ہفتہ, جنوری 15 Live
Shadow
سرخیاں
قازقستان ہنگامے: مشترکہ تحفظ تنظیم کے سربراہ کا صورتحال پر قابو کا اعلان، امن منصوبے کی تفصیلات پیش کر دیںبرطانوی پارلیمنٹ میں منشیات کا استعمال: اسپیکر کا سونگھنے والے کتے بھرتی کرنے کا عندیاامریکی سی آئی اے اہلکاروں کے ایک بار پھر کم عمر بچوں بچیوں کے ساتھ جنسی جرائم میں ملوث ہونے کا انکشافامریکہ کا مشرقی افریقہ میں تاریخ کے سب سے بڑے فوجی آپریشن کا اعلان: 1 ہزار سے زائد مزید کمانڈو تیارروسی صدر کی ثالثی: آزربائیجان اور آرمینیا کے مابین سرحدی جھڑپیں ختم، سرحدی حدود کے تعین پر اتفاق، جنگ سے متاثر آبادی اور دیگر انسانی حقوق کے تحفظ کی بھی یقین دہانینائیجیر: فرانسیسی فوج کی فائرنگ سے 2 شہری شہید، 16 زخمیامریکی فوج میں ہر 4 میں سے 1 عورت اور 5 میں سے 1 مرد جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے، بیشتر خود کشی کر لیتے، کورٹ مارشل کے خوف سے کوئی آواز نہیں اٹھاتا: سابقہ اہلکارروس کا غیر ملکی سماجی میڈیا کمپنیوں پر ملک میں کاروباری اندراج کے لیے دباؤ جاری: رواں سال کے آخر تک عمل نہ ہونے پر پابندی لگانے کا عندیاامریکہ ہائپر سونک ٹیکنالوجی میں چین اور روس سے بہت پیچھے ہے: امریکی جنرل تھامپسنامریکی تفریحی میڈیا صنعت کس عقیدے، نظریے اور مقصد کے تحت کام کرتی ہے؟

کمیونسٹ نظریات سے متاثر ہو کر سوویت یونین کے لیے کام کرنے والے برطانوی جاسوس جارج بلیک کا ماسکو میں انتقال

معروف برطانوی جاسوس جارج بلیک ماسکو میں 98 سال کی عمر میں وفات پا گئے ہیں، جارج بلیک کی شہرت کی وجہ انکی شراکیت کے نظام کے ساتھ وابستگی کی وجہ سے سوویت یونین کے لیے دوہرے جاسوس کے طور پر کام کرنے کی وجہ سے تھی۔ زندگی کے آخر تک اپنے کام اور وابستگی پر بلا پچھتاوے فخر کرنے والے برطانوی کمیونسٹ کو روس میں کرنل کے اعزازی عہدے سے نوازا گیا تھا۔

آج صبح روسی ذرائع ابلاغ نے حساس ادارے کا حوالہ دیتے ہوئے جارج بلیک کی موت کی اطلاع میں کہا کہ ہمارے پاس ایک انتہائی بری خبر ہے، عظیم جارج بلیک وفات پا گئے ہیں۔

جارج بلیک برطانوی خفیہ ادارے ایم آئی 6 کا اہلکار تھا، جو کوریا میں قید کے دوران کمیونسٹ نظریات سے شدید متاثر ہوا اور اس وابستگی میں سوویت یونین کا حامی ہو گیا۔ جارج نے سوویت یونین کی خفیہ ایجنسی کو اپنے ملک اور امریکہ کے ایک بڑے منصوبے کی اطلاع دی جس کے باعث مغربی اتحاد کو شدید دھچکا پہنچا۔ جارج بلیک نے بتایا کہ امریکہ اور برطانیہ مل کر جرمنی کے دارلحکومت برلن کے سوویت حصے میں ایک زیر زمین سرنگ کے ذریعے تاروں سے ہونے والی ابلاغیات تک رسائی حاصل کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں، جس کا مطلب تھا کہ سوویت عسکری قیادت کی حساس معلومات تک رسائی کو حاصل کرنا۔ سوویت یونین کو اس سرنگ کا سراغ لگانے میں دو سال لگے، اس دوران سوویت یونین نے مغربی جاسوسوں کو بھی گمراہ رکھا، اور اس راز کا جارج بلیک کے ذریعے افشاں ہونے کا علم بھی برطانوی خفیہ ایجنسی کو دس سال بعد لگا، جب برطانیہ کو جارج کے دوہرے جاسوس ہونے کا علم ہوا۔،

جارج بلیک کو ایم آئی 6 نے 1961 میں خفیہ معلومات سوویت یونین کے جاسوس ادارے کے جی بی کو فراہم کرتے پکڑ لیا تھا، اور اسے 42 سال جیل کی سزا سنائی گئی تھی۔ لیکن یہ جیل بھی جارج بلیک کو زیادہ عرصہ قید نہ رکھ سکی اور وہ 1966 میں لندن جیل سے فرار ہو کر مشرقی جرمنی پہنچ گیا۔

روسی نشریاتی اداروں کے مطابق جارج بلیک بڑھتی عمر کے باوجود سوویت یونین کے لیے متحرک طور پر کام کرتا رہا، اور روسی خفیہ حلقے کا ایک بڑا نام تھا۔ جارج کو روس نے 2007 میں دوستی کے اعلیٰ تمغے سے نوازا۔ جارج بلیک نے ایک بار دعویٰ کیا تھا کہ روسی جاسوسوں کو دنیا کو ایٹمی دھماکوں سے ہونے والی تباہی سے بچانے کا اہم اور پیچیدہ کام سونپا گیا ہے، یہ اچھائی اور برائی کے درمیان حقیقی جنگ ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us