جمعرات, اکتوبر 22 Live
Shadow

سویڈن میں قرآن نذر آتش، مسلمانوں میں شدید غم و غصہ، مظاہرے، املاک کا جلاؤ گھیراؤ

يورپی ملک سويڈن ميں نسل پرست جماعت کی جانب سے قرآن پاک کے صفحات کو نذر آتش کرنے پر مسلمانوں کی جانب سے شدید احتجاج اور مظاہرے کیے گئے ہیں۔ پولیس کی بروقت کارروائی نہ کرنے اور مظاہرین پر تشدد کے باعث مظاہرے ہنگاموں میں بدل گئے اور شہریوں نے نجی و سرکاری املاک کو نظر آتش کرد یا۔

مغربی خبر رساں ادارے کے مطابق سویڈن کے شہر مالمو میں نسل پرست جماعت کی جانب سے مقدس کتاب قرآن کو نذر آتش کرنے کا اعلان کیا گیا تھا، جس میں ڈنمارک کے متعصب سیاست دان راسمس پلودن کو بھی شرکت کرنا تھی۔ تاہم شدید عوامی احتجاج کے پیش نظر پولیس نے راسمس پلودن کو قرآن نذر آتش کرنے کے اجتماع میں شرکت سے روک دیا اور ان کے ملک میں داخلے پر دو سال تک پابندی عائد کرکے واپس سرحد کی جانب بھیج دیا۔

تاہم راسمس پلودن کو روکنے کے باوجود ان کے حامیوں نے کسی دوسری جگہ اسلام مخالف اجتماع کیا جس کے دوران قرآن پاک کو نذرِ آتش کیا گیا اور اس کی ویڈیو سماجی ابلاغی ویب سائٹوں پر شائع کردی گئی۔

واقعے پر مسلمانوں کی جانب سے شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا اور وہ کثیر تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے۔ جبکہ پولیس کی جانب سے تشدد کا راستہ اختیار کرنے پر احتجاج پُر تشدد ہوگیا اور مشتعل ہجوم نے درجنوں تنصیبات کو نذر آتش کردیا۔ پتھراؤ سے پولیس اہلکار زخمی ہوگئے اور 9 مظاہرین کو حراست میں بھی لیا گیا۔

پولیس نے مظاہرین کو تحمل سے کام لینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ قرآن پاک کو جلانے کی شر انگیزی کرنے والے 3 ملزمان کو حراست میں لیا جا چکا ہے اور ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی۔

آج پاکستان سمیت متعدد ممالک میں ٹویٹر پر سویڈن رائٹس کے نام سے رحجان پہلے پانچ نمبر پر سب سے زیادہ گفتگو کیا جانے والا مدعہ رہا، جس میں دنیا بھر سے مسلمانوں کی جانب سے ناراضگی اور کچھ مغربی ممالک سمیت ہندوستانی جماعت آر ایس ایس کی جانب سے اسے مسلمانوں اور اسلام کے خلاف نفرت کو بڑھاوا دینے کے لیے استعمال کیا گیا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی ڈنمارک کی نسل پرست جماعت اسٹریم کرس کے سربراہ راسمس پلودن کو رواں سال کے اوائل میں سوشل میڈیا کھاتوں پر اسلام مخالف ویڈیو شائع کرنے کے الزام میں ایک ماہ قید میں رکھا گیا تھا۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں