اتوار, April 10 Live
Shadow
سرخیاں
افغانستان میں امریکی فوج کی جانب سے تشدد کی تربیت کے لیے بلوچی قیدی کو استعمال کرنے کا انکشافہندوستانی میزائل کا مبینہ غلطی سے پاکستانی حدود میں گرنے کا واقعہ: امریکہ کی طرف سے متعصب جبکہ چین کی جانب سے نصیحت آمیز ردعملمیٹا آسٹریلوی سیاستدانوں کو سائبر حملوں اور جھوٹی خبروں سے بچنے کی تربیت دے گییوکرین: مغربی ممالک سے آئے 180 سے زائد جنگجو ہوائی حملے میں ہلاک، روس کی مغربی ممالک کو تنبیہ، سب نشانے پر ہیں، چُن چُن کر ماریں گےاسرائیل پر تاریخ کا بڑا سائبر حملہ: وزیراعظم، وزارت داخلہ اور وزارت صیہونی بہبود کی ویب سائٹیں ہیک اور تلفروس اور یوکرین کے مابین جلد امن معاہدہ طے پا جائے گا: روسی مذاکرات کاریوکرینی مہاجرین کی تعداد 50 لاکھ سے بڑھ گئی: اقوام متحدہفیس بک اور انسٹاگرام کی شدید متعصب پالیسی کا اعلان: روسی صدر اور فوج کیخلاف نفرت اور موت کے پیغامات شائع کرنے کی اجازت، نتیجتاً مغربی ممالک میں آرتھوڈاکس کلیساؤں اور روسی کاروباروں پر حملوں کی خبریںترکی کا بھی روس کے ساتھ مقامی پیسے میں تجارت کرنے کا اعلانمغرب کے دوہرے معیار: دنیا پر روس سے تجارت پر پابندیاں، برطانیہ سمیت بیشتر مغربی ممالک روس سے گیس و تیل کی خریداری جاری رکھیں گے

برطانوی حکومت کی غلطی: جنسی جرائم میں ملوث 15 مجرموں کی سزا اچانک ختم

برطانیہ کی انتظامی غلطی کے باعث جنسی جرائم میں ملوث 15 مجرموں کی سزا اچانک معطل ہو گئی ہے۔ قانونی سقم کا علم 11 سال بعد ہوا۔

خبر کی تفصیل کی مطابق شمالی آئرلینڈ کی جیل میں قید جنسی جرائم میں ملوث 15 مجرموں کی سزا برطانوی حکومت کی مجرمانہ غفلت کے باعث اچانک ختم ہو گئی ہے، اگرچہ مجرم پچھلے آٹھ سال سے جیل میں سزا کاٹ رہے ہیں، تاہم ایک قانونی سقم کے سامنے آنے پر انکی سزا اچانک ختم ہو گئی ہے۔

معاملہ یوں پیش آیا ہے کہ 2009 میں جنسی جرائم کی سزاؤں کے قانون میں ترمیم کی گئی، جس میں چند جرائم کی سنوائی کا اختیار، انتظامی غلطی کے باعث مجسٹریٹ کی عدالت کے بجائے شاہی عدالت کو دے دیا گیا، اور کسی کو اس کا علم نہ ہوا۔ گزشتہ 11 سالوں سے معاملات یونہی چلتے رہے تاہم چند ہفتے قبل ایک مجرم نے سزا کے خلاف اپیل میں کہا کہ قانون کے مطابق مجسٹریٹ کی عدالت کو اختیار ہی نہیں کہ وہ اس جنسی جرم کی سماعت کر سکے۔

معاملہ خبروں کی زینت بنا تو دیگر مجرموں نے بھی انتظامی غلطی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے عدالتوں میں سزاؤں کی معطلی کی درخواست دائر کر دیں، یوں اب تک مجموعی طور پر 15 مجرموں کی سزائیں ختم ہو چکی ہیں۔

شمالی آئرلینڈ کے نشریاتی اداروں کے مطابق جرائم کے متاثرین میں 11 بچوں سمیت 17 خواتین شامل ہیں۔ جنہیں 2009 سے 2017 کے دوران جنسی زیادتیوں کا نشانہ بنایا گیا۔ متاثرہ خاندانوں کی جانب سے مجرموں کی سزائیں ختم ہونے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے، جس پر شمالی آئرلینڈ کے حکومتی وکیل نے وضاحت کی ہے کہ غلطی 2010 میں شمالی آئرلینڈ کے ساتھ انتظامی اختیارات کی تقسیم کے دوران برطانوی حکومتی ذمہ داروں سے ہوئی، معاملے کو دیکھا جا رہا ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us