اتوار, جنوری 16 Live
Shadow
سرخیاں
قازقستان ہنگامے: مشترکہ تحفظ تنظیم کے سربراہ کا صورتحال پر قابو کا اعلان، امن منصوبے کی تفصیلات پیش کر دیںبرطانوی پارلیمنٹ میں منشیات کا استعمال: اسپیکر کا سونگھنے والے کتے بھرتی کرنے کا عندیاامریکی سی آئی اے اہلکاروں کے ایک بار پھر کم عمر بچوں بچیوں کے ساتھ جنسی جرائم میں ملوث ہونے کا انکشافامریکہ کا مشرقی افریقہ میں تاریخ کے سب سے بڑے فوجی آپریشن کا اعلان: 1 ہزار سے زائد مزید کمانڈو تیارروسی صدر کی ثالثی: آزربائیجان اور آرمینیا کے مابین سرحدی جھڑپیں ختم، سرحدی حدود کے تعین پر اتفاق، جنگ سے متاثر آبادی اور دیگر انسانی حقوق کے تحفظ کی بھی یقین دہانینائیجیر: فرانسیسی فوج کی فائرنگ سے 2 شہری شہید، 16 زخمیامریکی فوج میں ہر 4 میں سے 1 عورت اور 5 میں سے 1 مرد جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے، بیشتر خود کشی کر لیتے، کورٹ مارشل کے خوف سے کوئی آواز نہیں اٹھاتا: سابقہ اہلکارروس کا غیر ملکی سماجی میڈیا کمپنیوں پر ملک میں کاروباری اندراج کے لیے دباؤ جاری: رواں سال کے آخر تک عمل نہ ہونے پر پابندی لگانے کا عندیاامریکہ ہائپر سونک ٹیکنالوجی میں چین اور روس سے بہت پیچھے ہے: امریکی جنرل تھامپسنامریکی تفریحی میڈیا صنعت کس عقیدے، نظریے اور مقصد کے تحت کام کرتی ہے؟

امریکہ: ابلاغی اخلاقیات کے قانون میں ترمیم کا بل پیش، ٹیکنالوجی کمپنیوں کو سیاسی پیغامات کیساتھ چھیڑ چھاڑ اور مہم چلانے سے روک دیا گیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی میڈیا کمپنیوں کی جانب سے سیاسی پیغامات میں مداخلت کے خلاف قانون سازی کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ جاری کیے جانے والے نئے قانونی مسودے کے تحت کمپنیاں سیاسی پیغامات میں کسی قسم کی چھڑ چھاڑ نہیں کر سکیں گے۔

امریکی ذرائع ابلاغ سے گفتگو میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے طاقت کے ناجائز استعمال کے دن گنے جا چکے ہیں۔ کمپنیوں نے امریکہ میں آزاد کاروبار اور آزادی اظہار کے خلاف جنگ شروع کر رکھی ہے، یہ بائیں بازو کا آلہ کار بنی ہوئی ہیں، اور متعصب رویے کی مرتکب پائی گئی ہیں، ایک طرف یہ امریکی صدر کو نشانہ بنا رہی ہوتی ہیں، اور دوسری طرف ایرانی رہنما خمینی کی جانب سے نفرت اور موت کی دھمکیاں عام شائع ہوتی رہتی ہیں۔

پیش کیے گئے نئے قانونی مسودے کے مطابق ٹیکنالوجی کمپنیوں کو انکی سیاسی پالیسی عوام کے لیے کھل کر بیان کرنا ہو گی، اور یہ عام دستیاب بھی ہونی چاہیے۔ جبکہ ان پر بلا تفریق عملدرآمد بھی شرط ہے۔ کمپنیوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی بہانے یا دھوکے سے کسی بھی صارف کے پیغامات پہ روک نہیں لگا سکتیں، یہاں تک کہ ضرورت کے تحت بھی پہلے صارف کو بتانا ہو گا، اور صارف کے پاس اس چیز کی سہولت ہو گی کہ وہ کسی بھی قدغن سے پہلے اپنی وضاحت دے سکے۔ تاہم دہشت گردی سے متعلقہ مواد پہ یہ شرائط لاگو نہیں ہو گی۔

مسودے کے تحت کمپنیوں کو یہ قانونی حق نہیں رہا کہ وہ کسی بھی پیغام/مواد/واقعہ کی حمایت کریں یا اسے فروغ دیں، ایسا کرنا وفاقی قانون کی خلاف ورزی قرار پائے گا۔ کمپنیاں دیگر کمپنیوں یا ان پہ شائع مواد کو بھی روک نہیں سکیں گی مگر یہ کہ وہ غیر قانونی ہوں۔

صدر ٹرمپ کے مخالفین نے مسودے کی مخالفت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے نسل پرستی اور صنفی امتیاز کی حوصلہ افزائی ہو گی اور آن لائن ہراسگی میں اضافہ ہو گا۔ انکا مزید کہنا ہے کہ اس سے جھوٹی خبروں کی روک تھام میں بھی رکاوٹ آئے گی۔ صدر ٹرمپ کے مخالفین کے خیال میں بل صدر ٹرمپ کے مخالفین کی آواز بند کرنے کی ایک بھونڈی کوشش ہے۔

امریکی قانون برائے ابلاغیات کی شق 230 کمپنیوں کو انکے صارفین کیجانب سے شائع کردہ مواد کی ذمہ دار ٹھہراتی ہے۔ کمپنیاں اسی شق کی آڑ میں خصوصاً روایتی خیالات کے حامل افراد اور انکے سیاسی پیغامات کے خلاف کارروائی کر رہی ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ ماضی قریب میں اس بحث نے جنم لیا کہ کیا کمپنیوں کو یہ سیاسی حق دینا درست ہے یا نہیں؟ جس پر صدر ٹرمپ کئی بار اس شق کو ختم کرنے کا عندیا دے چکے ہیں۔

تاہم صدر ٹرمپ نے کمپنیوں کو صرف اپنی سیاسی پالیسی کو وضح کرنے اور اس پر من و عن عمل کرنے کی قانونی ترمیم کی پیشکش کی ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کے متعصب رویے سے نومبر کے انتخابات کو بچانا بہت ضروری ہے، انکا اقدام کورونا وباء کے دوران معلومات کی وباء سے امریکی عوام کو بچانے کے لیے ضروری ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us