ہفتہ, April 9 Live
Shadow
سرخیاں
افغانستان میں امریکی فوج کی جانب سے تشدد کی تربیت کے لیے بلوچی قیدی کو استعمال کرنے کا انکشافہندوستانی میزائل کا مبینہ غلطی سے پاکستانی حدود میں گرنے کا واقعہ: امریکہ کی طرف سے متعصب جبکہ چین کی جانب سے نصیحت آمیز ردعملمیٹا آسٹریلوی سیاستدانوں کو سائبر حملوں اور جھوٹی خبروں سے بچنے کی تربیت دے گییوکرین: مغربی ممالک سے آئے 180 سے زائد جنگجو ہوائی حملے میں ہلاک، روس کی مغربی ممالک کو تنبیہ، سب نشانے پر ہیں، چُن چُن کر ماریں گےاسرائیل پر تاریخ کا بڑا سائبر حملہ: وزیراعظم، وزارت داخلہ اور وزارت صیہونی بہبود کی ویب سائٹیں ہیک اور تلفروس اور یوکرین کے مابین جلد امن معاہدہ طے پا جائے گا: روسی مذاکرات کاریوکرینی مہاجرین کی تعداد 50 لاکھ سے بڑھ گئی: اقوام متحدہفیس بک اور انسٹاگرام کی شدید متعصب پالیسی کا اعلان: روسی صدر اور فوج کیخلاف نفرت اور موت کے پیغامات شائع کرنے کی اجازت، نتیجتاً مغربی ممالک میں آرتھوڈاکس کلیساؤں اور روسی کاروباروں پر حملوں کی خبریںترکی کا بھی روس کے ساتھ مقامی پیسے میں تجارت کرنے کا اعلانمغرب کے دوہرے معیار: دنیا پر روس سے تجارت پر پابندیاں، برطانیہ سمیت بیشتر مغربی ممالک روس سے گیس و تیل کی خریداری جاری رکھیں گے

امریکی انتخابی نتائج پر کشیدگی جاری رہنے کا امکان: عوامی سروے کے مطابق ٹرمپ کے 82٪ حمایتی مانتے ہیں کہ بائیڈن دھاندلی سے جیتے، 75٪ کے مطابق صدر کو اقتدار نہیں چھوڑنا چاہیے

امریکی انتخابی نتائج پر جماعتوں اور انکے حمائتیوں کے جھگڑوں کا سلسلہ جاری ہے، اور اسکے تسلسل کی عکاسی سامنے آنے والی عوامی رائے پر مبنی ایک تحقیق سے بھی ہو رہی ہے۔

ایک امریکی نشریاتی ادارے کے سروے کے مطابق اگرچہ ووٹروں کی اکثریت چاہتی ہے کہ انتخابات کو مانتے ہوئے آگے چلا جائے تاہم صدر ٹرمپ کے حمائیتوں میں سے نصف کی رائے اس سے برعکس ہے، جبکہ انکی اکثریت جوبائیڈن کو قانونی صدر بھی نہیں مانتی۔

صرف 62 فیصد امریکیوں کی رائے میں انتخابی دنگل کی دھول چھٹ گئی ہے اور اب معاملات کو آگے چلانا چاہیے۔ 38 فیصد ووٹروں کی رائے میں جوبائیڈن قانونی فاتح نہیں ہیں، اور 25 فیصد عمومی آبادی کی رائے میں صدر ٹرمپ کو انتخابی نتائج نہیں ماننے چاہیے۔ تاہم یہ تعداد ٹرمپ کے حمائتیوں میں معاشرتی تفریق کو انتہائی واضح کرتی ہے۔ جہاں 82 فیصد کی رائے میں انتخابات شفاف نہیں اور بائیڈن غیر قانونی طریقے سے جیتے، اور 75٪ کی رائے میں صدر کو اقتدار چھوڑنا ہی نہیں چاہیے۔

سروے پر امریکی سیاسی ماہرین اور عوام نے بھی خوف کا اظہار کیا ہے، اور اسے مزید کشیدگی کا آئینہ قرار دیا ہے۔

رواں ماہ کے آغاز میں کیے ایک جامعہ کے سروے میں بھی ملتے جھلتے نتائج سامنے آئے تھے، جس میں 77 فیصد ریپبلک انتخابات کو دھاندلی شدہ مانتے ہیں، جبکہ 60 فیصد نے انتخابات کو مانتے ہوئے آگے چلنے کا کہا تھا۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us