جمعہ, ستمبر 24 Live
Shadow
سرخیاں
دہلی: عدالت میں مافیا گروہ کا سرغنہ قتل، وکیل کے لباس میں آئے حملہ آور بھی مارے گئے، خاتون وکیل سمیت 6 افراد زخمی – ویڈیومعروف انقلابی رہنما چی گویرا کے قتل سمیت متعدد عالمی سازشوں میں ملوث متنازعہ کیوبائی کردار فیلکس رودریگوز کو امریکہ کا تمغہ آزادی کا انعامیورپ کے لیے یہ جاگنے کا وقت ہے: چین کے خلاف آسٹریلیا کے ساتھ بننے والے نئے امریکی اتحاد پر یورپی قیادت خوف کا شکار، خارجہ پالیسی بدلنے پر زورپاکستان نے افغانستان میں امریکی جنگ کا حصہ بن کر بڑی غلطی کی: وزیراعظم عمران خان کا رشیا ٹوڈے کو انٹرویویونان: مہاجرین کی خیمہ بستی میں آگ، پناہ گزینوں کی حالت ناگفتہ بہچین کے خلاف آسٹریلیا کو جوہری آبدوز کی پیشکش: انڈونیشیا کی جانب سے تحفظات کا اظہار، خطے میں اسلحے کی نئی دوڑ کی دوہائی، جواب میں آسٹریلوی وزیر اعظم نے ملاقات کی خواہش کا اظہار کر دیاروسی انتخابات میں مداخلت کا معاملہ: وفاقی کونسل برائے قومی خودمختاری کا اجلاس منعقد، ایپل اور گوگل نے فوری متنازعہ ایپلیکیشنیں سٹور سے ہٹا دیںاقوام متحدہ کی مصنوعی ذہانت کو لے کر انسانی حقوق کی پامالی کی دوہائی، ہنگامی بنیادوں پر قانون سازی کی ضرورت پر زورپاکستان، ترکی اور آزربائیجان کی مشترکہ عسکری مشقیں (3 بھائی- 2021) باکو میں جاری – ویڈیوفرانس کا مغربی افریقہ میں داعش کے کمانڈو عدنان الصحراوی کو مارنے کا دعویٰ

تحقیق: 1٪امیرترین افراد کا رہن سہن آدھی غریب آبادی سے بھی زیادہ کاربن گیس کے اخراج کا ذمہ دار ہے

غربت کے خلاف کام کرنے والے عالمی ادارے آکسفام اور سٹاک ہوم کے ماحولیاتی ادارے نے ایک مشترکہ تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ 1990 سے 2015 کے دوران 25 سالوں میں فضاء میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں 60 فیصد اضافہ ہوا تھا۔ تفصیلات کے مطابق اس اضافے کے 15 فیصد کے ذمہ دار دنیا کے 1 فیصد امیرترین (سالانہ 1 لاکھ سے زیادہ کمائی) افراد ہیں۔ یعنی ایک فیصد امیر ترین افراد، تقریباً آدھی غریب آبادی سے بھی دوگنا زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کے ذمہ دار ہیں۔

اور اگر 10 فیصد (63 کروڑ) امیر افراد (سالانہ 35 ہزار ڈالر تک کمائی) کے رہن سہن کا جائزہ لیا جائے تو وہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے خروج میں 52 فیصد کے ذمہ دار ہیں۔

تحقیق میں تنبیہ کی گئی ہے کہ امیرزادوں کا تیز گاڑیوں کا شوق، بلاضرورت کی خریدوفروخت اور نجی پروازوں سے نام نہاد سیروسیاحت، فضاء میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اضافے کی اہم اور بڑی وجوہات ہیں۔ جبکہ اسکی قیمت نوجوان اورغریب افراد ادا کر رہے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کاربن ڈائی کسائیڈ کا یہ غیر متوازی خروج ان معاشی پالیسیوں کا نتیجہ ہے جو امیر ممالک کی حکومتوں نے دہائیوں پہلے اپنائیں اور دنیا کو موجودہ ماحولیاتی مسئلے کی طرف دھکیل دیا۔

رپورٹ میں تنبیہ کی گئی ہے کہ اگر اس رویے کو نہ روکا گیا تو آئندہ دس برسوں میں موجودہ 10 فیصد امیر افراد دنیا کے درجہ حرارت کو مزید ایک اعشاریہ پانچ ڈگری تک بڑھانے کے لیے کافی ہوں گے، پھر چاہے باقی ساری (90٪) دنیا کاربن کے اخراج کو بالکل صفر پر ہی کیوں نہ لے جائے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us