Shadow
سرخیاں
مغربی طرز کی ترقی اور لبرل نظریے نے دنیا کو افراتفری، جنگوں اور بےامنی کے سوا کچھ نہیں دیا، رواں سال دنیا سے اس نظریے کا خاتمہ ہو جائے گا: ہنگری وزیراعظمامریکی جامعات میں صیہونی مظالم کے خلاف مظاہروں میں تیزی، سینکڑوں طلبہ، طالبات و پروفیسران جیل میں بندپولینڈ: یوکرینی گندم کی درآمد پر کسانوں کا احتجاج، سرحد بند کر دیخود کشی کے لیے آن لائن سہولت، بین الاقوامی نیٹ ورک ملوث، صرف برطانیہ میں 130 افراد کی موت، چشم کشا انکشافاتپوپ فرانسس کی یک صنف سماج کے نظریہ پر سخت تنقید، دور جدید کا بدترین نظریہ قرار دے دیاصدر ایردوعان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں رنگ برنگے بینروں پر اعتراض، ہم جنس پرستی سے مشابہہ قرار دے دیا، معاملہ سیکرٹری جنرل کے سامنے اٹھانے کا عندیامغرب روس کو شکست دینے کے خبط میں مبتلا ہے، یہ ان کے خود کے لیے بھی خطرناک ہے: جنرل اسمبلی اجلاس میں سرگئی لاوروو کا خطاباروناچل پردیش: 3 کھلاڑی چین اور ہندوستان کے مابین متنازعہ علاقے کی سیاست کا نشانہ بن گئے، ایشیائی کھیلوں کے مقابلے میں شامل نہ ہو سکےایشیا میں امن و استحکام کے لیے چین کا ایک اور بڑا قدم: شام کے ساتھ تذویراتی تعلقات کا اعلانامریکی تاریخ کی سب سے بڑی خفیہ و حساس دستاویزات کی چوری: انوکھے طریقے پر ادارے سر پکڑ کر بیٹھ گئے

معاشی ناہمواریاں اور کورونا: مزید 18 کروڑ افراد خط غربت سے نیچے چلے جائیں گے: نمائندہ اقوام متحدہ

کووڈ19 کی وجہ سے عالمی معاشی بدحالی 1930 کی عظیم کساد بازاری کا ریکارڈ بھی توڑ سکتی ہے۔ اقوام متحدہ کے ماہر برائے خاتمہِ غربت اولیور ڈی شٹر نے حکومتوں کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا بھر میں کساد بازاری کے خلاف کیے گئے اقدامات ناکافی ہیں۔ لوگوں کے اس کے بدترین اثرات سے بچانے کے لیے تمام حکومتوں کو مزید اقدامات کرنے کی فوری ضرورت ہے، جس میں غربت کے خاتمے اور ناہمواریوں کو کم کرنے کے لیے اقدامات پہلی ترجیح ہونے چاہیے۔

بیجیلم نژاد ماہر ڈی شٹر کا کہنا ہے کہ سماجی تحفظ کی چادر میں سینکڑوں سوراخ ہیں، اور لوگوں میں تحفظ کا احساس نہ ہونے کے برابر ہے۔ کچھ حکومتوں کے اٹھائے گئے اقدامات انتہائی وقتی ہیں، جاری کیے گئے حکومتی امدادی چندے بھی نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ایسے میں دنیا کی بڑی آبادی کساد بازاری سے متاثر ہو گی۔

عالمی ادارے کے نمائندہ نے تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ پہلے سے موجود غرباء کے علاوہ مزید 17 سے اٹھارہ کروڑ لوگ غربت کے دائرے میں گر جائیں گے۔ یعنی مستقبل قریب میں حکومتوں کی عدم توجہ کے باعث دنیا بھر میں مزید 18 کروڑ لوگ یومیہ 500 روپے سے بھی کم آمدنی پر جینے پر مجبور ہو جائیں گے۔

اقوام متحدہ کے نمائندے کا مزید کہنا ہے کہ کچھ حکومتوں کے شروع کیے منصوبے اس وجہ سے بھی ناکام رہیں گے کیونکہ انہیں ڈیجیٹل طرز پر چلایا جا رہا ہے، اور ہم سب جانتے ہیں کہ ایک غریب کی موبائل یا دیگر ڈیجیٹل آلات سے متعلق آگاہی اور انٹرنیٹ کی رسائی کی کیا صورتحال ہے۔

ڈی شٹر کا کہنا ہے کہ معاملے کی سنگینی یہ ہے کہ تمام امدادی منصوبے، لوگوں کی جمع پونجی اور قابل فروخت اثاثہ جات ختم ہوچکے ہیں اور صورتحال اب شدید تر صورتحال اختیار کرے گی۔

اس تمام صورتحال میں عالمی ماہر کا کہنا ہے کہ حکومتوں کو معاشی ناہمواریوں کو ختم کرنے کی پالیسیاں بنانی چاہیے، ورنہ غربت معاشروں میں جرائم بڑھانے کا باعث بنے گی۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

12 + fifteen =

Contact Us