اتوار, April 10 Live
Shadow
سرخیاں
افغانستان میں امریکی فوج کی جانب سے تشدد کی تربیت کے لیے بلوچی قیدی کو استعمال کرنے کا انکشافہندوستانی میزائل کا مبینہ غلطی سے پاکستانی حدود میں گرنے کا واقعہ: امریکہ کی طرف سے متعصب جبکہ چین کی جانب سے نصیحت آمیز ردعملمیٹا آسٹریلوی سیاستدانوں کو سائبر حملوں اور جھوٹی خبروں سے بچنے کی تربیت دے گییوکرین: مغربی ممالک سے آئے 180 سے زائد جنگجو ہوائی حملے میں ہلاک، روس کی مغربی ممالک کو تنبیہ، سب نشانے پر ہیں، چُن چُن کر ماریں گےاسرائیل پر تاریخ کا بڑا سائبر حملہ: وزیراعظم، وزارت داخلہ اور وزارت صیہونی بہبود کی ویب سائٹیں ہیک اور تلفروس اور یوکرین کے مابین جلد امن معاہدہ طے پا جائے گا: روسی مذاکرات کاریوکرینی مہاجرین کی تعداد 50 لاکھ سے بڑھ گئی: اقوام متحدہفیس بک اور انسٹاگرام کی شدید متعصب پالیسی کا اعلان: روسی صدر اور فوج کیخلاف نفرت اور موت کے پیغامات شائع کرنے کی اجازت، نتیجتاً مغربی ممالک میں آرتھوڈاکس کلیساؤں اور روسی کاروباروں پر حملوں کی خبریںترکی کا بھی روس کے ساتھ مقامی پیسے میں تجارت کرنے کا اعلانمغرب کے دوہرے معیار: دنیا پر روس سے تجارت پر پابندیاں، برطانیہ سمیت بیشتر مغربی ممالک روس سے گیس و تیل کی خریداری جاری رکھیں گے

امریکہ کے پاس پہلے جیسی اثر انگیز سفارتی صلاحیت نہیں رہی، اب تو اسکے اتحادی بھی ساتھ نہیں دیتے: روسی وزیر خارجہ

روسی وزیرخارجہ نے ایران پر امریکی پابندیوں کے خلاف اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ امریکی سفارت کاری اب پہلے جیسی واضح اور اثر انگیز نہیں رہی، امریکہ اب اپنے مطالبات پورے نہ ہو سکنے پر حریف کو ڈرانے کی صلاحیت کھو چکا ہے جو اسکی کامیاب سفارت کاری کا خاصہ رہی ہے، افسوس ہے کہ اب اس کے پاس وہ مہارت نہیں ہے۔

العریبیہ کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروو کا مزید کہنا تھا کہ واشنگٹن کی جانب سے سلامتی کونسل کے ذریعے ایران پر مزید پابندیاں لگانے کی کوشش مزائقہ خیز تھی، جہاں 15 میں سے 13 ممالک نے امریکی قرارداد کو مسترد کردیا، یہاں تک کہ اسکے قریبی اتحادیوں فرانس، برطانیہ اور جرمنی نے بھی نہ صرف اسے مسترد کیا بلکہ اسے بلاجواز بھی قرار دیا۔ اور اب ردعمل میں امریکہ نے خود پابندیاں لگانے کا رستہ اپنالیا ہے، جو اتنا مؤثر نہیں ہوں گا۔

سرگئی لاوروو کا مزید کہنا تھا کہ واشنگٹن انتظامیہ ایران پر ہتھیاروں کی پابندیوں کی تجدید کی کوشش بھی کر رہی ہے، جو 18 اکتوبر کو ختم ہو رہی ہے، جبکہ اسکا بھی کوئی جواز نہیں بنتا۔ سلامتی کونسل کے تمام ارکان، خصوصاً اسکے اتحادی اسکی مخالفت کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ میں کہہ رہا ہوں کہ امریکہ کے پاس پہلے جیسے سفارت کار اور کامیاب سفارت کاری کی صلاحیت نہیں رہی۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us