اتوار, نومبر 28 Live
Shadow
سرخیاں
نائیجیر: فرانسیسی فوج کی فائرنگ سے 2 شہری شہید، 16 زخمیامریکی فوج میں ہر 4 میں سے 1 عورت اور 5 میں سے 1 مرد جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے، بیشتر خود کشی کر لیتے، کورٹ مارشل کے خوف سے کوئی آواز نہیں اٹھاتا: سابقہ اہلکارروس کا غیر ملکی سماجی میڈیا کمپنیوں پر ملک میں کاروباری اندراج کے لیے دباؤ جاری: رواں سال کے آخر تک عمل نہ ہونے پر پابندی لگانے کا عندیاامریکہ ہائپر سونک ٹیکنالوجی میں چین اور روس سے بہت پیچھے ہے: امریکی جنرل تھامپسنامریکی تفریحی میڈیا صنعت کس عقیدے، نظریے اور مقصد کے تحت کام کرتی ہے؟چوالیس فیصد امریکی اولاد پیدا کرنے کی خواہش نہیں رکھتے: پیو سروے رپورٹچینی کمپنی ژپینگ نے جدید ترین برقی کار جی-9 متعارف کر دی: بیٹری کے معیار اور رفتار میں ٹیسلا کو بھی پیچھے چھوڑ دیاماحولیاتی تحفظ کی مہم کیوں ناکام ہے؟: کینیڈی پروفیسر نے امیر مغربی ممالک کو زمہ دار ٹھہرا دیااتحادیوں کو اکیلا نہیں چھوڑا جائے گا، تحفظ ہر صورت یقینی بنائیں گے: امریکی وزیردفاعروس اس وقت آزاد دنیا کا قائد ہے: روسی پادری اعظم کا عیسائی گھرانوں کی امریکہ سے روس منتقلی پر تبصرہ

امریکہ کے پاس پہلے جیسی اثر انگیز سفارتی صلاحیت نہیں رہی، اب تو اسکے اتحادی بھی ساتھ نہیں دیتے: روسی وزیر خارجہ

روسی وزیرخارجہ نے ایران پر امریکی پابندیوں کے خلاف اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ امریکی سفارت کاری اب پہلے جیسی واضح اور اثر انگیز نہیں رہی، امریکہ اب اپنے مطالبات پورے نہ ہو سکنے پر حریف کو ڈرانے کی صلاحیت کھو چکا ہے جو اسکی کامیاب سفارت کاری کا خاصہ رہی ہے، افسوس ہے کہ اب اس کے پاس وہ مہارت نہیں ہے۔

العریبیہ کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروو کا مزید کہنا تھا کہ واشنگٹن کی جانب سے سلامتی کونسل کے ذریعے ایران پر مزید پابندیاں لگانے کی کوشش مزائقہ خیز تھی، جہاں 15 میں سے 13 ممالک نے امریکی قرارداد کو مسترد کردیا، یہاں تک کہ اسکے قریبی اتحادیوں فرانس، برطانیہ اور جرمنی نے بھی نہ صرف اسے مسترد کیا بلکہ اسے بلاجواز بھی قرار دیا۔ اور اب ردعمل میں امریکہ نے خود پابندیاں لگانے کا رستہ اپنالیا ہے، جو اتنا مؤثر نہیں ہوں گا۔

سرگئی لاوروو کا مزید کہنا تھا کہ واشنگٹن انتظامیہ ایران پر ہتھیاروں کی پابندیوں کی تجدید کی کوشش بھی کر رہی ہے، جو 18 اکتوبر کو ختم ہو رہی ہے، جبکہ اسکا بھی کوئی جواز نہیں بنتا۔ سلامتی کونسل کے تمام ارکان، خصوصاً اسکے اتحادی اسکی مخالفت کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ میں کہہ رہا ہوں کہ امریکہ کے پاس پہلے جیسے سفارت کار اور کامیاب سفارت کاری کی صلاحیت نہیں رہی۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us