Shadow
سرخیاں
مغربی طرز کی ترقی اور لبرل نظریے نے دنیا کو افراتفری، جنگوں اور بےامنی کے سوا کچھ نہیں دیا، رواں سال دنیا سے اس نظریے کا خاتمہ ہو جائے گا: ہنگری وزیراعظمامریکی جامعات میں صیہونی مظالم کے خلاف مظاہروں میں تیزی، سینکڑوں طلبہ، طالبات و پروفیسران جیل میں بندپولینڈ: یوکرینی گندم کی درآمد پر کسانوں کا احتجاج، سرحد بند کر دیخود کشی کے لیے آن لائن سہولت، بین الاقوامی نیٹ ورک ملوث، صرف برطانیہ میں 130 افراد کی موت، چشم کشا انکشافاتپوپ فرانسس کی یک صنف سماج کے نظریہ پر سخت تنقید، دور جدید کا بدترین نظریہ قرار دے دیاصدر ایردوعان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں رنگ برنگے بینروں پر اعتراض، ہم جنس پرستی سے مشابہہ قرار دے دیا، معاملہ سیکرٹری جنرل کے سامنے اٹھانے کا عندیامغرب روس کو شکست دینے کے خبط میں مبتلا ہے، یہ ان کے خود کے لیے بھی خطرناک ہے: جنرل اسمبلی اجلاس میں سرگئی لاوروو کا خطاباروناچل پردیش: 3 کھلاڑی چین اور ہندوستان کے مابین متنازعہ علاقے کی سیاست کا نشانہ بن گئے، ایشیائی کھیلوں کے مقابلے میں شامل نہ ہو سکےایشیا میں امن و استحکام کے لیے چین کا ایک اور بڑا قدم: شام کے ساتھ تذویراتی تعلقات کا اعلانامریکی تاریخ کی سب سے بڑی خفیہ و حساس دستاویزات کی چوری: انوکھے طریقے پر ادارے سر پکڑ کر بیٹھ گئے

کمیونسٹ نظریات سے متاثر ہو کر سوویت یونین کے لیے کام کرنے والے برطانوی جاسوس جارج بلیک کا ماسکو میں انتقال

معروف برطانوی جاسوس جارج بلیک ماسکو میں 98 سال کی عمر میں وفات پا گئے ہیں، جارج بلیک کی شہرت کی وجہ انکی شراکیت کے نظام کے ساتھ وابستگی کی وجہ سے سوویت یونین کے لیے دوہرے جاسوس کے طور پر کام کرنے کی وجہ سے تھی۔ زندگی کے آخر تک اپنے کام اور وابستگی پر بلا پچھتاوے فخر کرنے والے برطانوی کمیونسٹ کو روس میں کرنل کے اعزازی عہدے سے نوازا گیا تھا۔

آج صبح روسی ذرائع ابلاغ نے حساس ادارے کا حوالہ دیتے ہوئے جارج بلیک کی موت کی اطلاع میں کہا کہ ہمارے پاس ایک انتہائی بری خبر ہے، عظیم جارج بلیک وفات پا گئے ہیں۔

جارج بلیک برطانوی خفیہ ادارے ایم آئی 6 کا اہلکار تھا، جو کوریا میں قید کے دوران کمیونسٹ نظریات سے شدید متاثر ہوا اور اس وابستگی میں سوویت یونین کا حامی ہو گیا۔ جارج نے سوویت یونین کی خفیہ ایجنسی کو اپنے ملک اور امریکہ کے ایک بڑے منصوبے کی اطلاع دی جس کے باعث مغربی اتحاد کو شدید دھچکا پہنچا۔ جارج بلیک نے بتایا کہ امریکہ اور برطانیہ مل کر جرمنی کے دارلحکومت برلن کے سوویت حصے میں ایک زیر زمین سرنگ کے ذریعے تاروں سے ہونے والی ابلاغیات تک رسائی حاصل کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں، جس کا مطلب تھا کہ سوویت عسکری قیادت کی حساس معلومات تک رسائی کو حاصل کرنا۔ سوویت یونین کو اس سرنگ کا سراغ لگانے میں دو سال لگے، اس دوران سوویت یونین نے مغربی جاسوسوں کو بھی گمراہ رکھا، اور اس راز کا جارج بلیک کے ذریعے افشاں ہونے کا علم بھی برطانوی خفیہ ایجنسی کو دس سال بعد لگا، جب برطانیہ کو جارج کے دوہرے جاسوس ہونے کا علم ہوا۔،

جارج بلیک کو ایم آئی 6 نے 1961 میں خفیہ معلومات سوویت یونین کے جاسوس ادارے کے جی بی کو فراہم کرتے پکڑ لیا تھا، اور اسے 42 سال جیل کی سزا سنائی گئی تھی۔ لیکن یہ جیل بھی جارج بلیک کو زیادہ عرصہ قید نہ رکھ سکی اور وہ 1966 میں لندن جیل سے فرار ہو کر مشرقی جرمنی پہنچ گیا۔

روسی نشریاتی اداروں کے مطابق جارج بلیک بڑھتی عمر کے باوجود سوویت یونین کے لیے متحرک طور پر کام کرتا رہا، اور روسی خفیہ حلقے کا ایک بڑا نام تھا۔ جارج کو روس نے 2007 میں دوستی کے اعلیٰ تمغے سے نوازا۔ جارج بلیک نے ایک بار دعویٰ کیا تھا کہ روسی جاسوسوں کو دنیا کو ایٹمی دھماکوں سے ہونے والی تباہی سے بچانے کا اہم اور پیچیدہ کام سونپا گیا ہے، یہ اچھائی اور برائی کے درمیان حقیقی جنگ ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

twenty − one =

Contact Us