جمعرات, اکتوبر 22 Live
Shadow

ہندوستان: فیس بک پر ملک میں نفرت پھیلانے کی بحث عالمی خبروں سے عدالت اور قتل کی دھمکیوں تک پہنچ گئی

امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے بعد ہندوستانی صحافی آویش تیواری نے فیس بک کی ہندوستان میں نمائندہ انکھی داس کے خلاف مقدمہ دائر کروا دیا ہے۔ مقدمہ ہندوستان میں فرقہ وارانہ نفرت پھیلانے میں ملوث ہونے، اور اسکی حوصلہ افزائی کرنے کے الزام پر دائر کیا گیا ہے۔

حال ہی میں ‘وال سٹریٹ جرنل’ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ فیس بک ہندوستان میں بی جے پی رہنماؤں اور کارکنوں کی مبینہ اشتعال انگیز پوسٹوں کو نہ تو ہٹاتی ہے اور نہ ان کے خلاف کوئی کارروائی کرتی ہے۔

اس رپورٹ میں فیس بک کی ہندوستان میں نمائندہ انکھی داس کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہوں نے فیس بک کی مرکزی انتظامیہ کو مشورہ دیا تھا کہ اگر بی جے پی کارکنوں کی جانب سے نفرت انگیز مواد کو ہٹایا گیا تو کمپنی کے ہندوستان میں کاروباری مفادات کو نقصان ہو گا۔

اگرچہ فیس بک کے خلاف یہ الزام نیا نہیں اور اس سے قبل بھی ہندوستانی صحافی و سماجی کارکنان فیس بک پر نفرت پھیلانے میں ملوث ہونے کا الزام دھرتے رہے ہیں تاہم وال سٹریٹ جرنل میں رپورٹ کے چھپنے نے اس بحث میں نئی جان اور پختگی پیدا کر دی ہے۔

انکھی داس کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 295 اے، 505 سی (1) 506، 500 اور 34 کے تحت ایف آئی آر درج کروائی ہے۔ اور اس میں انکھی داس کے علاوہ دیگر دو افراد وویک سنہا اور رام ساہو کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔

مقدمہ درج کرنے والے صحافی آویش تیواری پچھلے کئی برسوں سے صحافت کے پیشے میں ہیں اور وہ چھتیس گڑھ حکومت کی جعلی خبروں کی کمیٹی کے رکن بھی ہیں۔ آویش تیواری کا کہنا ہے کہ ‘فیس بک یقیناً ہندوستان میں کاروبار کرنا چاہتا ہے لیکن اسے یہاں سیاست کرنے کا حق نہیں دیا جا سکتا۔ یہ کارپوریٹ اور صحافیوں کی جنگ نہیں یہ ہمارے آئین کی اقدار کے تحفظ کی لڑائی ہے۔

اس رپورٹ کی اشاعت کے بعد کانگریس پارٹی نے فیس بک اور بی جے پی کو نشانہ بنایا۔ اس کے علاوہ، متعلقہ حکام نے اس معاملے کی تحقیقات کے لیے فیس بک کے سی ای او مارک زکربرگ کو ایک خط بھی لکھا ہے۔

تاہم وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے بعد فیس بک کے ترجمان نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ فیس بک ایسے مواد پر پابندی عائد کرتا ہے جو نفرت اور تشدد کو ہوا دیتا ہے اور کسی بھی پارٹی یا سیاسی وابستگی کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی پالیسیوں کو نافذ کرتا ہے۔

جب وال اسٹریٹ جرنل کی اس خبر کے بعد پورے ملک میں تنازع پیدا ہوا تو 16 اگست کی رات ہندوستان میں فیس بک نمائندہ انکھی داس نے رائے پور کے صحافی اویش تیواری کے ساتھ ساتھ پانچ لوگوں اور دیگر نامعلوم افراد کے خلاف دہلی پولیس کے سائبر سیل میں شکایت درج کروائی۔ اس شکایت میں یہ الزام لگایا گیا تھا کہ ان لوگوں نے انکھی داس کو سوشل میڈیا پر ملنے والی پرتشدد دھمکیوں کو شیئر کیا تھا۔

اس کے بعد اگلے دن اویش تیواری نے انکھی داس کے خلاف رائے پور پولیس میں ایف آئی آر درج کروائی۔ تاہم انکھی داس کی شکایت کا ایف آئی آر میں ذکر نہیں کیا گیا ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق اویش تیواری نے 16 اگست کو امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل میں ایک مضمون پر مبنی ایک پوسٹ لکھی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ ‘انکھی داس لوک سبھا انتخابات سے قبل فیس بک کے سیاسی مفاد کے لیے ہر طرح کی نفرت انگیز تقاریر نہ ہٹانے کے لیے اپنے ماتحتوں پر دباؤ ڈال رہی تھیں ان کا کہنا تھا کہ اس سے مرکزی حکومت کے ساتھ تعلقات خراب ہو سکتے ہیں۔۔‘

اویش تیواری کے مطابق ‘فیس بک صارف رام ساہو نے مجھے اور میرے گھر کو نذر آتش کرنے کی دھمکی دی۔ اس پوسٹ کے بعد مجھے جگہ جگہ سے واٹس ایپ کالز اور پیغامات مل رہے ہیں۔ جن میں فیس بک کی ڈائریکٹر انکھی داس کا نام لے کر مجھے جان سے مارنے اور برباد کرنے کی دھمکی دی جارہی ہے۔‘

آویش تیواری نے ایف آئی آر میں الزام عائد کیا ہ کہ رام ساہو، انکھی داس اور وویک سنہا مذہبی عدم استحکام پھیلا کر انہیں بدنام کر رہے ہیں جس کی وجہ سے ان کی زندگی خطرے میں پڑ گئی ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں