بدھ, ستمبر 30 Live
Shadow

کشمیر میں اردو کا مستقبل

اگست 2019 کو بھارتی حکومت نے کشمیر کی آئینی حیثیت کو بزور طاقت ختم کرکے خطے کے مسلم تشخص کو ببانگ دہل ختم کرنے کا آغاز کر دیا۔ اس میں ریاست میں اردو کی مرکزی حیثیت کو ختم کرنا اور کشمیری زبان کے رسم الخط کو بدل دینا بھی شامل ہے۔

اردو کے بارے میں مودی سرکار کے مستقبل کے پلان کا اندازہ صرف دس دن بعد اس وقت ہوا جب بھارت کے یوم آزادی 15 اگست کی سرکاری تقریب میں ریاستی گورنر ستیہ پال ملک نے اپنا خطاب شدھ ہندی میں کیا جو محصور کشمیریوں کو سرکاری ٹیلیوژن کی وساطت سے دیکھنے کو ملا۔

مجھے نہیں معلوم کہ اس پر کسی جانب سے کوئی تبصرہ بھی ہوا یا نہیں کیونکہ اس وقت ہم سب سخت ترین محاصرے میں اور بیرونی دنیا سے مکمل طور پرکٹے ہوئے تھے۔ مگر گورنر صاحب کے خطاب کے بعد ہمیں مستقبل قریب کی خوفناک صورتحال کا بخوبی ادراک ہوگیا تھا۔ اس سے پہلے کشمیر میں گورنر راج کے کئی ادوار میں سرکاری تقریبات میں تقریریں ہمیشہ اردو میں ہوا کرتی تھیں۔ 

اس سے قطع نظر کہ اس مسند پر بیٹھے زیادہ تر افراد اردو سے نابلد تھے مگر وہ ہندی املا میں اردو پڑھ کر اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرتے تھے۔ 1889میں تیسرے ڈوگرہ حکمراں مہاراجہ پرتاپ سنگھ نے فارسی کی جگہ اردو کو سرکاری زبان قرار دیا۔ 

اگرچہ فارسی دان اشرافیہ کی جانب سے اس کی بہت مخالفت کی گئی، مزید یہ کہ اردو یہاں کسی بھی علاقے میں مادری زبان کے طور پر نہیں بولی جاتی تھی مگر خطے میں رائج مختلف زبانوں جن میں کشمیری، ڈوگری، پہاڑی، گوجری، شینا، بلتی کے درمیان یہی زبان ایک آسان رابطے کا ذریعہ تھی۔ اس لئے اس زبان کو عوامی سطح پر بہت پذیرائی حاصل ہوئی۔

کشمیر میں اردو زبان و ادب کے معروف اسکالر مرحوم عبدالقادر سروری کےمطابق’’جموں اوراس کے نواح میں پنجابی، پہاڑی یا ڈوگری جوزبانیں رائج ہیں وہ اردوکی ہمزادہیں۔ ان میں صرف لفظی سرمائے کا اشتراک ہی نہیں بلکہ جملوں کی ساخت پر داخت کی مشابہت بھی موجود ہے ۔اسلئے اُردو ان علاقوں میں پہنچتے ہی ابتدائی جان پہچان کے بعد ان کی ہمجولی بننے لگی‘‘۔

مغرب میں مقیم بھارت نژاد اسکالر مریدو رائے کے بقول ڈوگروں کا طرز حکمرانی خالصتاً ہندوانہ تھا جس کی وجہ سے ان کا عمومی رویہ مسلمانوں سے معاندانہ رہا، مگر اردو کے بارے میں وہ کافی فراخ دل ثابت ہوئے اور انھوں نے اس کی ترویج و اشاعت میں کافی دلچسپی لی جو بھارتی عملداری میں بھی پہلے پہل جاری رہی۔

بھارت کے ساتھ متنازعہ الحاق کے مرکزی کردار آنجہانی شیخ عبداللہ نے 1981ء میں ریاست میں ہونے والی پہلی اردو کانفرنس میں اس زبان کی اہمیت اور افادیت کے بارے میں اپنے خطاب میں بتایا: ’’کوئی بھی شخص اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتا کہ ایک صدی سے اردو ریاست کی تین اکائیوں کشمیر، جموں اور لداخ میں رابطے کی زبان کا کام خوش اسلوبی سے انجام دیتی رہی ہے اور اس زبان میں آئندہ بھی یہ فرض ادا کرنے کی اہلیت ہے، یہی زبان پورے ملک کے ساتھ ہمارے رابطے کی زبان کا کام انجام دیتی ہے۔

اس وقت بھی ہماری ریاست کے ننانوے فیصدی اخبارات اردو میں ہی نکلتے ہیں ۔جن کے قارئین کی تعدادلاکھوں تک پہنچتی ہے اور اردو اخبار و افکارکی ترسیل کیلئے ریاست میں اب بھی سب سے بڑاذریعہ ہیں اور تہذیبی اور سماجی سطحوں پر یہی زبان ان اکائیوں کے میل میلاپ کی بنیاد ہے۔ 

اعتراف کے طور پر یہ بات عرض کرنا برمحل سمجھتا ہوں کہ ریاست کی آزادی کے خدوخال اسی زبان کے مرہون منت رہے ہیں۔ ہمارے لئے یہ بھول جانا ممکن ہی نہیں کہ ہماری آزادی کی تحریک میں اس زبان کا ایک زبردست کردار رہا ہے‘‘۔ چند دن پہلے بھارتی حکومت کے ایک اعلامیے کے مطابق اب اردو زبان کو ریاست کی واحد سرکاری زبان کی حیثیت ختم کرتے ہوئے مزید چار زبانوں کشمیری، ڈوگری، ہندی اور انگریزی کو قومی زبان کا درجہ دیا گیا۔

بظاہر یہ خطے کی دیگر زبانوں کو تسلیم کرنے کی طرف ایک مثبت قدم دکھائی دے رہا ہے مگر کشمیریوں کی غالب اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ اصل مقصد اردو اور اس سے جڑی میراث کو تحلیل کرنا ہے جسے ہندو انتہا پسند خالصتاً مسلم ثقافت کا نمائندہ سمجھتے ہیں۔ اب تو کئی ہندو انتہا پسند یہ مطالبہ بھی کررہے ہیں کہ کشمیری زبان کا رسم الخط دیوناگری میں تبدیل کردیا جائے، اگر ایسا ہوا تو کشمیری مسلمانوں کی آئندہ نسلیں اپنی تاریخی میراث سے مکمل طور پر نابلد ہوجائیں گی۔

مہمان بلاگ – مرتضیٰ شبلی

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں