اتوار, April 10 Live
Shadow
سرخیاں
افغانستان میں امریکی فوج کی جانب سے تشدد کی تربیت کے لیے بلوچی قیدی کو استعمال کرنے کا انکشافہندوستانی میزائل کا مبینہ غلطی سے پاکستانی حدود میں گرنے کا واقعہ: امریکہ کی طرف سے متعصب جبکہ چین کی جانب سے نصیحت آمیز ردعملمیٹا آسٹریلوی سیاستدانوں کو سائبر حملوں اور جھوٹی خبروں سے بچنے کی تربیت دے گییوکرین: مغربی ممالک سے آئے 180 سے زائد جنگجو ہوائی حملے میں ہلاک، روس کی مغربی ممالک کو تنبیہ، سب نشانے پر ہیں، چُن چُن کر ماریں گےاسرائیل پر تاریخ کا بڑا سائبر حملہ: وزیراعظم، وزارت داخلہ اور وزارت صیہونی بہبود کی ویب سائٹیں ہیک اور تلفروس اور یوکرین کے مابین جلد امن معاہدہ طے پا جائے گا: روسی مذاکرات کاریوکرینی مہاجرین کی تعداد 50 لاکھ سے بڑھ گئی: اقوام متحدہفیس بک اور انسٹاگرام کی شدید متعصب پالیسی کا اعلان: روسی صدر اور فوج کیخلاف نفرت اور موت کے پیغامات شائع کرنے کی اجازت، نتیجتاً مغربی ممالک میں آرتھوڈاکس کلیساؤں اور روسی کاروباروں پر حملوں کی خبریںترکی کا بھی روس کے ساتھ مقامی پیسے میں تجارت کرنے کا اعلانمغرب کے دوہرے معیار: دنیا پر روس سے تجارت پر پابندیاں، برطانیہ سمیت بیشتر مغربی ممالک روس سے گیس و تیل کی خریداری جاری رکھیں گے

چین نے کووڈ-19 ویکسین کا استعمال جولائی سے شروع کر رکھا ہے: حکام چینی محکمہ صحت

چین اپنے ضروری عملے کو جولائی سے کرونا وائرس کے خلاف تجرباتی ویکسین دے رہا ہے۔ اس بات کا انکشاف چین کے محکمۂ صحت کے اعلیٰ حکام نے کیا ہے۔ چین کے قومی صحت کے کمیشن کے سربراہ ژینگ ژونگ وائی نے کہا ہے کہ طبی عملے اور سرحدی معائنے کے عملے کو تجرباتی ویکسین جولائی سے دی جا رہی ہے۔

انہوں نے سرکاری ٹی وی سی سی ٹی وی کو بتایا کہ 22 جولائی کو جب حکومت نے ویکسین کے ’تجرباتی استعمال‘ کا منصوبہ شروع کیا تو اس کے بعد سے یہ بات ’قانون کے مطابق ہے‘ کہ خطرے سے دوچار عملے کو ویکسین دی جائے۔

انہوں نے کہا، ’چین میں اکثر مریض باہر سے آ رہے ہیں، اس لیے سرحدی عملہ زیادہ خطرے والے گروپ میں شامل ہے۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ویکسین لگانے کے پروگرام میں اگلی باری ٹرانسپورٹ کے شعبے اور جانوروں کی منڈیوں میں کام کرنے والے عملے کی ہے۔  

حکام نے بتایا کہ حکومت موسمِ خزاں اور سرما میں وبا پر قابو پانے کے لیے بھی اس پروگرام کو توسیع دے سکتی ہے۔ تاہم اخبار ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کے مطابق ژینگ نے یہ نہیں بتایا کہ کون سی تجرباتی ویکسین استعمال کروائی گئی ہے۔

اس وقت دنیا میں سات ویکسینیں ایسی ہیں جو فیز 3 سے گزر رہی ہیں جن میں چار چین نے تیار کی ہیں۔ ان میں سے دو ویکسینیں چین کی سرکاری دوا ساز کمپنی چائنا نیشنل فارماسیوٹیکل گروپ کے (ذیلی ادارے) چائنا نیشنل بائیوٹیک گروپ کی ہیں۔

’کرونا ویک‘ نامی تیسری ویکسین سائنوویک بائیوٹیک کی تیارکردہ ہے جب کہ کین سائنو بائیولاجکس چینی فوج کے تحقیقی ادارے اکیڈمی آف ملٹری میڈیکل سائنسز کے ساتھ مل کر Ad5-nCoV ویکسین پر کام کر رہا ہے۔

جولائی میں باضابطہ طور پر ’ہنگامی استعمال‘ کا پروگرام شروع ہونے سے قبل جون کے مہینے میں چینی فوج نے کین سائنو کی ویکسین کے استعمال کی منظوری دے دی تھی۔

سرکاری میڈیا نے یہ بھی کہا ہے کہ جون ہی میں سرکاری اداروں کے ان ملازمین کو دو تجرباتی ویکسینوں میں سے ایک کے استعمال کی اجازت دے دی گئی تھی جو بیرونِ ملک سفر کر رہے ہوں۔

سی این بی جی کے فیز 3 کے ٹرائل ارجنٹینا، پیرو، مراکش، بحرین اور عرب امارات میں منعقد کیے جا رہے ہیں۔ انڈونیشیا اور برازیل میں سائنو ویک کی ویکسین کرونا ویک کے فیز 3 کے تجربات ہو رہے ہیں جب کہ بعد ازاں بنگلہ دیش میں بھی اس تجرباتی ویکسین کے ٹرائل ہوں گے۔ پاکستان، سعودی عرب اور روس نے کین سائنو کمپنی کی ویکسین کے تجربات منعقد کروانے پر رضامندی ظاہر کی ہے جب کہ آخری سٹیج کے ٹرائل میکسیکو میں بھی ہوں گے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us