اتوار, نومبر 28 Live
Shadow
سرخیاں
نائیجیر: فرانسیسی فوج کی فائرنگ سے 2 شہری شہید، 16 زخمیامریکی فوج میں ہر 4 میں سے 1 عورت اور 5 میں سے 1 مرد جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے، بیشتر خود کشی کر لیتے، کورٹ مارشل کے خوف سے کوئی آواز نہیں اٹھاتا: سابقہ اہلکارروس کا غیر ملکی سماجی میڈیا کمپنیوں پر ملک میں کاروباری اندراج کے لیے دباؤ جاری: رواں سال کے آخر تک عمل نہ ہونے پر پابندی لگانے کا عندیاامریکہ ہائپر سونک ٹیکنالوجی میں چین اور روس سے بہت پیچھے ہے: امریکی جنرل تھامپسنامریکی تفریحی میڈیا صنعت کس عقیدے، نظریے اور مقصد کے تحت کام کرتی ہے؟چوالیس فیصد امریکی اولاد پیدا کرنے کی خواہش نہیں رکھتے: پیو سروے رپورٹچینی کمپنی ژپینگ نے جدید ترین برقی کار جی-9 متعارف کر دی: بیٹری کے معیار اور رفتار میں ٹیسلا کو بھی پیچھے چھوڑ دیاماحولیاتی تحفظ کی مہم کیوں ناکام ہے؟: کینیڈی پروفیسر نے امیر مغربی ممالک کو زمہ دار ٹھہرا دیااتحادیوں کو اکیلا نہیں چھوڑا جائے گا، تحفظ ہر صورت یقینی بنائیں گے: امریکی وزیردفاعروس اس وقت آزاد دنیا کا قائد ہے: روسی پادری اعظم کا عیسائی گھرانوں کی امریکہ سے روس منتقلی پر تبصرہ

امریکی شعبہ صحت کے ڈیجیٹل نظام پر ممکنہ سائبر حملے: لبرل میڈیا نے بغیر ثبوت کے روس کے خلاف پراپیگنڈا شروع کر دیا

امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے تنبیہ جاری کی ہے کہ ملکی اسپتالوں کے آن لائن نظام پر سائبر حملہ ہو سکتا ہے، جس پر امریکی میڈیا نے بغیر تحقیقات کے الزام روس پر دھر دیا ہے اور عوام میں کووڈ19 وباء کے دوران روس کے خلاف نفرت پھیلانے کی ایک بھونڈی کوشش شروع کر دی ہے۔

ایف بی آئی اور سائبر سکیورٹی ایجنسی کے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ نامعلوم ہیکروں کا گروہ شعبہ صحت کے ڈیجیٹل نظام پر ٹرِک بوٹ مال ویئر کےذریعے حملے کی کوشش کر رہا ہے، جس سے سارا نظام ٹھپ ہو سکتا ہے، عوامی ڈیٹا چوری ہو سکتا ہے یا عوامی صحت کی سہولیات میں رکاوٹ آسکتی ہے۔

مشترکہ اعلامیے میں سکیورٹی ایجنسیوں نے متعلقہ شعبے کو متبادل نظام کے لیے تیار رہنے کا کہا ہے تاکہ وباء کے دوران صحت کی سہولیات میں رکاوٹ نہ آسکے۔ اداروں نے کسی ہیکر گروہ کا نام یا انکی پہچان کی وضاحت جاری نہیں کی ہے تاہم امریکہ کے تمام لبرل میڈیا بشمول بڑے نشریاتی اداروں نیو یارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ اور ایسوسی ایٹڈ پریس نے بلاتاخیر و تحقیقات روس پر الزام لگا کر امریکی عوام میں نفرت کا پرچار شروع کر دیا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے مختلف تجزیہ کاروں کی مدد سے اپنے تیار کردہ جھوٹ کو ثابت کرنے کی کوشش میں مشغول ہیں تاہم اس بات کو ماننے پر بھی مجبور ہیں کہ ان کے پاس اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ روس یا روسی حکومت ان حملوں میں ملوث ہے۔

ایک تجزیہ کار نے نفرت کے پرچار میں یہاں تک کہا ہے کہ روسی ہیکر عمومی طور پر سارے نقصان کا دس فیصد طلب کرتے ہیں، جو پرانی روسی روایت ہے جس میں لوگ اور حکومت اپنے سالانہ منافع کا دس فیصد چرچ کو دیتے تھے، اگرچہ یہ روایت صرف روس میں نہیں ساری عیسائی دنیا میں قائم تھی۔

واضح رہے کہ گزشتہ امریکی انتخابات میں بھی ڈیموکریٹ جماعت اور اسکے حامی لبرل میڈیا نے روس پر صدر ٹرمپ کو جتوانے کا الزام لگایا تھا تاہم تحقیقات کے بعد یہ ثابت ہو گیا تھا کہ صدر ٹرمپ کی جیت میں روس کا کوئی عمل دخل نہیں تھا۔ تاہم ڈیموکریٹ جماعت اب بھی اس پراپیگنڈے کو بھرپور استعمال کر رہی ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us