بدھ, جولائی 28 Live
Shadow
سرخیاں
انٹرپول کی 47 ممالک میں بڑی کارروائی: انسانی تجارت، منشیات اور جسم فروشی کے لیے لڑکیوں کو بیچنے والے 286 افراد گرفتار، 430 افراد بازیابلبنان میں سیاسی بحران و معاشی بدحالی: ارب پتی کاروباری شخصیت اور سابق وزیراعظم نجیب میقاطی حکومت بنانے میں کامیاب، فرانسیسی منصوبے کے تحت ملک کو معاشی بدحالی سے نکالنے کا اعلانجنگی جہازوں کی دنیا میں جمہوری انقلاب: روس نے من چاہی خوبیوں کے مطابق جدید ترین جنگی جہاز تیار کرنے کی صلاحیت کا اعلان کر دیا، چیک میٹ نامی جہاز ماکس-2021 نمائش میں پیشکیوبا میں کورونا اور تالہ بندی کے باعث معاشی حالات کشیدہ: روس کا خوراک، ماسک اور ادویات کا بڑا عطیہ، پریشان شہریوں کے انتظامیہ اور امریکی پابندیوں کے خلاف بڑے مظاہرےچینی معاملات میں بیرونی مداخلت ایسے ہی ہے جیسے چیونٹی کی تناور درخت کو گرانے کی کوشش: چین نے سابق امریکی وزیر تجارت سمیت 6 افراد پر جوابی پابندیاں عائد کر دیںمغربی یورپ میں کورونا ویکسین کی لازمیت کے خلاف بڑے مظاہرے، پولیس کا تشدد، پیرس و لندن میدان جنگ بن گئے: مقررین نے ویکسین کو شیطانی ہتھیار قرار دے دیا – ویڈیوجرمنی: پولیس نے بچوں اور جانوروں سے جنسی زیادتی کی ویڈیو آن لائن پھیلانے والے 1600 افراد کا جال پکڑ لیا، مجرمانہ مواد کی تشہیر کیلئے بچوں کے استعمال کا بھی انکشافگوشت کا تبادلہصدر بائیڈن افغانستان سے انخلا پر میڈیا کے کڑے سوالوں کا شکار: کہا، امارات اسلامیہ افغانستان ۱ طاقت ضرور ہے لیکن ۳ لاکھ غنی افواج کو حاصل مدد کے جواب میں طالبان کچھ نہیں، تعاون جاری رکھا جائے گاامریکہ، برطانیہ اور ترکی کا مختلف وجوہات کے بہانے کابل میں 1000 سے زائد فوجی تعینات رکھنے کا عندیا: امارات اسلامیہ افغانستان کی معاہدے کی خلاف ورزی پر نتائج کی دھمکی

معاشی ناہمواریاں اور کورونا: مزید 18 کروڑ افراد خط غربت سے نیچے چلے جائیں گے: نمائندہ اقوام متحدہ

کووڈ19 کی وجہ سے عالمی معاشی بدحالی 1930 کی عظیم کساد بازاری کا ریکارڈ بھی توڑ سکتی ہے۔ اقوام متحدہ کے ماہر برائے خاتمہِ غربت اولیور ڈی شٹر نے حکومتوں کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا بھر میں کساد بازاری کے خلاف کیے گئے اقدامات ناکافی ہیں۔ لوگوں کے اس کے بدترین اثرات سے بچانے کے لیے تمام حکومتوں کو مزید اقدامات کرنے کی فوری ضرورت ہے، جس میں غربت کے خاتمے اور ناہمواریوں کو کم کرنے کے لیے اقدامات پہلی ترجیح ہونے چاہیے۔

بیجیلم نژاد ماہر ڈی شٹر کا کہنا ہے کہ سماجی تحفظ کی چادر میں سینکڑوں سوراخ ہیں، اور لوگوں میں تحفظ کا احساس نہ ہونے کے برابر ہے۔ کچھ حکومتوں کے اٹھائے گئے اقدامات انتہائی وقتی ہیں، جاری کیے گئے حکومتی امدادی چندے بھی نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ایسے میں دنیا کی بڑی آبادی کساد بازاری سے متاثر ہو گی۔

عالمی ادارے کے نمائندہ نے تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ پہلے سے موجود غرباء کے علاوہ مزید 17 سے اٹھارہ کروڑ لوگ غربت کے دائرے میں گر جائیں گے۔ یعنی مستقبل قریب میں حکومتوں کی عدم توجہ کے باعث دنیا بھر میں مزید 18 کروڑ لوگ یومیہ 500 روپے سے بھی کم آمدنی پر جینے پر مجبور ہو جائیں گے۔

اقوام متحدہ کے نمائندے کا مزید کہنا ہے کہ کچھ حکومتوں کے شروع کیے منصوبے اس وجہ سے بھی ناکام رہیں گے کیونکہ انہیں ڈیجیٹل طرز پر چلایا جا رہا ہے، اور ہم سب جانتے ہیں کہ ایک غریب کی موبائل یا دیگر ڈیجیٹل آلات سے متعلق آگاہی اور انٹرنیٹ کی رسائی کی کیا صورتحال ہے۔

ڈی شٹر کا کہنا ہے کہ معاملے کی سنگینی یہ ہے کہ تمام امدادی منصوبے، لوگوں کی جمع پونجی اور قابل فروخت اثاثہ جات ختم ہوچکے ہیں اور صورتحال اب شدید تر صورتحال اختیار کرے گی۔

اس تمام صورتحال میں عالمی ماہر کا کہنا ہے کہ حکومتوں کو معاشی ناہمواریوں کو ختم کرنے کی پالیسیاں بنانی چاہیے، ورنہ غربت معاشروں میں جرائم بڑھانے کا باعث بنے گی۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us