختلف حیلوں بہانوں سے اہم طالبان رہنماؤں کی رہائی کو روکنا چاہ رہی تھی جس کے لیے آخری کوشش کے طور پر لویہ جرگہ بلا کر معاملے کو مزید سست روی میں مبتلا کرنے کی کوشش کی گئی تاہم 3400 افغان عمائدین کے مابین تین روزہ لویہ جرگہ میں بروز اتوار متفقہ فیصلہ سنایا گیا کہ تمام طالبان قیدیوں کو رہا کیا جائے۔

اس موقع پرامریکی خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد نے طالبان قیدیوں کی رہائی کے فیصلے کو سراہا اور کہا کہ قیدیوں کی رہائی کا عمل چند روز میں مکمل ہونے کی توقع ہے، جس سے افغان امن عمل میں مزید پیش رفت میں مدد ملے گی۔ جبکہ افغان نیشنل سکیورٹی کونسل کے ترجمان نے کہا کہ دو روز میں قیدیوں کی رہائی کا عمل شروع کر دیا جائے گا۔

افغان میڈیا کے مطابق اشرف غنی کے نمائندے کل دوحہ پہنچیں گے اور مذاکرات کا آغاز کیا جائے گا۔ گروہ کی سربراہی سابق انٹیلی جنس سربراہ معصوم ستانکزئی کرینگے۔ ترجمان طالبان سیاسی دفتر، سہیل شاہین نے بھی مذاکرات کے شروع ہونے کی تصدق کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات کا پہلا دور دوحہ میں ہوگا۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں