بدھ, اکتوبر 21 Live
Shadow

غزہ: حماس اور صہیونی انتظامیہ میں کشیدگی ختم کروانے کیلئے قطر کی ثالثی، معاہدہ طے

ترک خبر رساں ادارے کے مطابق مقبوضہ فلسطین میں تین ہفتوں سے جاری حماس اور صہیونی افواج کے مابین حملوں کو قطر نے ثالثی کرواتے ہوئے ختم کروا دیا ہے۔

حالیہ کشیدگی میں صہیونی افواج نے 6 اگست سے تقریباً روزانہ غزہ پر فضائی حملے شروع کیے ہوئے تھے جو اس کے مطابق حماس کی جانب سے بارودی مواد سے لیس غباروں اور راکٹ حملوں کے جواب میں کیے جا رہے تھے۔

امریکی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ حماس کی جانب سے چھوڑے گئے بارودی مواد سے لیس غباروں کی وجہ سے صہیونی انتظامیہ کے علاقوں میں زرعی زمین کو نقصان ہوا ہے، جبکہ چار سو سے زائد مقامات پر آگ لگنے کے واقعات بھی پیش آئے ہیں۔

حماس کے غزہ میں رہنما یحییٰ سنوار کے دفتر سے جاری ایک بیان کے مطابق قطری ایلچی محمد ال ایمادی سے بات چیت کے بعد تازہ کشیدگی کو کم کرنے اور ہمارے لوگوں کے خلاف صہیونی جارحیت کو ختم کرنے کے لیے معاہدہ طے پایا ہے۔ جبکہ ایک مصری وفد بھی غیر رسمی امن معاہدے کی تجدید کے لیے کوشاں ہے، جس کے تحت صہیونی افواج حماس کے حملے بند کرنے کے بدلے غزہ کے 13 سال سے جاری ناکہ بندی میں نرمی کرے گی۔ اطلاعات کے مطابق قطری ایلچی ال ایمدی نے حماس کے وفد کے ساتھ مل کر تل ابیب میں صہیونی اہلکاروں سے بھی بات چیت کی ہے۔

اپنے بیان میں انہوں نے حماس کی قیادت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ غزہ کے شہریوں کی مشکل صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے صہیونی انتظامیہ کے ساتھ امن معاہدے کے لیے تیار ہے۔ اور صہیونی بستیوں پر غباروں اور دیگر حملوں کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ اب غزہ میں ایندھن کی فراہمی شروع ہو جائے گی اور بجلی کی فراہمی بھی بحال کر دی جائے گے۔

یاد رہے کہ حماس کے حملوں کے جواب میں صہیونی انتظامیہ نے غزہ کو ایندھن کی فراہمی مکمل بند کردی تھی اور اپنے بجلی گھر سےغزہ کو دی جانے والی بجلی کی فراہمی بھی دن میں محض چار گھنٹے کردی تھی۔

قطر کی ثالثی کے تحت ہونے والے امن معاہدے کے بعد غزہ کو ماہی گیری کرنے کے علاقے میں بھی 15 ناٹیکل میل کا اضافہ کیا جائے گا۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں