پیر, جون 14 Live
Shadow
سرخیاں
ترکی: 20 ٹن سونا اور 5 ٹن چاندی کا نیا ذخیرہ دریافت، ملکی سالانہ پیداوار 42 ٹن کا درجہ پار کر گئی، 5 برسوں میں 100 ٹن تک لے جانے کا ارادہحکومت پنجاب کا ویکسین نہ لگوانے والوں کے موبائل سم کارڈ معطل کرنے کی پالیسی لانے کا فیصلہموساد کے سابق سربراہ کا ایرانی جوہری سائنسدان اور مرکز پر سائبر حملے کا اعترافی اشارہ: ایرانی سائنسدانوں کو منصوبہ چھوڑنے پر معاونت کی پیشکش کر دییورپی اشرافیہ و ابلاغی اداروں کے برعکس شہریوں کی نمایاں تعداد نے روس کو اہم تہذیبی شراکت دار و اتحادی قرار دے دیاروسی بحریہ نے سٹیلتھ ٹیکنالوجی سے لیس جدید ترین بحری جہاز کا مکمل نمونہ تیار کر لیا: مکمل جہاز آئندہ سال فوج کے حوالے کر دیا جائےگاٹویٹر کو نائیجیریا میں دوبارہ بحالی کیلئے مقامی ابلاغی اداروں کی طرح لائسنس لینا ہو گا، اندراج کروانا ہو گا: افریقی ملک کا امریکی سماجی میڈیا کمپنی کو دو ٹوک جواب، صدر ٹرمپ کی جانب سے پابندی پر ستائش کا بیانکاراباخ آزادی جنگ: جنگی قیدی چھڑوانے کے لیے آرمینی وزیراعظم کی آزربائیجان کو بیٹے کی حوالگی کی پیشکشمجھ پر حملے سائنس پر حملے ہیں: متنازعہ امریکی مشیر صحت ڈاکٹر فاؤچی کا اپنے دفاع میں نیا متنازعہ بیان، وباء سے شدید متاثر امریکیوں کے غصے میں مزید اضافہچین 3 سال کے بچوں کو بھی کووڈ-19 ویکسین لگانے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیاایرانی رویہ جوہری معاہدے کی بحالی میں تعطل کا باعث بن سکتا ہے: امریکی وزیر خارجہ بلنکن

امریکی انتخابی نتائج پر کشیدگی جاری رہنے کا امکان: عوامی سروے کے مطابق ٹرمپ کے 82٪ حمایتی مانتے ہیں کہ بائیڈن دھاندلی سے جیتے، 75٪ کے مطابق صدر کو اقتدار نہیں چھوڑنا چاہیے

امریکی انتخابی نتائج پر جماعتوں اور انکے حمائتیوں کے جھگڑوں کا سلسلہ جاری ہے، اور اسکے تسلسل کی عکاسی سامنے آنے والی عوامی رائے پر مبنی ایک تحقیق سے بھی ہو رہی ہے۔

ایک امریکی نشریاتی ادارے کے سروے کے مطابق اگرچہ ووٹروں کی اکثریت چاہتی ہے کہ انتخابات کو مانتے ہوئے آگے چلا جائے تاہم صدر ٹرمپ کے حمائیتوں میں سے نصف کی رائے اس سے برعکس ہے، جبکہ انکی اکثریت جوبائیڈن کو قانونی صدر بھی نہیں مانتی۔

صرف 62 فیصد امریکیوں کی رائے میں انتخابی دنگل کی دھول چھٹ گئی ہے اور اب معاملات کو آگے چلانا چاہیے۔ 38 فیصد ووٹروں کی رائے میں جوبائیڈن قانونی فاتح نہیں ہیں، اور 25 فیصد عمومی آبادی کی رائے میں صدر ٹرمپ کو انتخابی نتائج نہیں ماننے چاہیے۔ تاہم یہ تعداد ٹرمپ کے حمائتیوں میں معاشرتی تفریق کو انتہائی واضح کرتی ہے۔ جہاں 82 فیصد کی رائے میں انتخابات شفاف نہیں اور بائیڈن غیر قانونی طریقے سے جیتے، اور 75٪ کی رائے میں صدر کو اقتدار چھوڑنا ہی نہیں چاہیے۔

سروے پر امریکی سیاسی ماہرین اور عوام نے بھی خوف کا اظہار کیا ہے، اور اسے مزید کشیدگی کا آئینہ قرار دیا ہے۔

رواں ماہ کے آغاز میں کیے ایک جامعہ کے سروے میں بھی ملتے جھلتے نتائج سامنے آئے تھے، جس میں 77 فیصد ریپبلک انتخابات کو دھاندلی شدہ مانتے ہیں، جبکہ 60 فیصد نے انتخابات کو مانتے ہوئے آگے چلنے کا کہا تھا۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us