منگل, جون 15 Live
Shadow
سرخیاں
ترکی: 20 ٹن سونا اور 5 ٹن چاندی کا نیا ذخیرہ دریافت، ملکی سالانہ پیداوار 42 ٹن کا درجہ پار کر گئی، 5 برسوں میں 100 ٹن تک لے جانے کا ارادہحکومت پنجاب کا ویکسین نہ لگوانے والوں کے موبائل سم کارڈ معطل کرنے کی پالیسی لانے کا فیصلہموساد کے سابق سربراہ کا ایرانی جوہری سائنسدان اور مرکز پر سائبر حملے کا اعترافی اشارہ: ایرانی سائنسدانوں کو منصوبہ چھوڑنے پر معاونت کی پیشکش کر دییورپی اشرافیہ و ابلاغی اداروں کے برعکس شہریوں کی نمایاں تعداد نے روس کو اہم تہذیبی شراکت دار و اتحادی قرار دے دیاروسی بحریہ نے سٹیلتھ ٹیکنالوجی سے لیس جدید ترین بحری جہاز کا مکمل نمونہ تیار کر لیا: مکمل جہاز آئندہ سال فوج کے حوالے کر دیا جائےگاٹویٹر کو نائیجیریا میں دوبارہ بحالی کیلئے مقامی ابلاغی اداروں کی طرح لائسنس لینا ہو گا، اندراج کروانا ہو گا: افریقی ملک کا امریکی سماجی میڈیا کمپنی کو دو ٹوک جواب، صدر ٹرمپ کی جانب سے پابندی پر ستائش کا بیانکاراباخ آزادی جنگ: جنگی قیدی چھڑوانے کے لیے آرمینی وزیراعظم کی آزربائیجان کو بیٹے کی حوالگی کی پیشکشمجھ پر حملے سائنس پر حملے ہیں: متنازعہ امریکی مشیر صحت ڈاکٹر فاؤچی کا اپنے دفاع میں نیا متنازعہ بیان، وباء سے شدید متاثر امریکیوں کے غصے میں مزید اضافہچین 3 سال کے بچوں کو بھی کووڈ-19 ویکسین لگانے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیاایرانی رویہ جوہری معاہدے کی بحالی میں تعطل کا باعث بن سکتا ہے: امریکی وزیر خارجہ بلنکن

تحقیق: 1٪امیرترین افراد کا رہن سہن آدھی غریب آبادی سے بھی زیادہ کاربن گیس کے اخراج کا ذمہ دار ہے

غربت کے خلاف کام کرنے والے عالمی ادارے آکسفام اور سٹاک ہوم کے ماحولیاتی ادارے نے ایک مشترکہ تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ 1990 سے 2015 کے دوران 25 سالوں میں فضاء میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں 60 فیصد اضافہ ہوا تھا۔ تفصیلات کے مطابق اس اضافے کے 15 فیصد کے ذمہ دار دنیا کے 1 فیصد امیرترین (سالانہ 1 لاکھ سے زیادہ کمائی) افراد ہیں۔ یعنی ایک فیصد امیر ترین افراد، تقریباً آدھی غریب آبادی سے بھی دوگنا زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کے ذمہ دار ہیں۔

اور اگر 10 فیصد (63 کروڑ) امیر افراد (سالانہ 35 ہزار ڈالر تک کمائی) کے رہن سہن کا جائزہ لیا جائے تو وہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے خروج میں 52 فیصد کے ذمہ دار ہیں۔

تحقیق میں تنبیہ کی گئی ہے کہ امیرزادوں کا تیز گاڑیوں کا شوق، بلاضرورت کی خریدوفروخت اور نجی پروازوں سے نام نہاد سیروسیاحت، فضاء میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اضافے کی اہم اور بڑی وجوہات ہیں۔ جبکہ اسکی قیمت نوجوان اورغریب افراد ادا کر رہے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کاربن ڈائی کسائیڈ کا یہ غیر متوازی خروج ان معاشی پالیسیوں کا نتیجہ ہے جو امیر ممالک کی حکومتوں نے دہائیوں پہلے اپنائیں اور دنیا کو موجودہ ماحولیاتی مسئلے کی طرف دھکیل دیا۔

رپورٹ میں تنبیہ کی گئی ہے کہ اگر اس رویے کو نہ روکا گیا تو آئندہ دس برسوں میں موجودہ 10 فیصد امیر افراد دنیا کے درجہ حرارت کو مزید ایک اعشاریہ پانچ ڈگری تک بڑھانے کے لیے کافی ہوں گے، پھر چاہے باقی ساری (90٪) دنیا کاربن کے اخراج کو بالکل صفر پر ہی کیوں نہ لے جائے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us