منگل, جون 15 Live
Shadow
سرخیاں
ترکی: 20 ٹن سونا اور 5 ٹن چاندی کا نیا ذخیرہ دریافت، ملکی سالانہ پیداوار 42 ٹن کا درجہ پار کر گئی، 5 برسوں میں 100 ٹن تک لے جانے کا ارادہحکومت پنجاب کا ویکسین نہ لگوانے والوں کے موبائل سم کارڈ معطل کرنے کی پالیسی لانے کا فیصلہموساد کے سابق سربراہ کا ایرانی جوہری سائنسدان اور مرکز پر سائبر حملے کا اعترافی اشارہ: ایرانی سائنسدانوں کو منصوبہ چھوڑنے پر معاونت کی پیشکش کر دییورپی اشرافیہ و ابلاغی اداروں کے برعکس شہریوں کی نمایاں تعداد نے روس کو اہم تہذیبی شراکت دار و اتحادی قرار دے دیاروسی بحریہ نے سٹیلتھ ٹیکنالوجی سے لیس جدید ترین بحری جہاز کا مکمل نمونہ تیار کر لیا: مکمل جہاز آئندہ سال فوج کے حوالے کر دیا جائےگاٹویٹر کو نائیجیریا میں دوبارہ بحالی کیلئے مقامی ابلاغی اداروں کی طرح لائسنس لینا ہو گا، اندراج کروانا ہو گا: افریقی ملک کا امریکی سماجی میڈیا کمپنی کو دو ٹوک جواب، صدر ٹرمپ کی جانب سے پابندی پر ستائش کا بیانکاراباخ آزادی جنگ: جنگی قیدی چھڑوانے کے لیے آرمینی وزیراعظم کی آزربائیجان کو بیٹے کی حوالگی کی پیشکشمجھ پر حملے سائنس پر حملے ہیں: متنازعہ امریکی مشیر صحت ڈاکٹر فاؤچی کا اپنے دفاع میں نیا متنازعہ بیان، وباء سے شدید متاثر امریکیوں کے غصے میں مزید اضافہچین 3 سال کے بچوں کو بھی کووڈ-19 ویکسین لگانے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیاایرانی رویہ جوہری معاہدے کی بحالی میں تعطل کا باعث بن سکتا ہے: امریکی وزیر خارجہ بلنکن

چین نے سفری سہولیات کو نئے عروج پر لے جانے کا عندیا دے دیا: 15 برس میں انقلاب کا منصوبہ پیش

چینی ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ آئندہ 15 سالوں میں سفری سہولت کو نئے عروج پر لے جائیں گے۔ چینی سائنس اکیڈمی سے وابستہ محقق باؤ ویمین کا کہنا ہے کہ ملکی خلائی ادارہ ایسے منصوبے پر کام کر رہا ہے جس میں دنیا میں کوئی کہیں بھی جانا چاہے، صرف ایک گھنٹے میں ایسا ممکن ہو جائے گا۔

فوزہو میں چینی خلائی کانفرنس میں خطاب کے دوران باؤ ویمین کا کہنا تھا کہ خلائی سفر کی ٹیکنالوجی میں جس رفتار سے ترقی ہورہی ہے، اور جیسے ہائپر سانک ٹیکنالوجی پوری طرح سے عملی شکل اختیار کر چکی ہے، اب وہ وقت دور نہیں جب انسان دنیا میں کہیں بھی سفر کر سکے گا، اور ایسا صرف ایک گھنٹے میں ممکن ہو گا۔

باؤ ویمین کا مزید کہنا تھا کہ 2045 تک خلائی سفر ایسے کیا جا سکے گا جیسے ہم اب ہوائی جہاز سے سفر کرتے ہیں، اور یومیہ ہزاروں مسافر خلائی دورہ کر سکیں گے۔ ہم اب دوبارہ استعمال کرنے کے قابل خلائی جہاز بنانے کے قابل ہیں، رفتار پر بھی مزید کام ہو رہا ہے جبکہ ہزاروں ٹن وذن کے ساتھ خلاء میں جانے کی صلاحیت پہ بھی مزید کام جاری ہے، ایسے میں آئندہ دس سے پندرہ سالوں میں پورا نظام اور رحجان بن جائےگا کہ لوگ جب چاہیں، جہاں چاہیں، جا سکیں۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us