اتوار, نومبر 28 Live
Shadow
سرخیاں
نائیجیر: فرانسیسی فوج کی فائرنگ سے 2 شہری شہید، 16 زخمیامریکی فوج میں ہر 4 میں سے 1 عورت اور 5 میں سے 1 مرد جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے، بیشتر خود کشی کر لیتے، کورٹ مارشل کے خوف سے کوئی آواز نہیں اٹھاتا: سابقہ اہلکارروس کا غیر ملکی سماجی میڈیا کمپنیوں پر ملک میں کاروباری اندراج کے لیے دباؤ جاری: رواں سال کے آخر تک عمل نہ ہونے پر پابندی لگانے کا عندیاامریکہ ہائپر سونک ٹیکنالوجی میں چین اور روس سے بہت پیچھے ہے: امریکی جنرل تھامپسنامریکی تفریحی میڈیا صنعت کس عقیدے، نظریے اور مقصد کے تحت کام کرتی ہے؟چوالیس فیصد امریکی اولاد پیدا کرنے کی خواہش نہیں رکھتے: پیو سروے رپورٹچینی کمپنی ژپینگ نے جدید ترین برقی کار جی-9 متعارف کر دی: بیٹری کے معیار اور رفتار میں ٹیسلا کو بھی پیچھے چھوڑ دیاماحولیاتی تحفظ کی مہم کیوں ناکام ہے؟: کینیڈی پروفیسر نے امیر مغربی ممالک کو زمہ دار ٹھہرا دیااتحادیوں کو اکیلا نہیں چھوڑا جائے گا، تحفظ ہر صورت یقینی بنائیں گے: امریکی وزیردفاعروس اس وقت آزاد دنیا کا قائد ہے: روسی پادری اعظم کا عیسائی گھرانوں کی امریکہ سے روس منتقلی پر تبصرہ

امریکی انتخابی نتائج پر کشیدگی جاری رہنے کا امکان: عوامی سروے کے مطابق ٹرمپ کے 82٪ حمایتی مانتے ہیں کہ بائیڈن دھاندلی سے جیتے، 75٪ کے مطابق صدر کو اقتدار نہیں چھوڑنا چاہیے

امریکی انتخابی نتائج پر جماعتوں اور انکے حمائتیوں کے جھگڑوں کا سلسلہ جاری ہے، اور اسکے تسلسل کی عکاسی سامنے آنے والی عوامی رائے پر مبنی ایک تحقیق سے بھی ہو رہی ہے۔

ایک امریکی نشریاتی ادارے کے سروے کے مطابق اگرچہ ووٹروں کی اکثریت چاہتی ہے کہ انتخابات کو مانتے ہوئے آگے چلا جائے تاہم صدر ٹرمپ کے حمائیتوں میں سے نصف کی رائے اس سے برعکس ہے، جبکہ انکی اکثریت جوبائیڈن کو قانونی صدر بھی نہیں مانتی۔

صرف 62 فیصد امریکیوں کی رائے میں انتخابی دنگل کی دھول چھٹ گئی ہے اور اب معاملات کو آگے چلانا چاہیے۔ 38 فیصد ووٹروں کی رائے میں جوبائیڈن قانونی فاتح نہیں ہیں، اور 25 فیصد عمومی آبادی کی رائے میں صدر ٹرمپ کو انتخابی نتائج نہیں ماننے چاہیے۔ تاہم یہ تعداد ٹرمپ کے حمائتیوں میں معاشرتی تفریق کو انتہائی واضح کرتی ہے۔ جہاں 82 فیصد کی رائے میں انتخابات شفاف نہیں اور بائیڈن غیر قانونی طریقے سے جیتے، اور 75٪ کی رائے میں صدر کو اقتدار چھوڑنا ہی نہیں چاہیے۔

سروے پر امریکی سیاسی ماہرین اور عوام نے بھی خوف کا اظہار کیا ہے، اور اسے مزید کشیدگی کا آئینہ قرار دیا ہے۔

رواں ماہ کے آغاز میں کیے ایک جامعہ کے سروے میں بھی ملتے جھلتے نتائج سامنے آئے تھے، جس میں 77 فیصد ریپبلک انتخابات کو دھاندلی شدہ مانتے ہیں، جبکہ 60 فیصد نے انتخابات کو مانتے ہوئے آگے چلنے کا کہا تھا۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us