اتوار, نومبر 28 Live
Shadow
سرخیاں
نائیجیر: فرانسیسی فوج کی فائرنگ سے 2 شہری شہید، 16 زخمیامریکی فوج میں ہر 4 میں سے 1 عورت اور 5 میں سے 1 مرد جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے، بیشتر خود کشی کر لیتے، کورٹ مارشل کے خوف سے کوئی آواز نہیں اٹھاتا: سابقہ اہلکارروس کا غیر ملکی سماجی میڈیا کمپنیوں پر ملک میں کاروباری اندراج کے لیے دباؤ جاری: رواں سال کے آخر تک عمل نہ ہونے پر پابندی لگانے کا عندیاامریکہ ہائپر سونک ٹیکنالوجی میں چین اور روس سے بہت پیچھے ہے: امریکی جنرل تھامپسنامریکی تفریحی میڈیا صنعت کس عقیدے، نظریے اور مقصد کے تحت کام کرتی ہے؟چوالیس فیصد امریکی اولاد پیدا کرنے کی خواہش نہیں رکھتے: پیو سروے رپورٹچینی کمپنی ژپینگ نے جدید ترین برقی کار جی-9 متعارف کر دی: بیٹری کے معیار اور رفتار میں ٹیسلا کو بھی پیچھے چھوڑ دیاماحولیاتی تحفظ کی مہم کیوں ناکام ہے؟: کینیڈی پروفیسر نے امیر مغربی ممالک کو زمہ دار ٹھہرا دیااتحادیوں کو اکیلا نہیں چھوڑا جائے گا، تحفظ ہر صورت یقینی بنائیں گے: امریکی وزیردفاعروس اس وقت آزاد دنیا کا قائد ہے: روسی پادری اعظم کا عیسائی گھرانوں کی امریکہ سے روس منتقلی پر تبصرہ

داعش نے ویانا حملے کی ذمہ داری قبول کر لی: ویانا پولیس نے حملہ آور سے تعلق کے شبہے میں 18 جبکہ سوئس نے 2 افراد گرفتار کر لیے

یورپی ذرائع ابلاغ کے مطابق سوئٹزرلینڈ کی پولیس نے ویانا حملے میں مبینہ طور پر ملوث دو افراد کو گرفتار کیا ہےجبکہ داعش نے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

سوموار کو ہونے والے حملے میں 4 افراد ہلاک جبکہ 22 کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں جن میں ایک پولیس والا بھی شامل ہے۔

واقعے میں ملوث ہونے کے الزام میں سوئس پولیس نے 18 اور 24 سال کے دو جوانوں کو ونٹرتھر نامی شہر سے گرفتار کیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار شدہ افراد حملے میں کس حد تک مددگار تھے ابھی اس کی تحقیقات جاری ہیں، تاہم حملہ آور اور گرفتار افراد میں تعلق کے ثبوت ملے ہیں۔

دوسری طرف ویانا انتظامیہ نے حملے میں ملوث ہونے کے شبہے میں حملہ آور کے گھر کے اردگرد کے علاقے سے 18 افراد کو گرفتار کیا ہے۔

یاد رہے کہ حملہ آور مقامی شہری تھا اور حکومت اسے 2019 میں شام جانے کی کوشش میں گرفتار کر کے 22 ماہ کی سزا دلوا چکی تھی، تاہم حملہ آور دسمبر میں پیرول پر جیل سے باہر نکل آیا تھا۔ حملہ آور کے والدین کا تعلق مقدونیہ سے بتایا جاتا ہے۔

آسٹریا کی وزارت داخلہ کے مطابق حملہ آور کو شدت پسندی کے اثرات سے نکالنے کے لیے خصوصی تعلیمی پروگرام میں بھی داخل کروایا گیا تھا تاہم اس کے حملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس پروگرام کا اس پر کوئی اثر نہ ہوا، اگرچہ اسکے اساتذہ بھی اس سے کافی حد تک مطمئن تھے۔

واضح رہے کہ ویانا حملے کی دنیا بھر میں مذمت کی گئی ہے جبکہ برطانیہ نے ملک میں خطرے کی سطح کو عمومی سے انتہائی زیادہ کہا ہے، یعنی برطانیہ میں بھی حملے کا خطرہ موجود ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us