اتوار, نومبر 28 Live
Shadow
سرخیاں
نائیجیر: فرانسیسی فوج کی فائرنگ سے 2 شہری شہید، 16 زخمیامریکی فوج میں ہر 4 میں سے 1 عورت اور 5 میں سے 1 مرد جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے، بیشتر خود کشی کر لیتے، کورٹ مارشل کے خوف سے کوئی آواز نہیں اٹھاتا: سابقہ اہلکارروس کا غیر ملکی سماجی میڈیا کمپنیوں پر ملک میں کاروباری اندراج کے لیے دباؤ جاری: رواں سال کے آخر تک عمل نہ ہونے پر پابندی لگانے کا عندیاامریکہ ہائپر سونک ٹیکنالوجی میں چین اور روس سے بہت پیچھے ہے: امریکی جنرل تھامپسنامریکی تفریحی میڈیا صنعت کس عقیدے، نظریے اور مقصد کے تحت کام کرتی ہے؟چوالیس فیصد امریکی اولاد پیدا کرنے کی خواہش نہیں رکھتے: پیو سروے رپورٹچینی کمپنی ژپینگ نے جدید ترین برقی کار جی-9 متعارف کر دی: بیٹری کے معیار اور رفتار میں ٹیسلا کو بھی پیچھے چھوڑ دیاماحولیاتی تحفظ کی مہم کیوں ناکام ہے؟: کینیڈی پروفیسر نے امیر مغربی ممالک کو زمہ دار ٹھہرا دیااتحادیوں کو اکیلا نہیں چھوڑا جائے گا، تحفظ ہر صورت یقینی بنائیں گے: امریکی وزیردفاعروس اس وقت آزاد دنیا کا قائد ہے: روسی پادری اعظم کا عیسائی گھرانوں کی امریکہ سے روس منتقلی پر تبصرہ

اسٹیٹ بینک کا تارکین وطن کے لیے سود پر بانڈ اور کھاتے متعارف کروانے کا فیصلہ

زر مبادلہ کے ذخائر بڑھانے کےلیے اسٹیٹ بینک نے نئی حکمت عملی بنائی ہے۔ گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نےکہا ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی آئندہ ہفتےسے ڈیجیٹل اکاؤنٹ کھول سکیں گے۔

روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کی بازگشت کئی روز سے سنائی دے رہی تھی، گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے وزیراعظم عمران خان کو ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے خدوخال اور اس کے اجراء کے بارے میں بریفنگ بھی دی تھی لیکن اب عالمی جریدے کو انٹرویو میں اکاؤنٹ کی تفصیلات فراہم کیں ہیں جس کے مطابق بیرون ملک مقیم پاکستانی روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ آٹھ مقامی بینکوں کے ذریعے ڈالر اور پاکستانی روپے میں کھول سکیں گے۔

ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے ذریعے بنیادی بینکنگ سہولت کے ساتھ ساتھ پاکستان اسٹاک ایکسچینج اور حکومت پاکستان کے تمسکات کی خریداری کی جاسکے گی۔

عالمی جریدے کے مطابق گورنر اسٹیٹ بینک نے آئندہ چند ہفتوں میں ڈالر اور روپے میں پانچ مختلف مدت کے ڈیجیٹل سرٹیفکیٹس جاری کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔ 

ڈالر سرٹیفکیٹ پر 5 سے 7 فیصد جبکہ روپے اکاؤنٹ پر 9 سے 11 فیصد منافع دیے جانےکا عندیہ دیا ہے۔

انٹرویو کے دوران گورنر اسٹیٹ بینک نے ملکی معیشت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ مہنگائی کی صورتحال سے مطمین ہیں، تاہم شرح سود کا تعین کرنے کا اختیار مانیٹری پالیسی کمیٹی کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پالیسیوں کا محور معاشی نمو اور روزگار بڑھانے پر ہے۔

ڈاکٹر رضا باقر نے کہا کہ مقامی اور برآمدی شعبے کا منظر نامہ قدرے بہتر ہے، امید ہے کہ معاشی ترقی کا سفر پائیدار ہوگا۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us