اتوار, April 10 Live
Shadow
سرخیاں
افغانستان میں امریکی فوج کی جانب سے تشدد کی تربیت کے لیے بلوچی قیدی کو استعمال کرنے کا انکشافہندوستانی میزائل کا مبینہ غلطی سے پاکستانی حدود میں گرنے کا واقعہ: امریکہ کی طرف سے متعصب جبکہ چین کی جانب سے نصیحت آمیز ردعملمیٹا آسٹریلوی سیاستدانوں کو سائبر حملوں اور جھوٹی خبروں سے بچنے کی تربیت دے گییوکرین: مغربی ممالک سے آئے 180 سے زائد جنگجو ہوائی حملے میں ہلاک، روس کی مغربی ممالک کو تنبیہ، سب نشانے پر ہیں، چُن چُن کر ماریں گےاسرائیل پر تاریخ کا بڑا سائبر حملہ: وزیراعظم، وزارت داخلہ اور وزارت صیہونی بہبود کی ویب سائٹیں ہیک اور تلفروس اور یوکرین کے مابین جلد امن معاہدہ طے پا جائے گا: روسی مذاکرات کاریوکرینی مہاجرین کی تعداد 50 لاکھ سے بڑھ گئی: اقوام متحدہفیس بک اور انسٹاگرام کی شدید متعصب پالیسی کا اعلان: روسی صدر اور فوج کیخلاف نفرت اور موت کے پیغامات شائع کرنے کی اجازت، نتیجتاً مغربی ممالک میں آرتھوڈاکس کلیساؤں اور روسی کاروباروں پر حملوں کی خبریںترکی کا بھی روس کے ساتھ مقامی پیسے میں تجارت کرنے کا اعلانمغرب کے دوہرے معیار: دنیا پر روس سے تجارت پر پابندیاں، برطانیہ سمیت بیشتر مغربی ممالک روس سے گیس و تیل کی خریداری جاری رکھیں گے

ڈالر کی 60٪ تک بے قدری نوشتہ دیوار ہے، کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کون صدارتی انتخاب جیتے: امریکی مالیاتی ماہر

امریکی ڈالر قیمتی دھاتوں کا متبادل بنی رہی ہے اور اس سال کی تیسری دہائی تک سونے اور چاندی کے مساوی قدر کی حامل ایک شے کے طور پر جانی جاتی تھی، تاہم جلد ایسا نہیں رہے گا۔ یہ کہنا ہے معروف امریکی ماہر برائے مالیاتی امور پیٹر شِف کا۔

ایک مقامی معروف پاڈ کاسٹ سے گفتگو میں امریکی سٹاک بروکر کا کہنا تھا کہ ڈالر کسی نہ کسی طرح ستمبر تک اپنی قدر کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہا، ستمبر میں اس کی قدر میں دو فیصد کا معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا تاہم اب دوبارہ یہ ساڈھے تین فیصد گراوٹ کا شکار ہوا ہے، اور مجموعی طور پر اس سال کے تیسرے حصے میں اس میں مسلسل گراوٹ ہی دیکھنے میں آئی ہے۔

شِف یورو پیسفک کیپیٹل منصوبے کے سربراہ بھی ہیں، اپنے تجربے کی بنیاد پر کہتے ہیں کہ سال کے آخری حصے میں ڈالر کو شدید مندی دیکھنے کو مل سکتی ہے، رواں سال کے چوتھے حصے میں نہ صرف بانڈ مارکیٹ بلکہ حصص بازار میں بھی ڈالر منفی رحجان کے سفر کو جاری رکھے گا۔

مالیاتی امور کے ماہر کا مزید کہنا ہے کہ ڈالر کی مانگ میں گراوٹ اسے آئندہ ایک سال، یا زیادہ سے زیادہ دو سالوں میں انتہائی بے قدر کر دے گی۔ مجموعی طور پر یہ بےقدری 60 فیصد تک جا سکتی ہے، اور اگر یہ کم از کم 40 فیصد تک جائے تو مجھے بالکل حیرانی نہ ہو گی۔

شِف نے مزید واضح کیا کہ، ڈالر کی بے قدری کے جاری عمل کا آئندہ انتخابات سے کوئی تعلق نہیں ہے، ڈالر کی قدر دیگر وجوہات کی وجہ سے گرے گی، اور اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا کہ آئندہ کونسا صدارتی امیدوار کامیاب رہتا ہے۔ تاہم اگر جو بائیڈن جیتتا ہے تو یہ حصص بازار کے لیے زیادہ منفی ہو گا، کیونکہ ڈیموکریٹک امیدوار کارپوریٹ پر ٹیکس بڑھانے کاعندیا دے چکے ہیں۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us