جمعرات, اکتوبر 22 Live
Shadow

نیا سوڈان: پومپیو کا تل ابیب سے خرطوم کی پہلی سرکاری پرواز کا اعلان

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے مقبوضہ فلسطین سے سوڈان کا براہ راست سفر کیا ہے، جس کا بظاہر پس منظر واشنگٹن اور خرطوم کے مابین تعلقات کو مزید بہتر بنانا تھا، کیونکہ عرب افریقی ریاست کی طرف کسی امریکی عہدے دار کا ڈیڑھ دہائی بعد پہلا سفر تھا، تاہم متحدہ عرب امارات کی جناب سے فلسطین پر صہیونی ریاست کے قبضے کو قبول کرنے کے بعد اس دورے کے معانے بدل گئے ہیں۔ خصوصاً جبکہ پومپیو نے مقبوضہ بیت المقدس میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ متحدہ عرب امارات کے بعد اب دیگر عرب ریاستوں کو بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے چاہیے۔

جبکہ مقبوضہ فلسطین سے سوڈانی دارالحکومت تک کا سفر کرتے ہوئے مائیک پومپیو نے طیارے سے ہی ایک ٹویٹ میں کہا کہ وہ تل ابیب سے خرطوم تک ‘پہلی براہ راست سرکاری پرواز‘ میں ہیں۔

بین السطور میں اپنے سیاسی معانی کے حوالے سے یہ مختصر سا پیغام اس لیے بہت اہم تھا کہ اسرائیل اور سوڈان تکنیکی طور پر تو آج بھی حالت جنگ میں ہیں۔

اسرائیل کے سوڈان کے ساتھ ابھی تک کوئی باقاعدہ سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔ سوڈان میں ماضی میں برس ہا برس تک اقتدار میں رہنے والے عمر حسن البشیر کی حکومت فلسطینی قوتوں کی کھلی حمایت کرتی رہی ہے۔

نیا سوڈان

تاہم گزشتہ برس سوڈان میں جمہوریت کے حق میں ہونے والے وسیع تر عوامی مظاہروں کے بعد عمر حسن البشیر کو اقتدار سے ہٹا دیا گیا تھا۔ اور خرطوم میں اب ایک عبوری حکومت قائم ہے، جو واضح اعلانات کرتی ہے کہ وہ ملک کو البشیر دور کی سیاسی میراث سے نجات دلوانا چاہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب واشنگٹن اور خرطوم کے باہمی تعلقات میں اتنی گرمجوشی آ چکی ہے کہ پندرہ سال بعد کوئی امریکی وزیر خارجہ آج منگل پچیس اگست کو اپنے سرکاری دورے پر خرطوم پہنچ گئے ہیں۔

خرطوم میں مائیک پومپیو نے ملکی وزیر اعظم عبداللہ حمدوک سے ملاقات کی اور دونوں ممالک کے باہمی تعلقات میں باقی ماندہ کھچاؤ کو ختم یا پھر کم سے کم کرنے کی کوشش کی۔ اس ملاقات کے بعد عبداللہ حمدوک نے ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں لکھا کہ ان کی پومپیو کے ساتھ ملاقات ‘شاندار‘ رہی۔

مائیک پومپیو کے اس دورہ سوڈان کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ وہ عرب دنیا کے زیادہ سے زیادہ ممالک کو صہیونی ریاست کے ساتھ بہتر سے بہتر تعلقات کے لیے سفارتی سطح پر آمادہ کر سکیں۔ تقریباﹰ یہی بات انہوں نے کل پیر کو مقبوضہ بیت المقدس میں بھی کہی تھی۔

سوڈان، عرب لیگ اور افریقی یونین دونوں میں

مشرقی افریقہ میں اب ‘نیا سوڈان‘ قرار دیا جانے والا افریقی ملک، امریکہ اور صہیونی ریاست کے لیے اس وجہ سے بہت پرکشش ہے کہ یہ افریقی ریاست برسوں سے اس 22 رکنی عرب لیگ کی رکن بھی ہے، جو مارچ 1945 میں قاہرہ میں صرف چھ عرب ریاستوں نے مل کر قائم کی تھی۔ عرب دنیا کے دو درجن کے قریب ممالک میں سے سوڈان کے ساتھ اچھے تعلقات کا مطلب باقی عرب ریاستوں کے ساتھ تعلقات کے قیام یا ان میں بہتری کا راستہ کھلنا بھی ہو گا، اور وہ بھی مشرق وسطیٰ کے علاوہ افریقہ میں بھی۔

سوڈان چونکہ مشرقی افریقہ کی ایک ریاست ہونے کی وجہ سے 55 رکنی افریقی یونین کا بھی رکن ہے، اس لیے مستقبل میں سوڈان کی سیاسی اہمیت سے اس کے ساتھ قریبی تعلقات کے حامل کسی بھی ملک کے لیے عرب دنیا اور افریقہ دونوں میں فائدہ اٹھانا آسان تر ہو جائے گا۔

خلیجی عرب ریاستوں کی سوچ

متحدہ عرب امارات کے ساتھ معاہدہ کر لینے کے بعد اسرائیل اور اس معاہدے کے لیے ثالثی کرنے والے امریکہ دونوں کو قوی امید ہے کہ اب دیگر عرب ریاستیں، خاص کر باقی ماندہ خلیجی  ممالک بھی اسرائیل کے ریاستی وجود کو باقاعدہ طور پر تسلیم کرتے ہوئے اس کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کر سکتے ہیں۔

یہ وہ پس منظر ہے، جس میں کہا جا سکتا ہے کہ اسرائیل کے عرب دنیا کے ساتھ آئندہ تعلقات پر اس وقت سیاسی اور سفارتی سمیت کئی جہتوں پر کام ہو رہا ہے۔ اس عمل میں واشنگٹن قابل فہم طور پر صہیونی ریاست کے شانہ بشانہ ہے۔ یہ سیاسی عمل کافی تیز رفتاری سے اور روزانہ کی بنیادوں پر عرب دنیا اور مجموعی طور پر افریقہ کو بھی تبدیل کرتا جا رہا ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں